شامی صاحب۔۔۔ ہماری صفوں میں کئی لاکھ چور ہوں تو بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔ صرف ہمارے حاکم کو چور نہیں ہونا چاہئے

aaj-ki-baat-new-21-aprilبرادرم مجیب الرحمان شامی کی تحریروں کے دو اقتباسات سوشل میڈیا کی زینت بنے ہوئے ہیں جن میں سے ایک میں یہاں اِس لئے درج کررہا ہوں کہ شامی صاحب کے ساتھ اپنی دوستی کے رشتے کی کچھ پرانی یادوں کو دہرانے کی خواہش پر قابو نہیں پارہا۔ شامی صاحب کے ساتھ میری دوستی کی جڑیں اُس دور میں ہیں جسے پوالرائزیشن کا دور سمجھا جاتا ہے اور جب پوری قوم سوچ کے دو دھڑوں میں بٹی ہوئی تھی۔ ایک دھڑے نے 1970ءکے انتخابات میں بھٹو کو ووٹ دیا تھا۔میرا تعلق اسی دھڑے سے تھا۔ اور دوسرے دھڑے نے بھٹو کے خلاف ووٹ دیا تھا۔ شامی صاحب اُس دھڑے کے نوجوان روحِ رواں تھے۔ متحارب سیاسی سوچیں رکھنے کے باوجود ہم دوست بن گئے۔میری معروف تصنیف ” جھوٹ کا پیغمبر“ کا پیش لفظ شامی صاحب نے ہی تحریر کیا تھا۔ جب پاکستان ٹوٹا تھا تو بھٹو کے ساتھ میرا وہ جذباتی رشتہ بھی ٹوٹ گیا تھا جسے سینچنے کے لئے میری بہت ساری ” جواں توانائیاں “ خرچ ہوئی تھیں۔

بہرحال بات میں یہاں شامی صاحب کے ساتھ اپنی دوستی کی کررہا ہوں۔ وہ آج بھی قائم ہے۔ سوچیں آج بھی اسی طرح متحارب ہیں جس طرح 1970ءاور 1980ءکی دہائیوں میں تھیں۔
شامی صاحب نے حال ہی میں لکھا ہے۔
” وزیراعظم سے استعفیٰ مانگا جارہا ہے کہ ان کے خلاف تحقیقات ہورہی ہیں۔ یہاں تو ہر ایک کے خلاف کیس چل رہے ہیں۔ کسی کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ کا۔ کسی کے خلاف پارٹی الیکشن میں دھوکہ دہی کا۔یہاں کون کون استعفیٰ دے گا۔ ؟ پاکستان میں سیاست کا جو معیار ہے اس میں استعفیٰ کے مطالبے کی کوئی اہمیت نہیں۔ عمران خان کو بھی داد دینی چاہئے کہ انہوں نے وزیراعظم کے خلاف معاملہ اتنا اٹھایا کہ بڑا اِشو بنا دیا۔ ورنہ پامانا میں 400لوگوں کے نام تھے باقی 399کہاں ہیں ؟“
میں جانتا ہوں شامی صاحب کہ آپ دوستی کا حق ادا کرنے والے آدمی ہیں۔ میاں نوازشریف کے ساتھ آپ کی دوستی بہت پرانی ہے۔ یہ تحریر جو میں نے پڑھی ہے ایک ایسے شخص کی نہیں جو چاہے تو اپنی بصیرت پر اپنے بدترین مخالفوں سے بھی خراجِ تحسین حاصل کرسکتا ہے۔ یہ تحریر ایک ایسے شخص کی ہے جو دوستی کے تقاضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔
ورنہ آپ یہ سوال کیوں اور کیسے اٹھاتے کہ پامانا میں 400لوگوں کے نام تھے باقی 399کہاں ہیں؟
شامی صاحب۔۔۔ فرض کریں کہ پاکستان کی آبادی19کروڑ95 لاکھ56ہزار 3سو اٹھانوے ہے۔ ان میں صرف ایک شخص۔۔۔ صرف ایک شخص ۔۔۔ ایسا ہے جو اس ملک کا وزیراعظم ہے۔۔۔ اس ملک کے وسائل کا محافظ ہے۔۔۔ اس ملک کے عوام کا امانت دار ہے۔۔۔ اس قوم کی تقدیر جس کے اعمال اور فیصلوں سے بننی اور بگڑنی ہے۔۔۔
صرف ایک شخص شامی صاحب۔۔۔
باقی 19کروڑ95لاکھ 56ہزار 3سوستانوے محض تماشائی ہیں۔۔۔ان میں لاکھ چور بھی ہوں تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔399تو بڑی چھوٹی تعداد ہے۔
لیکن اگر وہ ایک شخص (خدانخواستہ)چور ہو جس کے ہاتھوں میں اس ملک کی تقدیر ہے تو ہمارا کیا بنے گا۔۔۔؟
اور آپ کا یہ کہنا کہ کون کون استعفیٰ دے ۔۔۔ وہ بھی بے معنی ہے۔۔۔
وہ شخص فوج میں کلیدی ہوتا ہے جس کے ہاتھ میں پرچم ہو۔۔
اگر وہ دشمن سے جاملے تو ؟
اگر وہ چور ہو تو ۔۔۔؟

Scroll To Top