سرزمین پاک پر ایک بار پھر دہشتگردی کا وار

ahmed-salman-anwer
پاکستان کا مغربی حصہ ایک بار پھر دہشتگردی کی لپیٹ میں ہے۔ پارا چنار کے طوری بازار میں دو دھماکوں میں شہید ہونے والے افراد کی تعداد 45ہو گئی، 200 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔پارا چنار میں تین منٹ کے وقفے سے دو دھماکے ہوئے، پہلے دھماکے کی آواز سن کر لوگ پہنچے تو دوسرا دھماکا کردیا گیا، گونج دس سے پندرہ کلومیٹر دور تک سنی گئی۔اس اندوہناک واقعہ پر پوری قوم سوگوار ہے۔
بلوچستان اور افغانستان کے راستے بھارت پاکستان کے اندورنی معاملات میں مداخلت کرتا رہا ہے اور پاکستان میں دہشتگردی میں کہیں نہ کہیں را کا ہاتھ ضرور نظر آتا ہے اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے انکار مشکل ہے۔افغانستان میں بھارت کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ خطے کے امن کے لئے خطرہ ہے۔افغانستان میں پاکستان مخالف جذبات بھڑکانے میں بھارت ملوث ہے۔ کابل میں پاکستان مخالف پروپیگنڈے کے لئے فنڈنگ باہر سے آرہی ہے۔بھارت پاکستان میں دہشتگردوں کی افغانستان کے راستے ٹرانسپوٹیشن اور فنڈنگ کرتا ہے .
فروری 2017 میں انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا ہے کہ گزشتہ چند سالوں سے بھارت افغانستان اور اسرائیل پاکستان کو اندرونی سطح پر دہشتگردی کرکے کمزور کرنے کی سازش میں ملوث ہیں۔انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا ہے کہ گزشتہ چند سالوں سے بھارت افغانستان اور اسرائیل کی خفیہ ایجنسیاں را، این ڈی ایس اور موساد پاکستان میں دہشتگرد کارروائیاں کر رہی ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں افغانستان کی خفیہ ایجنسی این ڈی ایس ،اسرائیل کی موساد اور بھارتی خفیہ ایجنسی را مقامی سہولت کاروں کی مدد سے بم دھماکوں میں ملوث ہیں جو کہ انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان میں موجود بھارتی قونصل خانوں میں خودکش دھماکوں سمیت دہشتگردی کی باقاعدہ تربیت دی جاتی ہے۔خود کش بم دھماکوں میں استعمال ہونے والے افغانی نو عمر بچوں کو دیہی علاقوں سے جہاد کے نام پر بھرتی کرکے دھماکے کروائے جاتے ہیں۔علاوہ ازیں تینوں خفیہ ایجنسیوں نے پاکستان کے اندر سینکڑوں ایسے گروپ بنا رکھے ہیں جو بے روزگار اور جرائم پیشہ افراد کا ڈیٹا اکٹھا کرکے ہیڈ کواٹرز روانہ کرتے ہیں۔ سپہ سالار پاکستان نے افغانستان سے اپنی سرزمین پر پلنے والی دہشتگردی کے خلاف سنجیدہ کوششوں کا مطالبہ کیا ہے۔
جبکہ امریکہ ایک بار پھر پاکستان میں ڈرون حملے کے لیے پر تول رہا ہے۔ قبائلی علاقوں میں ایک عشرے سے جاری شورش ، ناقص سہولیات اور محدود سیاسی و سماجی اختیارات نے پہلے عدم تحفظ و محرومیت کو جنم دیا اور پھر کچھ نا دیدہ وقوتوں نے انہی لوگوں کو استعمال کر لیا۔امریکی ڈرون حملوں میں دہشت گردوں کے ساتھ ساتھ جب معصوم شہری بھی مارے جاتے ہیں تو بدلے کی چنگاری جنم لیتی ہے اور ایک مرتبہ پھر نا دیدہ طاقتیں اپنے مقاصد کےلئے اس چنگاری کو سلگاتی ہیں جسکا نتیجہ آخرکار دہشت گردی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔اس ساری صورتحال کو دیکھتے ہوئے دہشت گردی کا الزام یکمشت بھارت و افغانستان پر عائد کرنا حقائق سے پہلو تہی کرنے کی مترادف ہے۔
گرچہ دہشت گردی کی حالیہ لہر نے سکیورٹی اداروں کو مزید چوکنا کر دیا ہے اور ملک کے طول وعرض میں کومبنگ آپریشن بھی شروع ہو چکے ہیں تاہم اس جنگ کو جیتنے کےلئے اصل مسائل کو دیکھنا ہو گا۔ ایسے افراد، مدارس اور پالیسیوں کی بیخ کنی کرنی ہو گی جو نیشنل ایکشن پلان پر صحیح معنوں میں عمل نہیں کرنے دے پا رہے۔ اچھے برے طالبان کی تمیز بھی دہشت گردی کا قلع قمع کرنے میں رکاوٹ کا باعث ہے۔ پاکستانی سیاسی اور عسکری پالیسی سازوں کو اب یہ بات بھی سمجھنی ہو گی کہ افغانستان حکومت سے تعلقات کو منقطع کرنا مسئلے کا حل نہیں ہے بلکہ دہشت گردی کی لعنت سے چھٹکارا دوطرفہ تعاون اور باہمی مشاورت سے ہی ممکن ہو سکے گا۔
یہاں ایک اور بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان، افغانستان، انڈیا، ایران اور چین ایک ہمسائیگی کا حصہ ہیں اور اگر ہمارے گھر میں آگ لگے گی تو نقصان پڑوسی کو ضرور پہنچے گا۔ اگر افغانستان اور انڈیا کے خفیہ ادارے یہ سمجھتے ہیں کہ وہ دوسرے کے گھر میں آگ لگا رہے ہیں تو میرا خیال یہی ہے کہ وہ اپنے ہی گھر میں آگ لگا رہے ہیں۔
ا

Scroll To Top