بدعنوانی، ہم اور احساس زیاں

ahmed-salman-anwer-izhar-khiyal
تاریخ شاہد ہے کہ قوموں پر جب زوال آتا ہے تو تاریخ دانوں کی نظر میں اس کی وجوہات میں نااہل اور کرپٹ لیڈر شپ شامل ہوتی ہے۔ کرپشن یعنی رشوت لینا، اپنے اختیارات کا نا جائز فائدہ اٹھاکر اپنے مالی وسائل اور اثاثوں میں اضافہ کرنا۔ اسلئے بانی پاکستانی قائد اعظم نے فرمایا تھا کہ اگرملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے تو کرپشن کا خاتمہ کرنا ہوگا۔لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان میں کرپشن کا ناسور اپنے پنجے گاڑھے ہوئے ہے کوئی ادارہ ایسا نہیں ہے جہاں کرپشن کے چرچے نہ ہوں۔ ادارے تباہ اور مقتدر طبقات کے غلام ہو چکے ہیں۔ پاکستان میں تھوڑی سی احتساب کی ہوا چلتی ہے تو کرپٹ طبقات ملک سے راہ فرار اختیار کر لیتے ہیں یا اس احتساب کو سازش یا انتقام کا رنگ دے کر اتنا شور و غل مچا دیا جاتا ہے کہ وہ انصاف کی وہ مبہم سی آواز بھی اس شور میں دب کر اپنی موت آپ مر جاتی ہے۔
اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہماری قوم میں احساس زیاں جاتا رہا ہے۔ کرپٹ حکمرانوں نے اپنے کرپشن کو تحفظ اور دوام بخشنے کے لیے کرپشن کو زہر کی طرح اس قوم کی رگوں میں اتارا ہے۔آج ہمارے معاشرے میں ایسے افراد کی کمی نہیں جو کسی نہ کسی حلیے بہانے یا من گھڑت مفروضہ سے کرپشن کا دفعہ کرتے نظر آئیں گے۔ اس کی وجہ دراصل ان کے اس کرپٹ سسٹم اور کرپٹ ٹولے سے جڑے ذاتی مفادات ہیں۔ ایسے حمایتی کرپشن کے دفاع کو درحقیقت اپنا اور اپنے آقاو¿ں کا دفاع گردانتے ہیں۔ ایسے طبقہ کے ہر شخص کا نصب العین مال کمانا اور اس سے دنیا حاصل بن چکاہے۔
آج پاکستان کا کوئی ادارہ ایسا نہیں جہاں ہر روز کرپشن کی ایک نئی داستان رقم نہیں ہوتی۔ لیکن ہماری قوم اس زہر کی عادی ہو چکی ہے۔ ہمارے معاشرے میں تو تھانے میں ایف آئی آر سفارش اور رشوت کے بغیر درج کراناممکن نہیں ہے۔ بجلی کا میٹر لگانا تو بڑی دور کی بات ہے گٹر صاف کرانے کے لئے بھی نذرانہ ضروری ہے۔
دنیا بھر میں جہاں اقوام عالم کرپشن کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بنتی نظر آتی ہیں،بڑے بڑے ممالک میں طاقتور اور حاکم افراد کو کرپشن کی پاداش میں سخت سزائیں دی جارہی ہیں وہیں پاکستان میں معاشرہ ابھی اپنی ارتقائی منزل کی شائد پہلی سیڑھی بھی نہ چڑھ پایا ہے۔کیونکہ ہم کرپشن، ظلم و جبر اور جھوٹ و فریب کے عادی ہو چکے ہیں۔ اسے ایک معمول کی کارروائی سمجھ کر چشم پوشی اور مصلحت کوشی سے کام لے رہے ہیں،کرپشن چارجز کی وجہ سے دنیا بھر میں ذلت و رسوائی ہمارا مقدر بن چکی ہے۔پاکستان مزید کرپشن کامتحمل نہیں ہوسکتا۔ اس ملک کوایماندار قیادت کی ضرورت ہے۔
موجوہ اور ماضی کے حکمرانوں کی اربو ں کی کرپشن اب قوم کی سامنے عیاں ہے۔ یہ بد بخت حکمران غریب عوام کا حق مار کر کڑوروں ڈالرز بیرون ملک میں موجود اکاوئنٹس میں منتقل کر چکے ہیں۔یہ حکمران اس ملک میں کرپشن کر کے بیرون ملک اپنی جائیدادخریدتے ہیں اور اسی کرپشن سے حاصل ہونے والی رقم سے بیرون ملک عیاشی کرتے ہیں۔آج پاکستان کونظریہ پاکستان پر گامزن کرنے کے لیے اس کرپٹ اور مکار مقتدر طبقے کے کڑے احتساب کی ضرورت ہے۔
اس وقت پانامہ کیس کی شکل میں پاکستان کے کرپشن کے اس ناسور کے خلاف علم بلند کرنے کا ایک نادر اور سنہری موقعہ ہے۔ تاکہ ا?ئندہ آنے والی نسلوں کو اسلامی اقتدار اور قومی امنگوں سے مزین پاکستان دیا جاسکے۔ ان کرپٹ حکمرانوں کا چاہےوہ کسی بھی جماعت اور علاقے سے تعلق رکھتے ہوں بچ نکلنے کا نتیجہ بڑا بھیانک اور خطرنا ک ہو گا۔ پوری قوم اس بات کی منتظر ہے کہ ان تمام کرپٹ لوگوں کا کڑا، بے لاگ احتساب ہونا چاہیے۔ ان سے لوٹی ہوئی ملکی دولت کی ایک ایک پائی وصول کی جائے۔ سخت سے سخت سزا دے کر نشان عبرت بنائے جائے۔اسلامی و قومی اقتدارکے آئینہ دار آرٹیکل 62-63 کو صحیح معنو ں میں نافذ العمل کیا جائے۔ اس کے لیے اداروں کو اخلاص، غیر جانبداری اور جرا¿ت کے ساتھ صحیح معنوں میں کردار نبھانا ہو گا اور قوم کو ایسے قوموں اداروں کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑا ہونا ہو گا جوان ملک دشمن عناصر اور کرپٹ مافیا کو نشان عبرت بنا دیں۔یہ تبھی ممکن ہو سکے گا۔ کیونکہ علامہ اقبال (رحمتہ اللہ علیہ) نے بڑے خوبصورت انداز میں اپنی قوم کو خدا کا پیغام پہنچایا ہے:
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو آپ خیال جسے اپنی حالت کے بدلنے کا

Scroll To Top