نااہلی کے بعد

zaheer-babar-logoبالا آخر ان سیاسی وقانونی حلقون کے خدشات درست ثابت ہوئے جو پانامہ لیکس میں میاں نوازشریف کی نااہلی کی پیشنگوئی کرتے رہے۔ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے متفقہ فیصلہ میں وزیراعظم پاکستان کو نااہل قرار دیتے ہوئے میاںنوازشریف ان کے خاندان کے خلاف نیب میں ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت عظمی نے آئین پاکستان کے آرٹیکل 184کے تحت دائر درخواستوںپر فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن کو ہدایات جاری کیں کہ میاں نوازشریف نے 2013کے عام انتخابات کے موقعہ پر ایف زیڈ اے نامی کمپنی میں اپنے اثاثہ ظاہر نہ کرنے پر صادق وآمین نہیں رہے لہذا انھیں فوری طور پر بطور ممبر پارلمینٹ ختم کرنے کا نوٹفیکشن جاری کیا جائے۔“
کم وبیش سوا سال پہلے پانامہ لیکس کا معاملہ قومی سیاست میں یوں نمودار ہوا کہ پھر عمل قومی سیاست پر چھا گیا۔ توقعات کے عین مطابق حکمران جماعت نے اس کی صداقت پر سوالات اٹھائے جبکہ اپوزیشن نے وزیراعظم نوازشریف اور ان کے خاندان کو اس کی معاملے پر آڈے ہاتھوں لیا۔ سیاسی قوتوں میں پاکستان تحریک انصاف پانامہ لیکس کو لے کر قومی سیاست میں یوں سامنے آئی کہ مقدمہ سپریم کورٹ تک جا پہنچا۔ عدالت عظمی نے فریقین سے تحریری طور پر یقین دہانی کروائی کہ وہ اس ضمن میں ہونے والے عدالتی فیصلہ کوتسلیم کریں گے جس کے بعد اس اہم مقدمہ کی سماعت کا آغاز ہوا۔ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں پانامہ لیکس کی کئی سماعتیں ہوئیں مگر مدت ملازمت ختم ہونے پر چیف جسٹس نے مقدمہ نئے چیف جسٹس کے آنے تک موخر کردیا۔ نئے چیف جٹس ثاقب نثار نے پانامہ لیکس کی سماعت کے لیے پانچ رکنی بینچ تشکیل دیا جس میں سے دو ججوں نے کئی ہفتوں کی سماعت کے بعد وزیراعظم نوازشریف کو نااہل قرار دیا جبکہ دو تین فاضل ججوں کی جانب سے اس معاملہ کی مذید تحقیقات کرنے کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دینے کا حکم دیا ۔
سپریم کورٹ کی جانب سے جے آئی ٹی کو دوماہ میں اپنا کام مکمل کرنے کی ہدایت جاری کیں گئیں جس پر مشترکہ تحقیقاتی ادارے نے اپنا کام مکمل کردکھایا۔ افسوس کہ جے آئی ٹی رپورٹ بارے حکمران جماعت نے جو طرزعمل روا رکھا وہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ، عدالت عظمی کے حکم پر بنے والے اس تحقیقاتی کمیٹی کو کن کن القابات سے نوازا جاتا رہا یہ بتانے کی ضرورت نہیں ۔
