سات ہندو یاتریوںکا قتل بھارتی چال

zaheer-babar-logoمقبوضہ کشمیر میں ہونے والی تازہ مسلح کاروائی میںچھ خواتین سمیت سات ہندو یاتریوں کو قتل کردیا گیا۔ ادھر بھارتی سیکورٹی فورسز نے چھ افرادکو گرفتار کرے ان سے پوچھ گچھ شروع کردی ، تادم تحریر کسی گروہ نے واقعہ کی زمہ داری قبول نہیں کی۔ دوسری جانب آل پارٹیز حریت کانفرنس نے اس کاروائی کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔سول سوسائٹی ،تاجروں اور دیگر سماجی حلقوں نے لال چوک میں مظاہرے کیے۔ ہندو اکثریتی علاقے جموں میں تاجروں کی اپیل پر ہڑتال کی گی اور کئی جگہ احتجاج کیا گیا۔ ادھر جہاد کونسل کے سربراہ صلاح الدین نے واقعہ کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے بین الاقوامی برداری سے غیر جانبدار تحقیقات کروانے کی اپیل کی ہے، اس خدشہ کا بھی اظہار کیا جارہا کہ یہ کاروائی دراصل بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی کاروائی ہے تاکہ تحریک آزادی کشمیر کو بدنام کیا جائے۔
مقبوضہ وادی میںبھارتی سیکورٹی فورسزکو جن حالات کا سامنا ہے اس کے پیش نظر یہ ہرگز بعیدازقیاس نہیں کہ قابض فوج ازخود کوئی ایسی کاروائی کرڈالے جو تحریک آزادی کشمیر کو بدنام کرنے کا باعث بن جائے۔ کشمیر کے حالات سے شناسا حلقے باخوبی آگاہ ہیں کہ کئی دہائیوں سے جنت نظیر میں آگ وخون کا کھیل جاری ہے۔ اب تک ہزاروں نہیں لاکھوں کشمیری اپنی زندگی سے محروم کردئیے گے۔ حال ہی میں برہان وانی کی پہلی برسی کے موقعہ پر بھارتی افواج نے عملا وادی کو قید خانہ بنا کررکھ دیا۔ اہل کشمیر کے پرامن احتجاج پر پابندی لگا کر نئی دہلی نے ثابت کردیا کہ کشمیریوں کو کسی قسم کی آزادی میسر نہیں۔ اس پس منظر میں عالمی برداری کا رویہ افسوسناک ہونے کے علاوہ قابل مذمت بھی ہے۔ یہ کہنا کسی طور پر غلط نہ ہوگا کہ امریکہ سمیت طاقتور مغربی ممالک ہرگز بھارت کو ناراض کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اقوام عالم کی خاموشی کی بنیادی وجہ ان کے معاشی مفادات ہیں۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مسقبل قریب میں ایسی امید نظرنہیں آتی جب عالمی برداری کا ضمیر اچانک جاگ اٹھے اور اس کے نتیجے میں کشمیریوں کی داد رسی کی کوئی نہ کوئی کوشش کی جائے۔ اس پس منظر میں یہ کہنا غلط نہیں کہ مقبوضہ وادی کے باسیوں کے سامنے طویل اور صبر آزما جدوجہد ہے چنانچہ یہ کہنا مشکل ہے کہ ابھی مذید کتنے حریت پسند اپنی جانوں کا نذارنہ پیش کریں گے ۔ کتنے بچے یتیم ہوں گے ، کتنی خواتیں بیوہ ہونگی یا اور کتنے والدین سے ان سے عمر کے آخری حصہ میں واحد سہارا چھین لیا جائیگا۔
ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ اہل کشمیر کی سب سے بڑی ”خامی “ یہ ہے کہ وہ مسلمان ہیں۔ مغربی اقوام نے بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر مسلم دنیا میںجاری قتل وغارت گری سے آنکھیں بند کررکھی ہیں۔ ”مہذب دنیا “ کا یہ طرزعمل اس لحاظ سے نمایاں برائی نہیں کہ خود مسلم ممالک اہل اسلام کی مشکلات حل کرنے میںدلچیسپی نہیں رکھتے۔ آج پیچاس سے زائد اسلامی ملکوں میں زیادہ تر موروثی حکومتیں قائم ہیں۔ نسل درنسل چلے آنے والے حکمران ان عام مسلمانوں کی مشکلات کا اندازہ کسی صورت نہیںکرسکتے جو طویل عرصے سے جبر واستحصال کا شکار ہیں۔ مسلمان معاشرے علم وآگہی دور ہیں۔ ایک طرف وہ جدید علوم وفنون حاصل کرنے میںکامیاب نہیں ہورہے تو دوسری طرف دین کی اصل روح کو بھی سمجھنے میں ناکام ثابت ہورہے ۔ قرآن حکیم تاقیامت انسانوں کی رہنمائی کا فریضہ سرانجام دے گا مگر عام مسلمان تو دور اہل علم بھی اس عظیم کتاب کوعصر حاضر کے تقاضوں کی روشنی میں سمجھنے کے لیے تیار نہیں۔ یہ کہنا
غلط نہیں کہ کراہ ارض پر واقعہ درجنوں اسلامی ملک تاحال ایسی طاقت ور آواز نہیں بن سکے جو اپنے کلمہ گو بھائیوں کی مشکلات میں کمی لانے میںمعاون کا کردار نبھائے۔
اہل کشمیر آج پاکستان کی جانب پوری یقین کے ساتھ دیکھ رہے ۔ آئے روز بے گناہ کشمیریوں کو پاکستان کے پرچم میں لپیٹ کا دفن کیا جاتا ہے۔(ڈیک) مقبوضہ وادی کے گلی کوچے پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گوجتے ہیںمگر سوال یہ ہے کہ اس صورت حال میں پاکستانی قیادت کا کردار کیا ہے۔ افسوس سیاسی جماعتیں اندرونی مسائل میں اس حد تک الجھ چکیں کہ انھیں مقبوضہ کشمیر میں آنے والی اس تبدیلی کا احساس نہیں ہورہا جو پوری قوت سے اپنی موجودگی کا پتہ دے رہی۔وزیراعظم پاکستان کی کشمیر پالیسی کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کو کشمیر کمیٹی کا چیرمین لگا دیا گیا۔جمیت علماءاسلام ف کے سیاسی نظریاتی سے آگاہ ہر شخص جانتا ہے کہ مولانا کسی طور پر بھارت کے خلاف جارحانہ پالیسی اختیار نہیں کریںگے۔ دراصل یہی وہ حقیقت ہے جس کے پیش نظر بزرگ کشمیری رہنما سید علی گیلانی کو حکومت پاکستان سے کہنا پڑا کہ مولانافضل الرحمن کو کشمیر کمیٹی سے الگ کیا جائے۔
حکومت نہ سہی مگر اہل پاکستان کی اکثریت کشمیریوں کی پرامن تحریک آزادی کی حامی ہے۔ خبیر تا کراچی عوام کی اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ کشمیر حقیقی معنوں میں پاکستان کی شہ رگ ہے جو کسی صور ت بھارت جیسے دشمن ملک کے ہاتھ میں نہیں ہونی چاہے۔ یہ اطمنیان بخش ہے کہ مقبوضہ وادی میں تحریک آزادی مسلسل جاری وساری ہے۔ تازہ کاروائی میں سات ہندو یاتریوں کا قتل بلاشبہ جدوجہد آزادی کو بدنام کرنے کی سوچی سمجھی کوشش ہے۔ متحدہ جہاد کونسل کی جانب سے اس کاروائی کی بھرپور مذمت اس کا ثبوت ہے کہ حریت پسند بھارت کی ہر چال سے نہ صرف پوری طرح واقف ہیں بلکہ اس کا توڈ کرنے کے لیے پوری طرح تیار بھی ۔

Scroll To Top