حتمی فیصلے تک عدلیہ میڈیا پر ایسی توہین آمیز پریس کانفرنسوں پر پابندی لگادے۔۔۔

aaj-ki-baat-new-21-aprilعدالتی احکامات کے باوجود عدالت پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔دانیال عزیز نے ایک بار پھر دل کھول کر عدلیہ پر گولہ باری کی۔

نون لیگ کی اعلیٰ سطحی پریس کانفرنسوں کا سلسلہ جاری ہے۔
11جولائی کو جناب اسحق ڈار ` خواجہ سعد رفیق اور بیرسٹرظفر اللہ کی معیت میں میڈیا سے مخاطب ہوئے۔
کتنا بڑا المیہ ہے کہ نون لیگ اس قدر کامیابی کے ساتھ میڈیا کو عدلیہ اور فوج کے خلاف بھرپور پراپیگنڈے کے لئے استعمال کررہی ہے۔
10جولائی 2017ءکو احسن اقبال وغیرہ نے جے آئی ٹی کی رپورٹ کو ردی کے کاغذات قرار دیا تھا جس کی اصل جگہ کوڑے دان ہے۔
11جولائی 2017ءکو خواجہ سعد رفیق او ر اسحق ڈار نے یہی موقف دہرایا۔
بیرسٹر ظفر اللہ تو اس حد تک چلے گئے کہ انہوں نے جے آئی ٹی کی رپورٹ کو عمران نامہ قرار دے ڈالا۔ انہوں نے کہا کہ اتنے کم وقت میں اتنی لمبی رپورٹ لکھنا جے آئی ٹی کے ارکان کے بس کی بات ہی نہیں تھی۔ یہ رپورٹ یقینا کسی اور جگہ لکھی گئی ہے۔ اور جے آئی ٹی کے فاضل ارکان نے صرف دستخط کرنے کی زحمت کی ہے۔
یہ الزام نون لیگ کے دوسرے وزراءنے بھی لگایا ہے کہ یہ رپورٹ یا تو عمران خان کے کسی خفیہ سیکرٹریٹ میں تیار ہوئی ہے اور یا پھر آئی ایس آئی کی کاﺅشوں کا نتیجہ ہے۔
یہ سارے الزامات درحقیقت توہین عدالت کے زمرے میں آتے ہیں۔
جے آئی ٹی کی رپورٹ پر تنقید کرنا اِس رپورٹ کے متاثرین کا پورا حق ہے۔ مگر بات تنقید سے بہت آگے نکل گئی ہے۔ نون لیگ نے ” سازش “ کا جو بیانیہ (Narrative)شریف خاندان کے ” کارناموں“ پر پردہ ڈالنے کے لئے اپنایا ہے اس کی زد میں وطن ِ عزیز کے دو سب سے قابلِ احترام ادارے آرہے ہیں۔ ان پڑھ سے ان پڑھ اور احمق سے احمق شخص بھی حکومتی ترجمانوں کے بیانات سن کر سمجھ سکتا ہے کہ ان کی انگشتِ الزام کا رخ عدلیہ کی طرف ہے یا فوج کی طرف ہے یا پھر دونوں کی طرف ہے۔ ا س ضمن میں مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ تاثر یہ بھی دیا جارہا ہے کہ یہ دونوں ادارے اس وقت عمران خان کی کمان میں کام کررہے ہیں۔
گاڈفادر کی یہ گھناﺅنی حکمت عملی پاکستان کے خلاف ایک خوفناک سازش سے کم حیثیت نہیں رکھتی۔پاناما کیس کسی بھی صورت میں نون لیگ یا حکومت کے خلاف نہیں۔ اس کے سارے ملزمان کا تعلق شریف فیملی سے ہے۔ کیا حکومتی ترجمان بتا سکتے ہیں کہ شریف فیملی کے نجی کاروباری معاملات سے ان کا کیا تعلق رہا ہے۔
خواجہ سعد رفیق یا دوسرے وزراءکو کن فرشتوں نے بتایا ہے کہ نوازشریف سچے ہیں اور عدلیہ جھوٹ بول رہی ہے۔؟ جے آئی ٹی کی رپورٹ دراصل ہے کیا ؟ اُس فیصلے کی تصدیق جو جسٹس کھوسہ اور جسٹس گلزار دے چکے ہیں۔
جب تک اس کیس کا حتمی فیصلہ نہیں آجاتاعدلیہ کو ایسے احکامات جاری کرنے چاہئیں جن کی رو سے میڈیا پر ایسی تو ہین آمیز پریس کانفرنسوں کا سلسلہ ختم ہوجائے۔۔۔

Scroll To Top