بات رنگ بدلنے کی 29-10-2011

kal-ki-baatمیں نے گرگٹ نہیں دیکھا۔ مگر سنا ہے کہ وہ اپنا رنگ بدلتا ہے۔ ویسے ہی بدلتا ہے جیسے ہمارے لیڈ ر اپنا رنگ بدلتے ہیں۔ اگر کسی لیڈر نے اپنا رنگ پاکستان میں نہیں بدلا تو جناب رحمان ملک نے نہیں بدلا۔ مگر وہ دوسرے درجے کے لیڈر ہیں۔ دوسرے درجے سے میری مراد ” دو نمبر“ نہیں۔
دوسرے درجے کے لیڈر وہ ہوتے ہیں جو اپنے آقا کی ہاں میں ہاں ملانے کے لئے ہر پل تیار رہتے ہیں۔ پاکستان میں ” دو نمبر“ کے لیڈروں اور دوسرے درجے کے لیڈروں میں بہت زیادہ فرق نہیں۔اس لئے دوسرے درجے کے لیڈروں کے مقدر میں دو نمبر کے لیڈر بننا لکھا ہوتا ہے۔ دو نمبر کا لیڈر بننے کا یہ فائدہ ضرور ہے کہ رنگ بدلنا نہیں پڑتا۔ اگر آپ رنگوں کے بارے میں سوجھ بوجھ رکھتے ہیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ کالے رنگ میں ہر رنگ گم ہوجاتا ہے۔
کالا رنگ ہمیشہ کالا رنگ نظر آتا ہے ۔ اس بات کا مطلب یہ نہ لیا جائے کہ ہر ” دو نمبر “ لیڈر کا رنگ کالا ہوتا ہے۔ یہاں یہ بات بھی یاد رکھی جانی چاہئے کہ صرف دوسرے درجے کے لیڈر ” دو نمبر “ کے نہیں ہوتے ۔ ہمارے ملک میں اول درجے کے لیڈر بھی ” دو نمبر “ کے ہوتے ہیں۔
مگر بات میں نے گرگٹ کے ذکر سے شروع کی تھی۔ اور گرگٹ کا خیال مجھے جناب الطاف حسین کا یہ بیان پڑھ کر آیا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کا اتحاد اور اتفاق قومی سا لمیت اور جمہوریت کے خوشگوار مستقبل کی ضمانت ہے۔ گزشتہ ایک برس کے دوران جناب الطاف حسین نے جتنے رنگ بدلے ہیں انہیں دیکھ کر کون سا گرگٹ ہوگا جو شرمایا نہیں ہوگا؟ کچھ لوگ آئینہ اس لئے نہیں دیکھتے کہ وہ اپناچہرہ خود دیکھنے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔
یہاں میں یہ ضرور کہوں گا کہ رنگ صرف گرگٹ نہیںبدلتا ' آسمان بھی بدلتا ہے۔

Scroll To Top