میاں نوازشریف کو عدالت عظمی کی جانب سے عمر بھر کے لیے نااہل قرار دینا پی ایم ایل این کے لیے بڑا دھچکا ہے ۔ مسلم لیگ ن کی جانب سے عدالت عظمی کے اس فیصلہ کو تسلیم تو کررہی مگر دبے یا کھلے الفاظ میں اس پر اعتراضات اٹھائے جانے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ آثار یہی ہیں کہ آنے والے دنوں میں پی ایم ایل این سیاسی حکمت عملی کے تحت خود کو مظلوم و بیگناہ ثابت کرنے کی بھرکوشش کریگی۔ حکمران جماعت اہم اراکین پارلمینٹ کی جانب سے پنجاب ہاوس میں ہونے والی پریس کانفرنس بتارہی کہ کہ بدستور یہ تاثر دینے کی کوشش کررہی کہ نااہلی کی شکل میں میاں نوازشریف اندرونی وبیرونی قوتوں کا نشانہ بنے ہیں۔ میڈیا کے سامنے خواجہ سعد رفیق، احسن اقبال، انوشہ رحمان ، بیرسٹر ظفر اللہ اور شاہد خاقان عباسی بار بار یہی کہتے رہے کہ ان کے قائد میاں نوازشریف کے خلاف سازش کی گی ۔
اس میں شک نہیں کہ پاکستان مسلم لیگ ن ملک کی نمایاں سیاسی قوت ہے۔ یہ سوچنا درست نہیں کہ محض نوازشریف کے نااہل ہونے کی صورت میں اس جماعت کو وجود ہی ختم ہوجائے۔ ملک کا کوئی بھی باشعور شہری نہیں چاہتا کہ جمہوریت کے روشن اور محفوظ مسقبل کے لیے پی ایم ایل این بطور سیاسی قوت فعال نہ رہے۔ جو مطالبہ کیا جارہا وہ یہ کہ مملکت خدادادپاکستان میں آئین اور قانون کی بالادستی یقینی بنانے کے لیے طاقتور طبقات کو قانون کے سامنے جواب دہ کیا جائے۔ اس نقطہ کو سمجھ لینا چاہے کہ کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی شکل میں آئین اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنائے بغیر بات نہیں بنے والی۔
جمہوریت میں جوابدہی مثالی سمجھی جاتی ہے۔ یہ نظام دنیا بھر میں جہاں جہاں نافذ ہے وہاں اہل اقتدار پر چیک اینڈ بیلنس کا نظام اس طرح رکھا جاتاہے کہ کوئی بھی بااثر شخص بچ کر نہ جائے مگر وطن عزیز میں تاحال ایسی روشن مثالیںموجود نہیں۔ہماری سیاسی اشرافیہ یہی سمجھتی ہے کہ جوابدہی کا مطالبہ دراصل ان کے خلاف سازش ہے۔ سپریم کورٹ میں پانامہ لیکس کا فیصلہ سامنے آنے پر پی ایم ایل این کی جانب سے یہ دلچسیپ موقف بھی اختیار کیا گیا کہ اگر صادق وآمین کا معیار اتنیا ہی سخت رہا تو شائد پاکستان میں کوئی بھی بچ نہیں پائے گا۔ افسوس کہ اہل اقتدار جن کی بنیادی زمہ داری ہے کہ معاشرے میں کرپشن کے خاتمہ کے لیے اپنا کردار ادا کریں وہی مصلحتوں کا شکار نظر آتے ہیں یعنی بدعنوانی کو پوری قوت سے ختم کرنے کی بجائے اس کے موجود رہنے کا جواز تلاش کیا جارہا ہے۔
میاں نوازشریف کو نااہل قرار دینے کے باوجود یہ امر باعث اطمنیان ہے کہ چند ایک شہروں میں مسلم لیگ ن کے کارکنوں کے احتجاج کے باوجود مجموعی طور پر کہیں بھی امن وامان کی صورت حال خراب نہیں ہوئی۔ اسے یقینا سپریم کورٹ کے فیصلہ کی حمایت کہا جانا چاہے کہ اہل پاکستان کی اکثریت نے اس تاریخی فیصلہ کو خوش آئند قرار دیا ۔ چینی کہاوت ہے کہ مچھلی سر سے گلنا شرو ع ہوتی ہے۔ وطن عزیز میں بھی طاقتور حضرات چاہے ان کا تعلق کسی بھی جماعت سے ہو جب بھی قانون کی گرفت میں آئیں گے تو آئین اور قانون کی بالادستی کا خواب شرمندہ تعبیر ہونے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔

Scroll To Top