’’محمد ﷺ کا رب صرف رسی ڈھیلی نہیں چھوڑتا، اچانک ” ظالموں“ کی گردنوں کو شکنجے میں کس بھی لیا کرتا ہے ‘‘

09-07-2017
اگرچہ ہمارا بحیثیت مسلمان یہ ایمان ہے کہ دینِ اسلام اسی دین کا تسلسل ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کو دے کر بھیجا اور جسے حضرت نوح ؑ ، حضرت ابراہیم ؑ ، حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت عیسیٰ ؑ نے بنی نوع انسان کے لئے ہدایت کا سرچشمہ اور راہِ نجات بنانے کی جدوجہد کی، مگر اسلام کو د وسرے ہر دین پر اس لئے فضلیت حاصل ہے کہ یہ واحد دین ہے جس کی ” کتابِ ہدایت“ کی حفاظت کرنے کی ذمہ داری خود باری تعالیٰ نے لی اور جو آپ کے رحلت فرما جانے کے بعد تقریباً چودہ صدیوں سے اپنی اصل شکل میں زیر و زبر کی بھی معمولی سے تبدیلی کے بغیر قائم رہی ہے اور کلامِ الٰہی کی صورت میں امت محمدی کے لئے آئینِ حیات اور تمام بنی آدم کے لئے دعوتِ حق کا درجہ رکھے گی۔
میرا ایمان ہے کہ ایک حقیقی مسلمان کی پہچان ہی یہ ہے کہ وہ قرآن پاک کو کلامِ الٰہی مانتا ہو اور اس میں درج احکاماتِ خداوندی کو صدقِ دل سے اپنی فکر اور اپنے عمل کے لئے واحد غیر متنازعہ سرچشمہء ہدایت سمجھتا ہو۔
آج کل موسلادھار اور قیامت خیز بارشوں کے جس سلسلے نے جنوب مغربی پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اسے دیکھ کر میں قرآن حکیم کی ان درجنوں آیات کو یاد کئے بغیر نہیں رہتا جن میں خالقِ کائنات اور قادرِ مطلق نے اپنے نافرمان بندوں سے مخاطب ہو کر ان تباہیوں کو یاد رکھنے کے لئے کہا جو کلامِ الٰہی کا مذاق اڑانے والوں کا مقدر بنا دی گئیں۔
قرآنِ حکیم میں نافرمان قوموں کا تذکرہ ہمیشہ ان کے سرداروں کا حوالہ دے کر کیا گیاہے ۔ قدرت سے یہ سوال نہیں پوچھا جاسکتا کہ اس نے سرداروں کے گناہوں کی سزا میں خاموش اور بے بس رعایا کو کیوں شامل کیا۔؟ قدرت کے فیصلوں کو سمجھنا ہمارے بس کی بات نہیں۔ لیکن جو بات” حرفِ فریاد“ زبان پر لائے بغیر نہیں رہتی وہ یہ ہے کہ سزا صرف پانی میں ڈوبنے والوں کو کیوں مل رہی ہے ¾ ان سردارانِ خود سرو نافرمان کو کیوں نہیں جو تباہی کی اس گھڑی میں بھی سیر سپاٹوں پر نکلے ہوئے ہیں۔
مگر ” حرفِ فریاد“ اپنی جگہ ۔۔۔خدا سے ہمیں اپنے اپنے گناہوں کی معافی تو بہرحال مانگنی چاہئے۔
اور ہمیں یہ یقین بھی رکھنا چاہئے کہ محمد کا رب صرف رسی ڈھیلی نہیں چھوڑتا ¾ اچانک ” ظالموں “ کی گردنوں کو شکنجے میں کس بھی لیا کرتا ہے ۔
(یہ کالم14-09-2011کو بھی شائع ہوا تھا ۔)

Scroll To Top