ہرسال سیلاب کی تباہ کاریوںکا زمہ دار کون ؟

zaheer-babar-logoکم وبیش تین روز سے جاری رہنے والی بارشوں کے نتیجے میں اب تک 70افراد جان بحق جبکہ 90سے زائد زخمی ہوگے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے مطابق ادارے نے متاثر علاقوں کے لیے خوراک ، ادویات ، ٹینٹ اور دیگر ضروری سامان روانہ کردیا ہے۔ ملک میں حالیہ مون سون کی بارشوں کے باعث کئی مقدمات پر پل ، سڑکوں اور مکانات کو نقصان پہنچا ہے جبکہ ملک کے بالائی علاقوں میں لینڈ سلائنڈنگ کے متعدد سڑکیں بلاک ہوگئیں۔ جانی ومالی نقصانات کے زیادہ تر واقعات پنجاب اور خبیر پختوانخواہ میں پیش آئے۔ پنجاب حکومت کے مطابق بارشوں کے نتیجے میں ہنگامی صورت حال سے بچنے کے لیے کم وبیش 40 محکموں کو تیار رہنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے الرٹ جاری کردیا گیا۔
وطن عزیز میں مون سون کی بارشوں کے نتیجے میں آنے والی تباہی نئی نہیں۔ مگر اس سے یہ ضرور ثابت ہورہا ہے کہ ملک ابھی تک مون سون کے سیلاب کے مسئلے سے نمٹنے یا جانی و دیگر نقصانات کو کم کرنے میں ناکام ہے۔ وطن عزیز کے سیاستدان ہوں ہا خودساختہ سیلابی ماہرین اسے پاکستان کو ڈبونے کی ہندوستانی سازش قرار دینے میں آسانی محسوس کرتے ہیں مگر ان کی توجہ اس پر نہیںکہ سیلاب سے نمٹنے کی موثر تیاریوں پر زور دیا جائے۔مثلا یہ کہا جاتا ہے کہ بھارت سیلابی پانی کو پاکستان پر حملے کے لیے استعمال کررہا ہے، ہم حالت جنگ میں ہے، ہندوستان کی آبی جارحیت کو اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل تک لے کر جانا چاہئے۔ پوچھا جانا چاہے کہ آخر کس نے روکا ہے کہ ملک کے اندار چھوٹے چھوٹے ڈیمیزبنائے جائیں۔
افسوس کہ حزب اقتدار ہو یا حز ب اختلاف کوئی بھی ہر سال آنے والے سیلاب کی روک تھام کے لیے موثر حکمت عملی میں اپنا کردار ادا کرنے کو تیار نہیں۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہونی چاہے کہ اکیسویں آئینی ترمیم کے بعد صوبے اس لحاظ سے خود مختار ہیں کہ وہ اپنے ہاں ڈیمز بنائیں مگر پنجاب سمیت کہیں بھی مثبت پیش رفت دیکھنے کو نہیں مل رہی۔ہمارے رہنماوں کوجان لینا چاہے کہ محض سیاسی بیانات سے سیلاب سے متاثرہ افراد کی کوئی مدد نہیں کی جاسکتی اور نہ ہی اس سے حکومت پر لوگوں کی زندگیوں اور املاک کے تحفظ کے لیے اقدامات کرنے پر دبا ڈالا جاسکتا ہے۔
بعض آبی ماہرین کا خیال ہے کہ حالیہ سالون میں آنے والے سیلاب کوہ ہمالیہ کے خطے میں دریائے چناب کے طاس میں شدید بارشوں کے نتیجے میں آئے۔ یہ بتایا جاتا ہے کہ بھارت کے پاس دریا پر پانی ذخیرہ کرنے کا کوئی اہم ڈیم نہیں ۔ مذید یہ کہ پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدے کے تحت اور چناب پر کام کرنے والے ہائیڈرو پاور منصوبوں جیسے بگلہیار کے ذریعے وہ اپنے خطے سے پاکستان میں جانے والے سیلاب کو زیادہ بڑھا نہیں سکتا۔ دریائے جہلم کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ اس دریا کے پانی کا صرف بیس فیصد حصہ ہندوستان سے آتا ہے، جبکہ باقی بہا آزاد کشمیر سے اس کا حصہ بنتا ہے"۔مذکورہ حقائق کے علاوہ اس میں شبہ نہیںکہ بھارت پاکستانی دریاوں میں پانی کے بہا کی وہ معلومات منتقل نہیںکرتا جو کہ مختلف معاہدوں کے تحت اس کا فرض ہے۔ یہ یقینا ستم ظریفی یہ ہے کہ تاحال بھارت غیرجانبدار انتظامیہ کے زیرتحت ٹیلی میٹری نظام کی تنصب کے لیے تیار نہیں ہوا جو دونوں ممالک کو درست دریائی ڈیٹا سے سیٹلائٹس تصاویر کے ذریعے آگاہ رکھ سکتا ہے جس سے بروقت اقدامات میں مدد ملتی ہے ۔ اس پس منظر میں لازم ہے کہ پاکستان سیلاب کی درست پیشگوئی کی اپنی صلاحیت کو بڑھائے تاکہ نقصانات کو محدود اور زندگیوں کو بچایا جاسکے۔آج یہ مانے میں کوئی مضائقہ نہیںکہ سیلاب پاکستان میں " سب سے تباہ کن قدرتی آفت" پے، 2010 کا سیلاب نے پاکستان کے عوام اور معیشت کو بہت زیادہ متاثر کیا مگر بدقسمتی سے حکومت تاحال فلڈ منیجمنٹ پلاننگ کو بنانے میں ناکام رہی ہے۔بلاشبہ گذشتہ دہائیوں کے دوران سیلاب سے نمٹنے کے لیے ادارہ جاتی انفراسٹرکچر کو تشکیل دینے کے لیے کچھ اقدامات کیے گئے ہیں مثلا فیڈرل فلڈ کمیشن کی تشکیل 1977 میں ہوئی جبکہ وفاقی اور صوبائی سطح پر ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹیوں کو 2005 کے تباہ کن زلزلے کے بعد تشکیل دیا گیا مگر یہ ادارے سیلاب کے دوران زیادہ موثرثابت نہیں ہوتے کیونکہ بیوروکریٹس ان پر غلبہ رکھتے ہیں جبکہ انہیں فلڈکنٹرول انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لیے سرمائے کی کمی کا بھی سامنا ہے۔بعض آبی ماہرین کے بعقول پاکستان کو ایسے منظم اداروں کی ضرورت ہے جو سیلاب کے اسباب اور اس کے اثرات پر تحقیق کروانے کا ذمہ دار ہو۔ دراصل بھارت پر الزام تراشی کی بجائے ہمیں اس بات کو تسلیم کرنا چاہئے کہ ہم سیلاب سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں۔ سوال یہ ہے کہ 2010 کے سیلاب کے بعد سیلابی شدت میں کمی لانے کے لیے کیا اقدامات کیے گے۔ اب تو یہ وطیرہ بن چکا کہ جب جب ایمرجنسی ہوئی تو ہم بغیر منصوبہ بندی کے اقدامات شروع کردیتے ہیں، کیونکہ ہم اس کے لیے تیار ہی نہیں ہوتے۔جب سیلاب گزر جاتا ہے تو ہم پھر سوجاتے ہیں اور جب تک اگلا بحران جھنجھوڑ کر اٹھاتا ہے تو وہی افراتفری میں اقدامات کی مشق شروع ہوجاتی ہے۔ماہرین کے بعقول یاد رکھنا چاہے کہ سیلاب کو روکا نہیں جاسکتا تاہم متعدد ممالک نے فلڈ مینجمنٹ اور کنٹرول حکمت عملیوں کے ذریعے املاک اور فصلوں کی تباہی میں کمی اور انسانی جانوں کے ضیاع کو کم کرلیا ہے۔ یعنی ہم سیلاب سے ہونے والے نقصانات کو محدود کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی مکمل فلڈ منیجمنٹ منصوبہ بندی اور پالیسی پر نظرثانی کرنا ہوگی لہذا یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اقدامات سے سیلاب کے تباہ کن اثرات کو کم کرے۔

Scroll To Top