نجم سیٹھی کا شکوہ اور اس کا جواب 12-11-2011

kal-ki-baatچند ہفتے قبل تک جناب نجم سیٹھی کہہ رہے تھے کہ دو ڈھائی ہزار کا مجمع اکٹھا کرنے سے عمران خان کسی انقلاب کے مسیحا ` پیامبر یا ناخدا نہیں بن جائیں گے۔ پھر انہوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ عمران خان کو پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ آگے بڑھا رہی ہے کیوں کہ اسے اپنے مقاصد کے لئے ایسی سیاسی قیادت کی ضرورت ہے جو عوام میں مقبول ہو۔
اب وہ اس حقیقت سے انکار کرنے کی پوزیشن میں تو نہیں رہے کہ عمران خان نے نوجوان نسل کے دل جیتنے کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کی توجہ بھی حاصل کرلی ہے جو پارلیمنٹ میںموجود تمام سیاسی جماعتوں کی کارکردگی اور مورالٹی سے بری طرح مایوس ہوچکے ہیں ` مگر” اعترافی “ اور ” تعریفی “ کلمات میں وہ شکوک و شہبات ابھارنے والے سوالات بھی شامل کرتے چلے جارہے ہیں۔
مثلاً انہوں نے کہا ہے کہ عمران خان سیاستدانوںسے تو یہ مطالبہ کررہے ہیں کہ وہ اپنے چھپے ہوئے اثاثے ظاہر کریں مگر انہوں نے جرنیلوں اور ججوں وغیرہ سے ایسا کوئی مطالبہ کیوں نہیں کیا۔؟
اس سوال کا سیدھا سا جواب یہ ہے کہ جرنیل اور جج پارلیمنٹ کا انتخاب نہیں لڑیں گے۔ وہ اگلی حکومت بنانے کے امیدوار نہیں۔ عمران خان پہلے مرحلے میں صرف ان لوگوں سے مخاطب ہیں جو خدمتِ خلق کے لمبے چوڑے دعوے کرکے عوام کے ووٹ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ دوسرا مرحلہ تب شروع ہوگا جب عمران خان کے پاس حکومت کرنے کا اختیار آئے گا۔تب اگر عمران خان نے بلا تفریق وامتیاز ایسے تمام اثاثوں کی چھان بین نہ کی جو ظاہر نہیں کئے گئے تو وہ نجم سیٹھی صاحب کی تنقید کے مستحق قرار پائیں گے۔ یاد رکھنے کی بات یہاں یہ ہے کہ تب بات صرف جرنیلوں اور ججوں یا پھر بیورو کریٹس تک محدود نہیں رہے گی ` صحافت ` و کالت اور ڈاکٹری جیسے ” باعزت“ اور ” باوقار “ پیشے بھی چھان بین کی زد میں آئیںگے۔۔۔

Scroll To Top