پولیس پر حملہ ریاست پر حملہ ہے

zaheer-babar-logoکوئٹہ میں نامعلوم دہشت گردوں کی فائرنگ سے ایس پی قائد آباد سمیت چار پولیس اہکاروں کو شہید کردیا گیا۔ واقعہ صوبائی درالحکومت میںکل دیبہ نامی علاقے میں پیش آیا جب ایس پی قائد آباد اپنے گھر سے دفتر جارہے تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق نامعلوم مسلح افراد موٹر سائیکل پر سوار تھے جو جائے واردات سے بھاگنے میںکامیاب رہے۔ یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں کوئٹہ پولیس کے اعلی افسران کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے کی یہ دوسری بڑی کاروائی ہے اس سے قبل دس جولائی کو ایس پی قلعہ عبداللہ ساجد مہمند سمیت دواہکاروں کو شہید کردیا گیا۔یاد رہے کہ گذشتہ سال بھی کوئٹہ اور بلوچستان کے دگیر علاقوں میں 150سے زائد سیکورٹی اہکار شہید کیے جاچکے ہیں۔
بلوچستان پولیس طویل عرصے سے دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کاروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ اب تک پولیس درجنوں کامیاب آپریشنر کرکے سماج دشمن عناصر کو نشانہ عبر ت بنا چکی ۔ اس میںدو آراءنہیں کہ سی پیک کے آغاز سے لے کر ملک دشمنوں کی بلوچستان پر گہری نظر ہے۔ کلبھوشن یادو کی گرفتاری بھی بلوچستان سے ہی عمل میں آئی۔ بھارت اور افغانستان سمیت پاکستان کے دشمن اس علاقے میں طویل عرصے سے متحرک ہیں۔ مودی سرکار کی خواہش و کوشش ہے کہ کسی طرح مقبوضہ وادی اور بلوچستان کو ایک ہی لائن میں کھڑا کردیا جائے۔ نام نہاد بلوچ قوم پرست رہنماوں کا بھارت سے مدد کا مطالبہ کوئی نہ بھولے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے رہنمائی کا جو دعویدار اس سچائی کو نہیں جان پایا کہ ازلی دشمن اسے کسی طور پر طویل مدتی فائدہ نہیںدے سکتا وہ شخص تقلید کے قابل کیونکر ہوسکتا ہے۔دراصل یہ وہ تلخ سچائی ہے جس کے نتیجے میںبلوچستان میں قوم پرستی زوال کا شکار ہیں۔ بلوچ نوجوان یہ پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ کوئی بھی نواب وجاگیردار بیرون ملک میں پرتعیش زندگی گزار کر غریب عوام کے مفادات کو تحفظ دینے کا دعویدار کیونکر ہوسکتا ہے۔
رقبے کے اعتبار سے ملک کے سب بڑے صوبے کو جن مشکلات کا سامنا ہے اس میں غربت اور پسماندگی کو کیلدی اہمیت حاصل ہے۔ صوبے کے اکثر شہروں میںعوام کو بنیادی ضروریات زندگی دستیاب نہیں۔ پینے کاصاف پانی ،علاج معالجے کی سہولیات ، تعلیم اور سب سے بڑھ کر انصاف کی بلاامتیاز فراہمی کا خواب تاحال شرمندہ تعبیر نہیںہوسکا ۔ بلوچستان میں جاگیرداروں اور نوابوں نے جمہوریت کو اپنے مفاد میں ڈھال رکھا ہے۔اپنے عوام کو پسماندہ رکھ کر نسل درنسل حکومت کی جارہی مگر عام آدمی کی قسمت بدلنے کا کوئی امکان نہیں۔ یہ بات بھی اہمیت کی حامل ہے کہ ہر دور میںصوبے کے منتخب نمائندوں کو کروڈوں روپے ترقیاتی بجٹ کی مد میں دیے گے مگر وہ طاقتور اشرافیہ کی جیب میں گے۔مقامی حکومتوں کی شکل میں ایسا نظام ہے جو بلوچ عوام کے زخموں پر مرہم رکھ سکے مگر اس کا حقیقی معنوں میں نفاز ہوتا نظر نہیں آتا۔
یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ دہشت گردی اور انتہاپسندی کا جن ان ہی معاشروں میں پرورش پاتاہے جہاں کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی شکل میں ناانصافی کادور دورہ ہو۔ بلوچستان میں کالعدم گروہوں کے ساتھ ساتھ ان رکاوٹوںکو بھی ختم کرنا ہوگا جس نے صوبے کے اکثر علاقوں میں طاقتور اور کمزور کی شکل میں جڑیں مضبوط کررکھی ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ منتخب ایوانوں میں ایسے لوگ نہیں آرہے جو اپنے انفرادی اور گروہی مفادات کے اسیر ہونے کی بجائے صرف اور صرف ملک وملت کا مفاد مقدم رکھیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ ن ایک سے زائد بار بلوچستان میں حکومت کرچکیںمگر وہ اپنے اقتدار کو مضبوط بنانے کے لیے صوبے کے روایتی سیاسی خاندانوں کی سرپرستی کرتی رہی۔ تاحال یہ یقین سے کہنا مشکل ہے کہ صوبے کے مڈل کلاس پڑھے لکھے طبقہ کو سیاست میں آنے کی اجازت دی جائے۔ بادی النظر میں ملکی سیکورٹی فورسز ایسی جنگ میں الجھ چکیں جس کا مستقبل قریب میں خاتمہ ہوا نظر نہیںآتا وجہ یہ ہے کہ بدامنی کے حقیقی معنوں میں خاتمہ کے لیے بنیادی وجوہات کی جانب توجہ نہیںدی جارہی۔
ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں طویل عرصہ سے صوبے میں بیرونی ہاتھ کی موجودگی کی دہائی دیتی چلی آرہی ہیں مگر اب یہ سوال بھی پوچھا جارہا کہ سالوںگزر جانے کے باوجود دشمن کی چال ناکام بنانے میں ہم کیونکر کامیاب نہیںہوسکے۔ ٹھیک کہا جاتا ہے کہ زندگی دوسروں کی خامیوں کی بجائے اپنی خوبیوں کے سہارے بسر کی جاتی ہے۔ زندہ قوموں کا شعار یہی ہوا کرتا ہے کہ وہ ہمہ وقت خود احتسابی سے کام لیا کرتی ہیں۔ وفاقی اور صوبائی زمہ داروں کو بہرکیف اس سوال کا جواب دینا ہوگا کہ آخر کب تک ہم دوسروں پر اپنی ناکامیوںکا بوجھ لادتے رہیں گے۔ اطمنیان بخش ہے کہ بلوچستان سمیت ملک کے دیگر حصوںمیں رہنے والے عوام گھسا پٹا روایتی موقف تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ گلوبل ویلج کہلانی والی اس دنیا میں معلومات کا سمندر ہے۔منتخب حکومت کو بدلے ہوئے حالات کا ادراک کرنا ہوگا۔ امن وامان کسی بھی ریاست کی بنیادی زمہ داری ہے چنانچہ ان وجوہات کو دور کرنا ہوگا جو اب تک اس عظیم فریضہ کی ادائیگی میںرکاوٹ بن رہیں۔بلوچستان میں پولیس پر پہ درپہ حملہ کرکے یہ پیغام دیا جارہا کہ اگر قانون نافذ کرنے والے ادارے محفوظ نہیں تو شہریوں کی جان ومال کا تحفظ کیونکر ممکن ہوگا۔زمہ دار جان لیںکہ کسی بھی قانون نافذ کرنے والے ادارے کے آفیسر یا اہکار پر حملہ ریاست پر حملہ ہے جسے ہرگز برداشت نہیںکرنا چاہے۔

Scroll To Top