اب آپ اپنی عرضداشتیں اگلے جہاں کے لئے محفوظ رکھیں وزیراعظم صاحب۔۔۔۔۔۔ اللہ معاف کرنے والا ہے

aaj-ki-baat-new-21-aprilگذشتہ شب جب وزیراعظم میاں نواز شریف نیند سے اچانک جاگے تو انہیں یاد آیا کہ ایک دستاویز تیار ہونے سے رہ گئی ہے جس کا سپریم کورٹ کو پیش کرنا کسی معجزے کا باعث بن سکتا ہے۔ چنانچہ ان کے وکیل خواجہ حارث نے اتوار کے روز یہ دستاویز جو ایک بیان کی صورت میں ہے سپریم کورٹ میں جمع کرائی ہے۔ اس بیان میں میاں صاحب نے اقرار کیا ہے کہ انہوں نے اقامہ لیا تھا لیکن اقامہ دوبئی کا نہیں یو اے ای کا لیا تھا۔ انکار انہوں نے اس بات سے کیا ہے کہ انہوں نے یہ بات چھپائی۔ ان کے پاسپورٹ میں اقامہ موجود تھا اور چونکہ گوشواروں میں اس کا کوئی الگ خانہ نہیں اِ س لئے اس کا ذکر نہیں ہوا۔
یہاں دو مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ انہوں نے اقامہ کس مقصد کے لئے لیا۔ ظاہر ہے کہ انہیں دس ہزار درہم کمانے سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ مقصد کوئی بڑا ہی ہوگا۔ اِس ضمن میں وزیراعظم کو سوچنا چاہئے کہ کیا”پاکستان جیسے ملک کا چیف ایگزیکٹو ایک چھوٹے سے ملک میں مارکیٹنگ منیجر کی ملازمت کے لئے کاغذات بھر کر ریکارڈ کا حصہ بن سکتا ہے۔؟“
دوسری بات یہ ہے کہ وزیراعظم کو رہ رہ کر باتیں کیوں یاد آرہی ہیں۔ یہ سب کچھ انہوں نے جے آئی ٹی کو کیوں نہیں بتایا۔؟کیا جے آئی ٹی صرف اس مقصد کے لئے قائم کی گئی تھی کہ پوری حکومت اس کے اراکین پر شب وروز گولہ باری کرتی رہے۔؟
وزیر اعظم صاحب۔۔۔ سچ یہ ہے کہ آپ نے پہلے ہی سچ بول دیا ہوتا تو اتنے سارے جھوٹوں کو سچ ثابت کرنے کے لئے اتنی ساری دستاویزات کیوں بنانی پڑتیں۔؟ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ جو جج صاحبان ہیں یہ بڑے بھولے بھالے ہیں، ان کی آنکھوں میں دھول جھونکنا آپ کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے؟
اب آپ نے جو عرضداشتیں اور دستاویزات پیش کرنی ہیں جا کر اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کیجئے گا۔ وہ بڑے بڑے گناہ گاروں کو معاف کر دیا کرتا ہے۔۔۔

Scroll To Top