پاکستان کا ڈیگال کون بنے گا ؟ 26-08-2011

aaj-ki-baat-new-21-april1973ءکا آئین 1977ءمیں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کو نہ بچا سکا۔ 1973ءکا آئین 1990ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت کو نہ بچا سکا۔ 1973ءکا آئین 1993ءمیں میاں نوازشریف کی حکومت کو نہ بچا سکا۔ 1973ءکا آئین 1996ءمیں محترمہ بے نظیر بھٹو کی دوسری حکومت کو نہ بچا سکا۔ اور1973ءکا آئین 1999ءمیں میاں نوازشریف کی دوسری حکومت کو بھی نہ بچا سکا۔ کیا 1973ءکا آئین موجودہ حکومت کو بچا پائے گا ؟ اس سوال کاجواب تلاش کرنا کسی بھی صاحب فہم کے لئے مشکل نہیں ہونا چاہئے۔
دومرتبہ حکومتوں کے خاتمے کے لئے مارشل لاءکا سہارا لیا گیا اور چار مرتبہ حکومتوں کو فوج کے بالواسط دباﺅ کے ذریعے ختم کیا گیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومتیں جب بھی ختم ہوئیں عوام کی غالب اکثریت نے تبدیلی کا خیر مقدم کیا۔ اور ہر مرتبہ قوم کا ردعمل اور رویہ کچھ ایسا تھا جیسے اسے کسی خطرناک بیماری سے صحتیابی حاصل ہوئی ہو۔
اس امر میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں کہ کسی بھی ملک کے عوام کو ایسی جمہوریت کے علاوہ کوئی نظام قابل قبول نہیں جو ان کی خواہشات کی عکاس ہو ¾ جو قانون کی حکمرانی یقینی بنائے اور جس میں یہ گنجائش موجود ہو کہ حکومت جب بھی مقبولیت کھو بیٹھے یا ملک کے مفادات کے لئے خطرہ بن جائے تو اسے ختم اور تبدیل کرنے کے لئے کسی معجزے کا انتظار نہ کرنا پڑے۔
مگر اس امر میں بھی سو فیصد صداقت ہے کہ جو جمہوریت اب تک 1973ءکے آئین نے ہمیں دی ہے ` اس میں ملک کے امرا کا مخصوص گروہ پوری قوم کے مقدر کا مختار بن جایا کرتا رہا ہے۔اور قوم کو ایسی قیادت ملی ہے جو ان کی منشا اور خواہشات کی عکاس ہونے کی بجائے ` جوڑ توڑ کا نتیجہ رہی ہے۔
اگر یہ کہا جائے تو بے جانہ ہوگا کہ 1973ءکا آئین نہ صرف یہ کہ قوم کو ایک نمائندہ مستحکم حکومت دینے میں ناکام رہا ہے بلکہ یہ بھی کہ اس کی وجہ سے قوم اب تک ایسی فعال اور با اختیار قیادت سے محروم رہی ہے جو ملک کے پیچیدہ مسائل کا حل آہنی ارادے کے ساتھ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔
بات جب بھی 1973ءکے آئین کی ہوتی ہے تو میرا ذہن فرانس کے اس آئین کی طرف جائے بغیر نہیں رہتا جس کا آخری وزیراعظم گائی مولے تھا اور جس نے فرانس کو عدم استحکام اور زوال کی تصویر بنا دیا تھا۔ اس آئین کی جگہ پھر اس آئین نے لی تھی جس کی رو سے جنرل ڈیگال نے دس برس تک فرانس پر حکومت کی تھی او ر فرانس کو یورپ کا مرد آہن بنا دیا تھا۔
پاکستان کو اس آئین سے نجات حاصل کیسے ہوگی جس میں امرا شاہی کے تسلسل کی ضمانت تو موجود ہے مگر عوام کے مسائل کا کوئی حل موجود نہیں؟
کہنا میں یہ چاہتا ہوں کہ پاکستان کو ڈیگال کی ضرورت جتنی آج ہے اتنی کبھی نہیں تھی۔ اور ڈیگال نے اقتدار فوج کی مداخلت کے ذریعے حاصل نہیں کیا تھا۔
(یہ کالم26-08-2011کو بھی شائع ہوا تھا ۔ پاکستان جہاں تب کھڑا تھا وہاں اب بھی کھڑا ہے)

Scroll To Top