شاید فیصلے کی گھڑی آن پہنچی ہے

aaj-ki-baat-new-21-aprilقوموں کی زندگی میں ایسے موڑ ضرور آتے ہیں جب انہیں اپنی بقاءاور فلاح کے لئے بہت بڑے اور دشوار فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔
ایک بڑا فیصلہ برصغیر کے مسلمانوں نے گزشتہ صدی کی پہلی تہائی میں یہ کیا کہ اپنی فکری اور سیاسی آزادی کے لئے اپنے جداگانہ اسلامی تشخص کی بنیاد پر ایک نئی مملکت کے قیام کو اپنا نصب العین بنالیا۔
دوسرا بڑا فیصلہ سقوط ڈھاکہ کے بعد پاکستان نے یہ کیا کہ اپنی آزادی کی حفاظت کے لئے ایٹمی طاقت بننا اس کی ناگزیر ضرورت ہے۔
آج بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ ” یہ کیسے ”قومی اثاثے “ ہیں جنہیں ہم نے اپنی حفاظت کے لئے حاصل کیا مگر جن کی حفاظت ہمارے لئے وبال جان بنی ہوئی ہے۔۔۔؟“
کاش کہ یہ لوگ اس حقیقت کو تسلیم کرنے کا ظرف رکھتے کہ اگر ہم ایٹمی طاقت نہ ہوں تو بھارت کسی بھی وقت ہمارا حشر ویسا ہی کرسکتا ہے جیسا امریکہ نے عراق یا افغانستان کا کیا۔۔۔!
اسے ہم اپنی بدقسمتی ہی کہہ سکتے ہیں کہ جیسی شدید خواہش ہمارے دشمن ہمیںاپنے ایٹمی اثاثوں سے محروم کرنے کی رکھتے ہیں ویسی ہی شدید خواہش ہمارے اپنے کچھ بھائیوں کی بھی ہے کہ کاش ہم ایٹمی طاقت نہ بنے ہوتے!
اب ہم اپنی تاریخ کے اس فیصلہ کن موڑ پر آگئے ہیں جہاں ہمیں نتائج سے بے نیاز ہو کر یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اب غلامی کا وہ طوق اتار پھینکے بغیر نہیں رہیں گے جو کئی دہائیوں سے امریکہ نے ہمارے گلے میں ڈال رکھاہے۔۔۔
اب پاکستان کے گلی کوچوں سے ایک ہی صدا بلند ہونی چاہئے۔۔ آزادی۔۔آزادی۔۔آزادی
(یہ کالم 23ستمبر 2011ءکو بھی شائع ہوا تھا)

Scroll To Top