پاکستان کو ایک نئے کل کی تلاش

sulmanدولت کے ارتکاز کی اپنی نفسیات ہوتی ہے، یہ جتنی زیادہ ہوتی ہے ہوس ا±تنی ہی بڑھتی چلی جاتی ہے۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ اِس ملک کے صاحب اقتدار حلقوں کے پاس بے پناہ دولت ہے۔ ہر ذی شعور اس بات سے آگاہ ہے کہ یہ بے پناہ دولت درحقیقت ناجائز ذرائع کی کمائی گیا کالا دھن ہے۔ کالی معیشت کے حجم کے انتہائی محتاط تخمینے بھی ملک کی ک±ل معیشت کے پچاس فیصد تک جاتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں جتنی سرکاری یا سفید معیشت ہے، ا±تنی یا ا±س سے بڑی کالی معیشت ہے۔ یہی وہ کالا دھن ہے جو یہاں کے کرپٹ نظام کو سہارا دے کر چلا رہا ہے۔جس نظام کے دم پر پاکستان میں طاقتور کے خلاف قانون کی کاروائی محض ایک خواب بن کر رہ گئی ہے۔ جبکہ مظلوم اور غریب کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔
پاناما کی ایک لا فرم موساک فونسیکا سے کی جانب سے افشا ہونے والی ایک کروڑ دس لاکھ دستاویزات میں دنیا بھر کے سیاست دانوں اور کاروباری شخصیات کے تعلقات، آف شور کمپنیوں اور اکاو¿نٹس کے بارے میں پتہ چلا ہے۔ان تمام شخصیات میں پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کی فیملی بھی شامل ہے۔بدعنوانی کی باز گشت 1980 کی دہائی سے نواز شریف کا پیچھا کر رہی ہے۔ خاص طور پر 90 کی دہائی میں شریف فیملی کے اثاثہ جات میں بے انتہا اضافہ ہوا۔
پاکستان میں سپریم کورٹ کی طرف سے پانامہ کیس کے سلسلے میں تشکیل پانے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ کے مطابق نواز شریف اور ان کے فرزند تحقیقاتی ٹیم کے سامنے بے پناہ اثاثہ جات کے ذرائع نہیں بتا سکے۔ رپورٹ کے آف شور کمپنیوں نیلسن اور نیسکول کی مالک مریم نواز ہیں اور ان دونوں کمپنیوں کے حوالے سے جمع کرائی گئی دستاویزات جعلی ہیں، جبکہ ’ایف زیڈ ای کیپیٹل‘ کمپنی کے چیئرمین نواز شریف ہیں۔ پانامہ لیکس پر جے آئی ٹی کی رپورٹ نے نواز شریف اور ان کی فیملی کو خائن، لٹیرا اور بددیانت ثابت کردیا ہے۔
دو ماہ سے جاری تحقیقات کے بعد وزیرا عظم نواز شریف، ان کے بیٹوں حسن نواز اور حسین نواز اور بیٹی مریم نواز کے خلاف نیب میں ریفرنس دائر کرنے کی سفارش پر باقی معاملات عدالت عظمیٰ کی صوابدید ہے۔تحقیقات کے نتیجے میں جے آئی ٹی نے سفارش کی ہے کہ نیب آرڈیننس 1999 کے سیکشن 9 اے وی کے تحت نیب آرڈیننس کے تحت ریفرنس دائر کرنے کی ضرورت ہے۔جبکہ حکمران جماعت مسلم لیگ (ن)نے پاناما کیس کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی)کی رپورٹ کو ردی قرار دے کر مسترد کرنے کا موقف اپنایا ہے۔
اس وقت جبکہ پوری دنیا میں کرپشن کے خاتمہ کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں اور اس کے لیے بدعنوانی کے مرتکب افراد کو خواہ وہ کتنے ہی اعلیٰ عہدہ پر کیوں فائز رہ چکے ہوں عمر قید، مختصر مدت کی قید اور یہاں تک کہ سزائے موت تک دی جارہی جیسا کہ فرانس کے سابق صدر کو کرپشن کیس میں الزامات ثابت ہونے کے بعد گرفتار کر لیا گیا تھا اور برازیل کے سابق صدر لوئیز لولا ڈی سلوا کو کرپشن کے الزامات پر مجرم قرار دیتے ہوئے ساڑھے نو سال قید کی سزا دی گئی ہے۔ یاد رہے کہ لوئیز لولا ڈی سلوا دو مرتبہ برازیل کے صدر منتخب ہو چکے ہیں۔ عدالت کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے سیاسی نظام مضبوط ہوگا۔
قوموں اور ملک کی ترقی کےلئے سب سے پہلے لیڈر کا دیانتدار ہونا ضروری ہے، اگر ایک لیڈر پھسلتا ہے تو ساری قوم پھسلتی ہے۔پانامہ کیس پاکستانیوں کے لیے اہم ہے، وطن عزیز میں کسی طاقت ور کو صحیح معنوں میں سزا ہوگئی تو قانون کی عملداری قائم ہو جائے گی۔ آج ہونے والی سپریم کورٹ کی کاروائی اس امر میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔پاکستان کو ایک نئے کل کی تلاش ہے۔ ا±مید واثق ہے کہ پاکستان میں ایک تاریخ مرتب ہونے جارہی ہے۔

Scroll To Top