یہ کون بول رہا تھا خدا کے لہجے میں

31-07-2017
سورہ النساءمیں ارشاد ربانی ہے کہ بیشک خدا تکبر کرنے والے بڑائی مارنے والے کو دوست نہیں رکھتا۔تاریخ انسانی گواہ ہے کہ جب بھی کسی ذی روح نے تکبر اور رعونت کو اپنایا قادر مطلق نے اسے نشان عبرت بنا دیا۔ اس کی ابتداءابلیس سے ہوئی جس نے آدم ؑ کو سجدہ کرنے کا انکار کیا اور اس کی ”میں“ کی خودسری اسے لے ڈوبی۔ نمرود غرور و تکبر کا سراپا تھا رب العزت نے اسے ایک مچھر کے ہاتھوں ذلیل رسوا کر دیا۔ فرعون کے تاریخی کردارسے کون ذی شعور واقف حال نہیں ۔وہ ایک ذہن ، فطین اور باصلاحیت حکمران تھا لیکن رعونت اور تکبر کے بادشاہ کی لاش تک نہ مل سکی۔ شدادکے عبرت ناک انجام سے کون لا علم ہے۔ الغرض اللہ نے وقت کے ساتھ ہر دور میں انسان کے لئے سبق آموز مثالیں قائم کی دنیا پر لیکن افسوس لوگ اس سے سبق نہیں سیکھتے۔
وقت بدل گیا لیکن اقتدار کی کرسی پر بیٹھنے والے فرعون، نمرود ، شداد اور ابلیس کی پیروی کرتے رہے ۔ تاریخ یونہی خود کو دہراتی چلی آئی ہے۔ دنیا بدل گئے، ترقی کے منازل طے کرتے کرتے لوگوں کا رہن سہن،انداز و اطوار،سوچ تو بدل گئی لیکن تکبر و غرور کی عادت نہ بدلی،،طاقت کے نشے میں رعونت اور تکبر بھرے خود سے منصوب دعوے نہ بدلے جو صرف اور صرف خداوند تعالی کی ذات کو ہی زیب دیتے ہیں۔
وقت نے وہ منظر بھی دیکھا جب جناب ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں جب ایوب خان کے خلاف تحریک شورہ ہوئی تووہ تکبر جس نے شاہوں ہو گدا بنا دیا ایوب خان کے لہجے میں بھی نظر آیا۔ انہوں نے ایک خطاب میں کہا کہ ”یہ کل کے چھوکرے میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ایوب خان بوڑھا ہونے کے بعد بھی ایوب خان ہے“ شائد یہی وہ وقت تھا جس نے ایوب خان جیسا باوقار صدر مملکت کے اقتدار کا سورج غروب ہونا طے کر دیا۔ ایوان صدر کی مسند پر یحییٰ خان آ بیٹھے اور ایوب خان نے باقی ماندہ زندگی مختصر سے گھر میں گزاری۔ لیکن وہی رعونت یحییٰ خان کو بھی لے ڈوبی۔ انہوں نے اپنے خلاف تحاریک شروع ہونے پر کہا کہ ”انہیں نہیں معلوم انکا مقابلہ یحییٰ خان کے ساتھ ہے جس کا دنیا میں کوئی ثانی نہیں “۔ قدرت کا جلال یوں ظاہر ہوا کہ یحییٰ خان نے اپنے باقی ماندہ زندگی کے ایام روالپنڈی کے ایک گھر میں وہیل چیئر پر پورے کئے۔ کرسی اقتدار کے مسندذوالفقار بھٹو کی ذات کو لوگوں نے دیکھا۔ جنہوں نے آہستہ آہستہ وہی غلطی کی جو ماضی کے حکمران اقتدار کے نشے میں مست ہو کرتے آئے ہیں۔ اپنی تقریر میں انہوں نے کرسی پر زور سے ہاتھ مارتے ہوئے کہا کہ ”میری کرسی بہت مضبوط ہے کوئی نہیں ہلا سکتا“ یہ بول بارگاہ ایزدی کو اس طرح گراں گزرے کہ ذوالفقار علی بھٹو جیسے عوامی اور ہر دلعزیز لیڈر کی کرسی لرز گئی اور وہ تختہ دار پر جا پہنچے۔ سابق صدر جناب پرویز مشرف جو اپنی ذہانت، شجاعت اور دلیری کی گلیوں سے ہوتے ہوئے ”میں“ کی بستی کے مقیم بنے ۔ مجھے ان کے مکے لہراتے ہوئے تقریر کے وہ الفاظ میں بھی یاد ہیں کہ ”میں ایوب ہوں نہ جنرل ضیاء،میں ،میں ہوں“ ان کی یہ مے ہی ان کو لے ڈوبی۔ اور زوال کا شائبہ بھی دل میں نہ رکھنے والے پرویز مشرف آج جلاوطنی کی زندگی کاٹ رہے ہیں۔
