وزراءکو نواز شریف کی کرپشن چھپانے کی فکر لاحق ہے ، ملک کی نہیں،عمران خان

  • ایسا الیکشن کمیشن تشکیل دیا جائے جس پر سب جماعتوں کو اعتماد ہو، میڈیا سے گفتگو
اسلام آباد ، چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان بنی گالہ میں میڈیا سے گفتگو کر رہے ہیں ، جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی بھی ہمراہ ہیں

اسلام آباد ، چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان بنی گالہ میں میڈیا سے گفتگو کر رہے ہیں ، جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی بھی ہمراہ ہیں

اسلام آباد (آن لائن )چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ نوازشریف نے سیالکوٹ میں بیٹھ کرلائن آف کنٹرول پرکوئی بات نہیں کی۔ن لیگ کوفکرہی نہیں کہ ملک میں کیا ہورہا ہے۔ کابینہ نوازشریف کی کرپشن چھپانے کے علاوہ کچھ نہیں کررہی۔ یہ بات عمران خان بنی گالہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں جو بھی حالات ہیں حکومت کواس کی کوئی فکر نہیں ہے۔ایل او سی پر جانیں جارہی ہیں ان کو کوئی فکر ہی نہیں ہے۔عمران خان نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ نے ان کو پانچ مواقع دیئے صفائی پیش کرنے کے۔شریف خاندان صفائی پیش کرنے میں ناکام رہا۔شریف فیملی نے تسلیم کیا کہ ان کی جائیداد ہے۔جائیداد کی ملکیت تسلیم کرنے کے بعد بار ثبوت شریف خاندان پر تھا۔ہم کہتے تھے مریم نواز اصل مالک ہیں، وہ بھی ثابت ہوگیا، اب تو تصدیق ہوگئی۔ان کو بتانا تھاکہ منی ٹریل کیا ہے اورپیسہ کہا سے آیا اور کہاں گیا۔انہوں نے کہا کہ آج نوازشریف کہہ رہے ہیں کہ میرا قصور کیا ہے۔عمران خان نے کہا کہ نوازشریف آپ کا قصور کیا ہے میں بتاتا ہوں۔جے آئی ٹی کی رپورٹ کے بعد پتا لگا نوازشریف کا بزنس ہی کرپشن کا ہے۔انہوں نے کمپنیاں بنائیں اور فرنٹ مین رکھے ہوئے ہیں۔ایف بی آر نے دستاویز نہیں دیں۔دیکھتے ہیں کہ اب اس میں کیا پیش ہوتا ہے۔ عمران خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ ان لوگوں نے بینکوں سے قرضے لیے ہوئے ہیں، یہ تو الیکشن ہی نہیں لڑ سکتے تھے۔لندن میں تو ان کی دس کمپنیاں نکل آئیں جو سب خسارے میں تھیں۔ عمران خان نے کہا کہ شریف فیملی کا کاروبارہی کرپشن تھا۔بڑے پراجیکٹس کا فائدہ شریف خاندان کو ہوا ہے۔نوازشریف سے پوچھو تو کہتے ہیں میرا قصور ہی کوئی نہیں۔شریف خاندان کرپشن کرنے کے لیے کاروبار کا سہارا لیتے ہیں۔نقصان کے باوجود ان کی جائیدادوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔جو چیزیں سامنے آرہی ہیں اس سے پتا چلتا ہے کہ ان کاکاروبار ہی کرپشن تھا۔ترقی صرف شریف خاندان کے اثاثوں میں ہورہی ہے۔عمران خان نے کہا کہ میں وکلا کی جانب سے وزیراعظم کے استعفے کے لیے ہڑتال پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔وکلا برداری اچھی طرح سمجھتی ہے کہ وزیراعظم کو استعفی دینا چاہیے۔انتخابی اصلاحات کمیٹی سے آج ہمارے نمائندوں نے واک آوٹ کیاہے۔ہر ضمنی انتخاب میں ہارنے والا کہتاہے شفاف الیکشن نہیں ہوا۔ن لیگ کو سندھ الیکشن کمیشن پر اعتماد نہیں۔الیکشن کمیشن کونئے سرے سے تشکیل دیاجائے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ الیکشن 2018 کے لیئے بائیو میٹرک سسٹم لایاجائے ۔آزادانہ الیکشن کے لیئے الیکشن کمیشن کونئے سرے سے تشکیل دیاجائے۔ایسا الیکشن کمیشن ہو جس پر سب جماعتوں کو اعتماد ہو۔نگراں الیکشن کے لیئے ساری سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیاجائے۔ان کا کہنا تھا کہ اوورسیز پاکستانیز کو ووٹ کا حق دیا جائے۔نوازشریف یا خود استعفی دیں گے یا ان کو نکالا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ میرے والد نے 1958میں سرکاری نوکری چھوڑ دی تھی۔

Scroll To Top