پانامہ کیس اور موبائل چور کی کہانی

ahmed-salman-anwer-izhar-khiyalپاکستان میں سب سے بڑے مقدمے پانامہ کیس کی سماعت چل رہی ہے۔یہ کیس پانامہ اسکینڈل میں آشکار ہونے والے شریف فیملی کے بے پناہ اثاثہ جات کے ذرائع کے متعلق ہے کہ وہ جائز ہیں یا ناجائز۔ میاں نوازشریف اپنے تیسرے دور اقتدار سے گزر رہے ہیں۔ شریف خاندان گذشتہ 30سال سے کسی نہ کسی شکل میں مسند اقتدار پر رہا ہے۔ اس کیس میں دو باتیں آج کی بہت اہم ہیں جن میںسے ایک سپریم کورٹ کے معزز جج صاحبان کے ریمارکس اور دوسرا میاں نواز شریف کا قوم سے خطاب ۔ سپریم کورٹ نے معزز ججز دوران سماعت نے کہا کہ شریف فیملی نے آج تک اپنے بے پناہ اثاثوں کی منی ٹریل فراہم نہیں کی ۔ یعنی عام فہم زبان میں نواز شریف فیملی نے آج تک یہ نہیں بتایا کہ اس قدر مال و متاع ان کے پاس کہاں اور کس ذرائع آیا ہے؟ اس کا کوئی دستاویزی ثبوت یا رسید شریف خاندان نے فراہم نہیں کی۔ جبکہ میاں نوازشریف نے گذشتہ روز خطاب میں کہا ہے کہ ہم پر ایک پائی کی کرپشن ثابت نہیں، تو احتساب کیوں ہو رہا ہے۔ یعنی عام فہم میں وہ یہ سوال کر رہے ہیں کہ ہم نے کیسے اور کہاں سے دولت چرائی ثابت کریں۔
اس صورتحال پر مجھے کچھ عرصہ قبل کا ایک دلچسپ واقعہ یاد آگیا۔ میںاپنے عزیز دوست سے ملنے گیا جو کہ ایک قابل پولیس افسر ہیں اور اور قریبی پولیس اسٹیشن کے انوسٹی گیشن ونگ تعینات تھے۔وہاں پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ ایک عادی اور ریکارڈ یافتہ چور کی تفتیش کر رہے تھے ۔ میں بھی ایک طرف ہو کر بیٹھ گیا اور صورتحال کا جائزہ لینے لگا۔ جو منظر نامہ میں نے وہاں دیکھا قارئین کی نظر کرتا ہوں۔ میر ے دوست جو کہ پولیس افسر ہیں انہوں نے اس چور کوایک موبائل چوری کرتے رنگے ہاتھوں پکڑا تھا۔ بعد ازاںدوران تلاشی چور سے متعدد فون برآمد ہوئے۔ جن اس کے پاس کوئی ملکیتی ثبوت یعنی موبائل کا ڈبہ یا گارٹنی کارڈ وغیرہ یا کوئی خریدار ی کی رسید نہ تھی۔ اس صورتحال کے مطابق پولیس چور سے یہ پوچھ گچھ کر رہی تھی کہ وہ بتائے یہ باقی متعدد موبائل بھی اس کے پاس کہاں سے آئے یا اس نے کہاں سے چرائے ہیں۔ جبکہ عادی مجرم جواباً اس بات پربضد تھا کہ بنا ءثبوت وہ موبائل فون تو اس کے ہیں۔تفتیشی افسر کو اگر شک ہے تو وہ بتائے کہ اس نے یہ فون کہاں سے اور کس کے چوری کئے ہیں۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ تفتیشی افسر اب پہلے 20کروڑ عوام سے جا کر اس بابت یہ دریافت کرے کہ برآمد شدہ موبائل کس کی ملکیت تھے۔ یہ معاملہ دیر تک چلتا رہا آخر کار تنگ آکر تفتیشی افسر نے اپنے روائیتی محکمانہ طریقے کا استعمال کیا ۔جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے کہ غالبا ً دو چھتر کھا کر ہی چور نے فر فر بتا دیا تھا کہ اس نے وہ فوبائل فون کہاں کہاں سے اور کس طریقہ سے چرائے تھے۔
ناجانے کیوں پانامہ کیس کی موجودہ صورت حال مجھے اس واقعہ یاد دلاتی ہے۔حالانکہ اس چور کی ہمارے وزیراعظم میاں نواز شریف صاحب سے یقینا کوئی مماثلت یا تعلق نہ ہے۔ شاید یہ وجہ ہے کہ میاں صاحب کا جواب بھی کچھ ایسا ہی ہے کہ بجائے وہ خاندان اپنے ارب ہا روپے کے اثاثہ جات کے ذرائع بتایں ان کا تقاضہ یہ ہے کہ بناءان کے خلاف کسی آزادانہ نیب تحقیقات یا کاروائی کے الزام علیہان بتائیں کہ ان کے تیس سالہ دور اقتدار کے صدہا منصوبوں میں پیسہ کی چوری کہاں کہاں سے ہوئی۔

Scroll To Top