اللہ کی جماعت اور ہمارے دانشور

aaj-ki-baat-new-21-aprilاِسے ایک کہانی سمجھ کر پڑھیں۔ صرف اس کے کردار حقیقی ہیں۔ اِ س کہانی کو میرا قلم بار بار دہرا چکا ہے۔ اور میرے شعور نے ، میری آنکھوں نے اور میرے کانوں نے بار بار اس کہانی کو عملی زندگی میں حقیقت کا روپ دھارتے دیکھا ہے۔

ابراہم لنکن کا نام آپ کے لئے نامانوس نہیں ہو سکتا۔ امریکہ کا وہ صدر جس کے عہد میں امریکہ کی سِول وار لڑی گئی اور لاکھوں جانوں کی قربانی کے بعد امریکہ نے اپنی دائمی شناخت حاصل کی۔”دائمی“ لفظ کا غلط مطلب نہ لیا جائے۔ ہم جن چیزوں کو ”دائمی“ سمجھا کرتے ہیں وہ ہوا بن کر اُڑ جایا کرتی ہیں یا مٹی بن کر ہمارے قدموں کے تلے دفن ہو جاتی ہیں۔ پہلے سکندر ِاعظم نے اپنے سپہ سالار سے کہا تھا۔ ”سیلوکس۔ ہمارے قدموں کے نیچے نہ جانے کتنے سکندر دفن ہیں!“۔۔۔ پھر یہی بات ڈیگال نے 1966ءمیں یہ کہہ کر دہرائی۔ ”کون کہہ سکتا ہے کہ جہاں میں کھڑا ہوں وہاں کتنے ایسے رجال دفن ہیں جو سمجھتے تھے کہ اُن کے بغیر دنیا نہیں چلے گی۔ فرانس مجھ سے پہلے بھی موجود تھا اور میرے بعد بھی موجود رہے گا۔“
لیکن یہ کہانی ابراہم لنکن کی ہے جس سے اپنے عہد کے ایک بڑے صنعت کار اور بزنس مین نے ملاقات کا وقت مانگا۔
ملاقات ہوگئی۔ ابراہم لنکن نے ابتدائی رسمی گفتگو کے بعد پوچھا۔
”آپ نے کیسے یاد فرمایا؟“
”جس ریلوے لائن کی تعمیر کا اشتہاردیا گیا ہے ، میں چاہتا ہوں کہ اس کے ساتھ میرا اور میرے گروپ کا نام منسلک ہو۔ “بزنس میں نے کہا
”آپ کی پیشکش قانون کے مطابق دوسروں سے بہتر ہوئی تو آپ کی یہ خواہش پوری ہو جائے گی“
ابراہم لنکن نے جواب دیا۔
µ¿” میں اِن رسمی مراحل سے گذرے بغیر یہ ٹھیکہ حاصل کرنا چاہتا ہوں۔“بزنس مین نے کہا۔
”یہ کیسے ممکن ہے جناب؟“ ابراہم لنکن نے جواب دیا۔
”ناممکن کو ممکن بنانا آپ کے اختیار میں ہے اور اگر یہ اختیار آپ میرے حق میں استعمال کریں گے تو میں اسے بہت بڑا احسان سمجھوں گا۔ احسان کی کوئی قیمت نہیں ہوتی، پھر بھی میری طرف سے یہ حقیر نذرانہ حاضر ہے۔“ بزنس مین نے کہا
”یہ کیا ہے؟“ ابراہم لنکن نے پوچھا۔
”دس ہزار ڈالر۔ اگر یہ ناکافی ہوں تو میں رقم دگنی کر سکتا ہوں۔“ بزنس مین نے کہا۔
”واقعی؟“ ابراہم لنکن نے ہلکا سا قہقہ لگایا۔
”میں اسے دس گنا بھی کر سکتا ہوں۔“ بزنس مین بولا۔
”یقینا کر سکتے ہوں گے۔ آپ کا شمار امریکہ کے امیر ترین لوگوں میں ہوتا ہے۔ “ ابراہم لنکن نے کہا۔
”میں اس رقم کو سو گنا بھی کر سکتا ہوں۔“بزنس مین بولا۔
”مجھے معلوم ہے کہ آپ کر سکتے ہیں۔ “ابراہم لنکن نے مسکراتے ہوئے بڑی نرمی سے کہا۔
بزنس مین اسی طرح اپنی پیشکش بڑھاتا رہا
جب پیشکش”پانچ سوگنا“ تک پہنچی تو
اچانک ابراہم لنکن کا رنگ غصے سے سرخ ہوگیا۔
اس نے اٹھ کر گارڈز کو آواز دی
”اِس شخص کو یہاں سے لے جاو¿۔۔۔“
جب گارڈز بزنس مین کو باہر لے جارہے تھے تو اس نے پلٹ کر ابراہم لنکن سے کہا۔۔
”آپ اِتنی دیر سے میری باتیں متانت اور خوش اخلاقی سے سن رہے تھے۔ یہ اچانک غصہ کیوں آگیا۔؟“
”دنیا میں کوئی شخص ایسا نہیں ہوتا جس کی قیمت نہ ہو۔ تم میری قیمت کے قریب پہنچتے چلے جارہے تھے۔ میں نے اچانک سوچا کہ اس سے پہلے کہ تم وہاں پہنچ جاو¿ تمہیں یہاں سے نکال دیا جانا چاہئے۔۔۔“ ابراہم لنکن نے جواب دیا۔۔۔
یہ کالم پہلے بھی 05-07-2011کو شائع ہو چکا ہے)

Scroll To Top