ایک دل جلے کے دل کی آواز

aaj-ki-baat-new-21-aprilآ ج مجھے ایک ایس ایم ایس موصول ہوا ہے جس میں کوئی ’ ’دل جلا “ بڑ ے غضب ناک انداز میں ان لیڈروں سے مخاطب ہو ا ہے جو حبِ وطن اور حبِ عوام کا دعویٰ کرتے ہیں او ر اپنے دعوﺅں جیسی شہرت بھی رکھتے ہیں۔
” ملک مہنگائی کے طوفان میں اڑا چلا جارہا ہے۔ بیس بیس گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ نے شہریوں کی زندگی اجیرن کرکے رکھ دی ہے۔ چاروں طرف مایوسی اور بے بسی کے اندھیرے چھائے ہوئے ہیں۔ چور ' ڈاکو ' لٹیرے ' رہزن اور خون آشام بھیڑیئے دندناتے پھر رہے ہیں ۔ دور دور تک قانون کی حکمرانی نظر نہیں آرہی۔ غیرملکی دشمنوں اور ان کے زر خرید ایجنٹوں نے الگ خطرات کے بادل چاروں اطراف جمع کررکھے ہیں۔ اوپر سے آسمانی آفات نے بھی ہر طرف بسیرے ڈال دیئے ہیں۔ کرپشن کا یہ عالم ہے کہ خود ابلیس اس بات پر ششدر ہوتا ہوگا کہ آدم کی اولاد میں مجھے مات دینے والے کیسے پیدا ہوگئے ہیں۔؟ آسمان نے کبھی کسی خطہ زمین پر اتنے سارے نالائق نا اہل اور بدقماش لوگ اکٹھے ایک حکومت میں نہیں دیکھے ہوں گے۔
یہ سب کچھ اندھوں کو بھی نظر آرہا ہے۔ پھر تم کب سر پر کفن باندھ کر نکلو گئے ۔؟ کب نکل کر خلقِ خدا کو آواز دو گے کہ اگر تباہی و بربادی کے عفریت کا لقمہ نہیں بننا توباہر آﺅ اور کاخ ِامراءکے درو دیوار ہلا دو۔ اس کھیت کے ہر خوشہءگندم کو جلا دو جس سے تمہیں روزی نہیںمل رہی۔ اس کلیسا کے پیران کو کلیسا سے اٹھا دو جو تمہارے اور خدا کے درمیان دیوار بنے کھڑے ہیں۔؟
تمہیں کس معجزے کا انتظار ہے ؟
اگر معجزوں سے قوموں کی تقدیریں تبدیل ہونی ہوتیں تو اندلس کی سرزمین نام لیوایانِ محمد پر تنگ نہ ہوجاتی !
(میرا یہ کالم04اکتوبر 2011ءکو بھی شائع ہوا تھا)

Scroll To Top