فوج ملکی ادروں کیساتھ مل کر اپنا آئینی کردار ادا کرتی رہیگی، آرمی چیف

جے آئی ٹی سپریم کورٹ نے بنائی تھی جس میں شامل آئی ایس آئی اور ایم آئی کے دو اراکین نے انتہائی محنت اور ایمانداری سے کام کیا، فوج کا جے آئی ٹی سے براہ راست کوئی تعلق نہیں، میجر جنرل آصف غفور

ملکی سلامتی کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھا رہے ہیں، فوج آئین کی عملداری چاہتی ہے، یہ کہنا کہ فوج کسی سازش کا حصہ ہے اس سوال کا جواب دینا بھی نہیں بنتا،افغان سرحد پر باڑ لگانے کا مقصد بارڈر مینجمنٹ کو بہتر اور محفوظ بنانا ہے،پریس بریفنگ

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہراولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کا پریس بریفنگ کے دوران کہنا تھا کہ جے آئی ٹی سپریم کورٹ نے بنائی تھی جس میں شامل آئی ایس آئی اور ایم آئی کے ارکان نے سپریم کورٹ کے ماتحت محنت اور ایمانداری سے کام کیا۔ میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ جے آئی ٹی کے کام میں فوج کی براہ راست مداخلت نہیں ہے تاہم معاملہ عدالت میں ہے اس لئے اس پر کوئی بات نہیں کی جاسکتی۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ ملک کی سلامتی کے لیے ہر ضروری اقدام کر رہے ہیں، پاک فوج آئین کی عملداری چاہتی ہے، یہ کہنا کہ آرمی کسی سازش کا حصہ ہے اس سوال کا جواب دینا بھی نہیں بنتا۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا(باقی صفحہ7 بقیہ نمبر2
کہ پاک فوج نہیں سمجھتی ہے کہ کوئی پاکستانی سوشل میڈیا پر اس کے خلاف مہم چلا رہا ہے، سوشل میڈیا پر ہر شخص کو آزادی اظہار کا حق ہے۔ترجمان پاک فوج نے بتایا کہ خیبرایجنسی کی راجگال اور شوال ویلی میں آج سے آپریشن خیبر 4 شروع کردیا گیا جس کا مقصد افغانستان سے داعش کو پاکستان میں داخلے سے روکنا ہے جب کہ آپریشن جہاں کیا جا رہا ہے وہ علاقہ انتہائی دشوار گزار ہے، اس علاقے میں 500 خاندان آباد ہیں جو حالات کی وجہ سے ہجرت کرچکے ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق راجگال فاٹا کا سب سے مشکل علاقہ ہے جس کی 8 گزر گاہیں ہیں اور شوال کو بھی انشائ اللہ جلد کلیئر کر دیا جائے گا، بحیثیت تنظیم داعش پاکستان میں موجود نہیں تاہم آپریشن خیبر 4 کا مقصد سرحد پار موجود داعش کو پاکستانی علاقوں میں کارروائیوں سے روکنا ہے۔ترجمان پاک فوج کے مطابق آپریشن ضرب عضب 2014 میں شروع کیا گیا جس کے دوران انٹیلی جنس بنیاد پر 9 ہزار سے زائد آپریشنز کئے گئے جب کہ 46 بڑے آپریشن ہوئے جس میں کئی علاقے کلئیر کرائے گئے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ آپریشن ردالفساد کے تحت سندھ میں 522 دہشت گردوں نے ہتھیار ڈالے، کئی دہشت گردوں کو گرفتار کر کے مقدمات چلائے جا رہے ہیں جب کہ بلوچستان میں 13 بڑے آپریشن شروع کیے گئے اور پنجاب میں ردالفساد کے تحت کارروائیوں میں 22 دہشتگرد ہلاک ہوئے۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ داعش افغانستان میں مضبوط ہورہی ہے تاہم افغان سرحد پر باڑ لگانے کا کام شروع کر دیا ہے جہاں باڑ کے ساتھ ساتھ نئی چوکیاں بھی قائم کی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ بارڈر مضبوط ہوگا تو دہشت گردوں کی نقل وحمل ر±کے گی، ہم نے اپنے بارڈر کو مضبوط بنانا ہے، افغان سرحد پر باڑ لگانے کا مقصد بارڈر مینجمنٹ کو بہتر اور محفوظ بنانا ہے تاہم افغانستان کے ساتھ تعاون کے لئے ہمارے دروازے کھلے ہیں۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پارا چنار واقعے میں گرفتار افراد کے داعش سے رابطے کے شواہد ملے ہیں جب کہ گرفتار دہشت گردوں کا مقدمہ فوجی عدالت میں چلے گا، ملٹری کورٹس کام کر رہی ہیں اور اب تک 161 افراد کو پھانسی کی سزا سنائی گئیں جب کہ اس وقت 40 کیسز انڈر ٹرائل ہیں۔ڈی جی ا?ئی ایس پی کا کہنا تھا کہ بھارت جب سیز فائر کی خلاف ورزی کرتا ہے تو عام شہریوں کو نقصان پہنچاتا ہے تاہم ایل او سی پر مو¿ثر جوابی کارروائی میں بھارتی فوج کی چوکیوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو سے متعلق سوال پر ترجمان پاک فوج نے کہا کہ کلبھوشن نے آرمی چیف سے رحم کی اپیل کی ہے جس پر سربراہ پاک فوج جائزہ لے رہے ہیں اور اس کی رحم کی اپیل پر فیصلہ میرٹ پر کیا جائےگا۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ کالعدم ٹی ٹی پی کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کے خلاف ابھی مقدمے کی سماعت شروع نہیں ہوئی، ملکی قانون کے مطابق احسان اللہ احسان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ریمنڈ ڈیوس سے متعلق ڈی جی ا?ئی ایس پی ا?ر نے کہا کہ ریمنڈ ڈیوس سفارتی استثنیٰ کے تحت واپس گیا جب کہ اس کے معاملے میں کئی اداروں نے کردار ادا کیا تھا۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ کراچی میں ا?پریشنز کے نتیجے میں بہتری ا?ئی جہاں دہشت گردی کے واقعات میں 98 فیصد اور ٹارگٹ کلنگ میں 97 فیصد کمی ا?ئی ہے تاہم کراچی کے دوسرے مسائل بھی ہیں جس میں پانی کا مسئلہ بھی ہے۔ڈی جی ا?ئی ایس پی ا?ر کا کہنا تھا کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ پاکستان کی ترقی کا ضامن ہے اور اس کے خلاف سازشیں نا صرف ناکام ہوں گی بلکہ اسے بھرپور سیکیورٹی دیں گے۔اس موقع پر ڈی جی ا?ئی ایس پی ا?ر نے ا?رمی چیف جنرل قمر باجوہ کا پیغام پڑھ کر سنایا جس میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اپنے ملک میں امن قائم کررہے ہیں اور مستقل استحکام کی جانب جارہے ہیں، اس کے لیے پاک فوج ملک کے تمام اداروں کے ساتھ مل کر اپنا کردار ادا کرتی رہے گئی‘۔

Scroll To Top