اگر سیاست نہ ہوتی تو عالم پناہ آپ کا شمار ملک کے امیر ترین خاندانوں میں کیسے ہوتا۔۔۔؟

aaj-ki-baat-new-21-aprilبادشاہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ تخت سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ اور یہ اعلان مزاجِ شاہی کی تاریخی طور پر مصدقہ روایات کے عین مطابق ہے۔ بادشاہت کا نشہ ایسا نہیں کہ اخلاقیات کو اس کا نعم البدل یا تریاق بنایا جاسکے۔ بادشاہ جب حالتِ نزع میں ہوتے ہیں تب بھی ان کے اندر یہ خواہش زندہ ہوتی ہے کہ آس پاس جتنے بھی لوگ ہوں ان کے ہاتھ ادب سے بندھے ہوئے ہوں ` سررعب سے جھکے ہوئے ہوں او ر دل خوف سے بیٹھے ہوئے ہوں۔
اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ میاں نوازشریف بڑ ی حد تک مغلیہ حکمرانی کی روایات کے وارث اور امین ہیں۔ اس حقیقت سے اختلاف کرنے والوں کو چاہئے کہ رائے ونڈ تشریف لے جائیں اور وہاں سینکڑوں ایکڑوں پر محیط اُس ” سلسلہ ءمحلات“ کا نظارہ کریں جس پر مغل شہنشاہ بھی رشک کرتے۔۔۔لیکن سنا ہے کہ سینکڑوں ایکڑوں پر محیط اِس پرُ شکوہ شاہی رہائش گاہ میں داخلہ خصوصی اجازت کے بغیر نہیں ہوتا۔ پر یہ بات قرین قیاس نہیں کہ برادران مجیب الرحمان شامی اور جاوید چوہدری جیسے فیض یافتگانِ قُربِ شاہی اِس سعادت سے محروم ہوں گے۔
اگر چہ جدید دو ر میں حقیقی شہنشاہ اور حقیقی دربار ناپید ہوچکے ہیں ` جاتی امراءکے مکین آج بھی ” روایاتِ شہنشاہی“ کا پرچم بلند رکھے ہوئے ہیں۔ ماضی میں بادشاہت نسل درنسل چلا کرتی تھی ۔ مگر جاتی امراءکے مکین خاندانی طور پر شاہی خون نہیں رکھتے۔ دیکھا جائے تو سعودی عرب کا حکمران خاندان بھی ایک صدی قبل ” شاہی پہچان“ نہیں رکھتا تھا۔۔۔
میاں نوازشریف نے اپنی اور اپنے خاندان کی بادشاہت ایک تہائی صدی سے بھی کم عرصے میں قائم کی ہے۔اِس دوران انہیں تخت وتاج سے محرومی اور جلاوطنی کا سامنا بھی کرنا پڑا مگر ایسا تو ہمایوں کے ساتھ بھی ہوا تھا۔ ہمایوں ایران کے شاہی خاندان کے مہمان جابنے تھے۔ میاں صاحب کو سعودی شاہی خاندان کا مہمان بننے کا اعزاز ملا۔۔۔
لیکن کیا بادشاہتیں ہمیشہ قائم رہنے کے لئے بنا کرتی ہیں۔؟ کیا یہ حقیقت نہیں کہ ہمارے قدموں تلے ایسے قبرستان دفن ہیں جن میں بڑے بڑے بادشاہوں کی قبریں ہوں گی۔۔۔؟
بڑے سے بڑے بادشاہ قصہ ءپارینہ بن جایا کرتے ہیں۔ بادشاہوں کو یا بادشاہتوں کو دوام حاصل ہوتا تو آج دنیا پر کسی سکندر ` کسی سیزر کسی فرعون یا کسی نمرود کا ہی خاندان حکمران ہوتا۔۔۔
یہ بات میاں صاحب کو نظر انداز نہیں کرنی چاہئے۔۔۔
اپنے تازہ ترین ارشاد میں میاں صاحب نے فرمایا ہے کہ انہوں نے سیاست میں کھویا ہی کھویا ہے پایا کچھ بھی نہیں۔۔۔
اُن کا اشارہ غالباً بھٹو کے ہاتھوں اتفاق انڈسٹریز کے قومیائے جانے کی طرف ہے۔ وہ اِس حقیقت سے اختلاف نہیں کرسکتے کہ اتفاق انڈسٹریز کو اس لئے نہیں قومیا یاگیا تھا کہ شریف خاندان سیاست میں تھا ۔ تب سیاست کے افق پر دور دور تک ” شریف “ نام کاوجود نہیں تھا۔ بھٹو مرحوم نے نیشنلائزیشن کا عمل بڑے وسیع پیمانے پر کیا تھا اور اس کی زد میں بہت بڑے بڑے صنعتی و کاروباری خاندان بھی آئے تھے۔۔۔
حقیقت یہ ہے کہ جب شریف خاندان سیاست میں آیا تو اسے سب کچھ نہ صرف یہ کہ واپس ملا بلکہ ” سود“ سمیت ملا۔۔۔
میں صرف جنرل ضیاءالحق کی ان نوازشات کا ذکر نہیں کروں گا جن کی بدولت شریف خاندان کے پھلنے پھولنے کا عمل ناقابلِ یقین برق رفتاری کے ساتھ شروع ہوا۔ ذکر شریف خاندان کے دورِ اقتدار کا بھی ہونا چاہئے جو 1985ءسے شروع ہوا۔ یہ جو پاناما کیس کی کہانی ہے اسی دور میں ” سیاست “ کی بدولت حاصل کی جانے والی برکات کی کہانی ہے۔
اگر سیاست نہ ہوتی توعالم پناہ آپ کا شمار ملک کے امیر ترین خاندانوں میں کیسے ہوتا۔۔۔؟

Scroll To Top