پاک فوج اور اسلام

aaj-ki-baat-new-21-aprilآپ کو اس بات پر حیرت ہوگی کہ مغرب کو بالعموم اور امریکہ کو بالخصوص آج کے پاکستان سے ایک شکایت یہ بھی ہے کہ اس کی فوج میں ” دین “ یعنی ” اسلام “ کو بڑی کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ افسر اور سپاہی سب نمازیں پڑھتے ہیں اور روزے رکھتے ہیں۔ کوئی چھاﺅنی ایسی نہیں ملے گی جہاں مسجد نہیں ہوگی' اور کوئی مسجد ایسی نہیں ہوگی جس میں باجماعت نماز ادا نہیں ہوتی ہوگی۔
گزشتہ دونوں مجھے ” ٹویٹر“ پر کرسٹینا لیمب کے ” لنک“ سے ایک مضمون پڑھنے کا اتفاق ہوا جو غالباً ” ڈان“ یا ہیرلڈ سے اٹھایا گیا تھا۔ اس مضمون کا عنوان تھا ’ ’ پاکستان کی چھاﺅنیوں میں اسلام “ ۔
لب لباب اس مضمون کا یہ تھا کہ 1971ءسے پہلے پاک فوج بالکل ” جدید“ سوچ رکھتی تھی۔ مذہب کا اثر و رسوخ چونکا دینے والا نہیں تھا۔ مگر جب 1971ءمیں اسے یعنی پاک فوج کو بھارت کے ہاتھوں ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا اور مشرقی پاکستان الگ ہوگیا تو افسروں اور جوانوں سب میں یہ احساس ابھرا کہ یہ سزا سلام سے بے گانگی کی وجہ سے خدا نے انہیں دی ہے۔ اس کے بعد مذہب کی طرف رجوع کرنے کا رحجان تیزی سے بڑھا۔ حقیقی معنوں میں اسلام پاک فوج کی سوچوں اور جذبوں کا حصہ جنرل ضیاءکے دور میں بنا۔ اس کے بعد فوج بڑی تیزی سے ” اسلامائز“ ہوئی ۔ اور افغان جہاد نے سونے پر سہاگہ کا کام کیا۔
مضمون میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ پاک فوج کو اسلام سے دور کرنے کی جو کوششیں چند ” آزاد منش “ جنرلز نے گزشتہ دس پندرہ برس کے دوران کی ہیں وہ کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوئیں۔ اسلام پاک فوج کے کلچر میں رچ بس چکا ہے جس کی وجہ سے امریکہ اور مغرب کا اعتبار پاکستان پر زیادہ مضبوط نہیں۔
کرسٹینا لیمب نے اپنے تبصرے میں لکھا ہے کہ” وردی اسلام اور ایٹمی قوت ۔۔۔تینوں کا امتزاج مغربی جمہوریت کے لئے نیک فال ہرگز نہیں“۔ جنرل پرویز مشرف نے روشن خیالی اور اعتدال پسندی کے نام پر پاک فوج کو ” راہ راست “ پر لانے کی جو کوششیں کیں وہ بقول کرسٹینا لیمب کے ' بے اثر ثابت ہوئی ہیں۔
(یہ کالم29ستمبر 2011ءکو بھی شائع ہوا تھا)

Scroll To Top