وقت نے وہ منظر بھی دکھلایا کہ میں نے وہی رعونت اور تکبر میاں نواز شریف کوٹ کوٹ کر بھرا پایا۔ تاریخ انسانی نے اقتدار اور طاقت کے نشے میں مست شریفوں کی سلطنت میں ماڈل ٹاﺅن کی سڑکوں پر نہتے مردو زن تڑپتی سسکتی نعشوں کو پڑے دیکھا۔سفید داڑھی اور بزرگی کی چادر اوڑھے ضعیفوں کو رعونت سے گھسیٹتے اور بے آبروہ کرتے دیکھا۔ منہ میں گولیاں اور جسم پر طاقت کے نشے میں برسے وہ انگت لاٹھیوں کے ثبت نشان اسی رعونت کے ترجمان تھے جو فرعون اپنی قوم پر دبدبہ قائم رکھنے کے لیے کیا کرتا تھا۔ ان کا تکبر وزیر داخلہ چوہدری نثار کی اس تقریر سے بھی بھر پور جھلک رہا جنہوںنے پانامہ فیصلہ سے ایک دن پہلے اقرار کیا کہ” میں وہ واحد شخص ہوںجو آپ کو بتایا کرتا ہوں کہ میاں صاحب آپ انسان ہیں“۔ شائد نواز شریف یہ بھول گئے تھے کہ اختیار اور اقتدار صرف اور صرف اللہ کی دین ہے۔جن کا دعویٰ سر چڑھ کر روز بولتا رہا ہے کہ کوئی طاقت اتنے بھاری عوامی مینڈیڈیٹ رکھنے والے سے استعفیٰ نہیں لے سکتی ، نہ کبھی عمران وزیر اعظم بن سکتا ہے۔ نواز شریف نے اقتدار کا ناجائز فائدے اٹھاتے ہوئے جو ارب ہاروپے کا مال و متا ع جمع کیا وہ ان کا تکبر کی ایک بڑی وجہ ہے۔ وہ ہر شخص کی قیمت لگا کر اسے خریدلینے کا مٹا دینے کے عادی ہیں۔ یہی تکبر و غرور نہ صرف ان کے مشیروں ، وزراءاور حواریوں بلکہ ان کی جانشین و دختر مریم نواز کا خاصہ ہے۔ جنہوں نے جے آئی ٹی میںپیشی کی موقع پر ایک خاتون افسر کو قلم پھینک کر ذلیل کیا، پھر ہاتھ لہرا لہرا کراس دعویٰ کیا کہ کوئی نہیں روک سکتا نواز شریف کو ”روک سکتے ہو تو روک لو“۔یہ وہی مریم نواز ہیں جو نااہلی کے بعد میں وزیراعظم ہاﺅس نہ چھوڑیں پر مصر رہیں۔ لیکن شائد وہ بھی گئیں کہ صرف ایک ہی ذات ہے جو ناقابل تسخیر ، منبع طاقت ہے ، لازوال ہے اورصرف اور صرف رب العزت کی ذات ہے۔ اور یہ تکبر شریف فیملی کے زوال کا سبب ٹھہرا ہے۔ ان تحت چلنے والے ایسے اداروں جنہیں وہ اپنا غلام تصور کرتے تھے، کے پانچ افراد سے اللہ رب العزت ے ان کا غرو ر و تکبر خاک میں ملا دیا ۔ اور رسوائی اور الزامات ، تہمتوں کے بھاری بھرکم بوجھ اٹھائے شریف فیملی وزیراعظم ہاﺅس سے نکلی ہے۔ لیکن میاں صاحب اب بھی سبق سیکھنے کو تیار نہ ہیں۔ شہباز شریف کی از خود نامزدگی اور اجلاس کی صدارت میں نواز شریف کا پُرغرور حکمانہ مزاج آج بھی عود کر جھلک رہا ہے۔
صدیاں بیت گئیں، غرور و تکبر کے بے تاج بادشاہوں فرعون ،نمرود ،یزید و شداد کو اپنے عبرتناک انجام کو پہنچے لیکن افسوس اقتدار مسند پر برجمان ہونے والے تاریخ پڑھ تو لیتے ہیں مگر عبرت حاصل نہیں کرتے ،کرتے ہیں تو صرف اتنی کے اپنی اولاد کا نام فرعون نمرود شداد و یزید نہیں رکھتے مگر میراث میں اپنی اولاد کو وہی اعمال و اطوار دیتے ہیں جن کی بدولت وہ ملعون ہوئے تھے ،لیکن
یہ اقتدار کے نشے میں چور میں وہی اعمال و اطواررکھنے والے کیسے سوچ لیتے ہیں کہ ہم اس انجام سے بچ جائیں گے کیونکہ یاد رکھئے قدرت کا قانون نہیں بدلتا۔وہ کبھی کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں کرتا، وہ ہر کسی کو اس کے کئے کی سزا ضرور دیتی ہے۔
یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیا
یہ کون بول رہا تھا خدا کے لہجے میں

Scroll To Top