کچھ ابوعبداللہ کے بارے میں 13-09-2011

aaj-ki-baat-new-21-aprilمیں نہیں جانتا کہ کیوں مگر یہ حقیقت ہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا یہ سوال میر ے ذہن کی کسی دیوار کے ساتھ چپک کررہ گیا ہے کہ ” بچایا کسے جائے ' حکومت کو یا ملک کو ؟“
اس ستم ظریف سوال کے ساتھ میرا ذہن اندلس میں مسلمانوں کی آخری مملکت غرناطہ اور اس آخری مملکت کے آخری حکمران ابو عبداللہ کی طرف جائے بغیر نہیں رہتا۔
گزشتہ دنوںپی ٹی وی کے ایک پروگرام میں میری ملاقات ایئر مارشل )ر(مسعود اختر سے ہوئی۔ یہ پروگرام جنگ ستمبر(1965)کے حوالے سے تھا۔ پروگرام کی ریکارڈنگ سے پہلے ایئر مارشل صاحب کے ساتھ میری جو گفتگو ہوئی اس کا موضوع نسیم حجازی مرحوم تھے۔ انہوں نے پوچھا۔ ” میں بھی اسی نسل سے تعلق رکھتا ہوں جو نسیم حجازی کے ناول پڑھ کر جواں ہوئی۔ مگر اب میں یہ سوچے بغیر نہیں رہ پاتا کہ نسیم حجازی نے مسلمانوں کے ناقابل شکست ہونے کی myth )داستان(پر کچھ زیادہ ہی زور دیا۔ “
” قوموں کو اپنا مورال بلند رکھنے کے لئے ولولہ انگیز شاعری اور ایمان افروز کا رناموں کی ضرورت ہمیشہ سے رہی ہے۔ “ میں نے جواب دیا ” کیا یونان نے ہومر کو جنم نہیں دیا تھا۔ ؟ مگر نسیم حجازی مرحوم نے صرف ولولہ انگیز ی اور ایمان افروزی پر ہی زور نہیں رکھا ' انہوں نے زیادہ زور مسلمانوں کی تاریخ کے ان ادوار پر دیا جن میں انہیں عبرتناک شکستوں کا سامنا کرنا پڑا۔ مثال کے طور پر آخری چٹان جو چنگیز خان کے ہاتھوں اسلامی دنیا کی تباہی اور بربادی کی داستان تھی۔ اور اس کے علاوہ” شاہین “ جس میں سقوط غرناطہ کا المناک سانحہ بیان کیا گیا۔ میرے خیال میں نسیم حجازی کی تحریروں میں عبرت حاصل کرنے کی ترغیب ولولوں اور ایمان افروزی کو بڑھانے کے پیغام سے زیادہ شدت کے ساتھ دی گئی ہے۔“
ایئر مارشل مسعود اختر نے میری اس رائے سے اتفاق تو کیا مگر ہماری گفتگو ادھوری رہ گئی۔
اس گفتگو کا ذکر سقوط غرناطہ کے حوالے سے ہوا ہے۔ اس کے آخری حکمران ابو عبداللہ کو اقتدار قسطلہ کے عیسائی حاکم فرڈی نینڈ کی خفیہ سرپرستی کی بدولت حاصل ہوا تھا۔ اقتدار کے حصول کے لئے ابو عبداللہ نے اپنے باپ ابو الحسن کو راستے سے ہٹایا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ فرڈی نینڈ اور اس کی ملکہ ازابیلا کی سرپرستی اسے ہمیشہ برسراقتدار رکھے گی۔ مگر آخر میں ہوا کیا؟
کئی برس قسطلہ کے ایجنڈے کا ایک مہرہ بنے رہنے کے بعد ابو عبداللہ کو بالآخر اس خوفناک حقیقت کا سامنا کرنا پڑا کہ ” خیرات یا سازش کے نتیجے میں ملا ہوا اقتدار دائمی نہیں ہوا کرتا۔ “
بالآخر اسے الحمرا کی چابیاں اپنے ہاتھوں سے فرڈی نینڈ کے سپرد کرنا پڑیں۔
مورخین کا خیال ہے کہ اگر ابو عبداللہ اپنے اقتدار کو بچانے کی بجائے ¾ غرناطہ کے دفاع کا بیڑہ اٹھاتا تو شاید اندلس میں مسلمانوں کے آفتابِ اقبال کو غروب ہونے سے روکا جاسکتا تھا۔۔۔
(یہ کالم 13اکتوبر2011کو بھی شائع ہوچکا ہے)

Scroll To Top