اب ہم واپس پلٹ کر نہیں دیکھیں گے 05-11-2011

kal-ki-baat
3نومبرکی رات کو جب عمران خان چین کے مختصر دورے کے بعد واپس اسلام آباد پہنچے توکافی تھکے ہوئے نظر آرہے تھے مگر ان کی آنکھوں کی چمک بتا رہی تھی کہ وہ اپنی منزل پانے کے لئے لمبے سے لمبا سفر طے کرنے کے لئے تیار ہیں۔ یہاں میں اس بات کا ذکر ضرور کروں گا کہ وزارت عظمیٰ عمران خان کی منزل ہرگز نہیں ۔ اگر اس منزل تک پہنچنا عمران خان کا ہدف ہوتا تو وہ جنرل پرویز مشرف کے ساتھ 2002ءمیں ہی سمجھوتہ کرلیتے۔ و ہ ان لوگوںمیں ہیں جو تاریخ میں اپنا نام لکھوانے کے لئے پیدا ہوتے ہیں۔ اور وہ یہ جانتے ہیں کہ تاریخ میں نام ان ہی لوگوں کا لکھا جاتا ہے جو خود تاریخ رقم کیا کرتے ہیں اور جن کی جدوجہد تاریخ کا رخ تبدیل کیاکرتی ہے۔
3نومبر کی رات کو ایئرپورٹ سے گھر تک کے سفر کے دوران جو گفتگو ہوئی اس کا سب سے اہم حصہ چین کے متعلق تھا۔
” چین نے جس نظام کے تحت تاریخ ساز کامیابیاں حاصل کی ہیں اس سے ہم ضرور استفادہ کریں گے“ انہوں نے بتایا۔ ” میں سمجھتا ہوں کہ چین کا نظام اس اسلامی فلاحی مملکت کے سب سے زیادہ قریب ہے جس کا خواب ہم دیکھتے ہیں۔“
ہم نے ان کے ساتھ اتفاق کیا ۔ میرے ہمراہ تحریک انصاف کے مرکزی رہنما سیف اللہ خان نیازی اور عامر کیانی بھی تھے۔
” مجھے ہمیشہ اس بات کا یقین رہا ہے غلام اکبر صاحب کہ بالآخر ہماری تمام ناکامیاں ہمیں ایک ایسے موڑ پر لے جائیں گی جہاں ہماری جدوجہد کا ثمر ایک ناقابل یقین کامیابی کی صورت میں ہمارا انتظار کررہا ہوگا۔ وہ موڑ آچکا ہے۔ اب ہم واپس پلٹ کر نہیں دیکھیں گے۔ انشاءاللہ قدرت ہر قدم پر ہماری رہنمائی کرے گی۔“
” آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں خان صاحب۔“ میں نے جواب دیا۔ ” ہمارا کام یہ ضرور ہوگا کہ جب قدرت ہماری رہنمائی کرے تو ہم وہ راستہ اختیار نہ کریں جس سے قدرت ہمیں منع کررہی ہو۔“

Scroll To Top