دو سوچوں کا تصادم ' پہلے چھتری ترقی پسندی کی تھی اب ڈالروں کی ہے

aaj-ki-baat-new-21-aprilگزشتہ روز میری ملاقات تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے ہوئی ۔ قومی سیاست میں آج کل جو بھونچال آیا ہوا ہے اس پر تبادلہءخیال ہوا۔ میں ایم کیو ایم اور مسلم لیگ (ن)کی ممکنہ مفاہمت کے بارے میں ان کی رائے معلوم کرنا چاہتا تھا مگر میرے سوال سے پہلے انہوں نے سوال کردیا۔
” بھائی نصرت جاوید ہاتھ دھوکر میرے پیچھے کیوں پڑا ہوئے ہیں؟“
” اگر آپ کا اشارہ روزنامہ ایکسپریس میں شائع ہونے والے ان کے آج کے کالم کی طرف ہے تو ہر کالم نگار اور تجزیہ کار کو پورا حق ہے کہ آپ کے یا کسی اور کے بارے میں کوئی بھی رائے رکھے اور اس کا بے لاگ اظہار کرے۔“ میں نے جواب دیا۔
” ±مجھے ان کے اس حق پر کوئی اعتراض نہیں۔ “ عمران خان نے جواب دیا۔ ” مگر اپنا یہ حق میرے خلاف وہ اتنی کثرت کے ساتھ کیوں استعمال کررہے ہیں۔۔۔؟ اپنے پروگرام میں بھی وہ کسی نہ کسی بہانے مجھے زیر بحث لے آیا کرتے ہیں اور کھل کر زہراگلتے ہیں۔“
” زہر وہ آپ کے خلاف نہیں اگلتے اور نہ ہی آپ کے ساتھ ان کی کوئی دشمنی ہے ۔“ میں نے جواب دیا۔ ” زہر وہ اسلام کے خلاف اگلنا چاہتے ہیں مگر اگلنے کا حوصلہ نہیں ۔ دشمنی ان کی نظریہءپاکستان کے ساتھ ہے جس کے اظہار کے لئے وہ کوئی نہ کوئی علامتی ہدف تلاش کرلیا کرتے ہیں۔“
” مگر ہماری جماعت تو اعتدال پسند ہے۔“ عمران خان نے بڑی معصومیت کے ساتھ کہا۔
” ہمارے لبرل سیکولر اور لادین دانشوروں کی نظروں میں اعتدال پسندی نام کی چیز کا کوئی وجود نہیں ۔“ میں نے جواب دیا۔ ” جس طرح جار ج بش نے کہا تھا کہ جو ملک امریکہ کے ساتھ نہیں انہیں امریکہ کے خلاف سمجھا جائے گا ' اسی طرح ہمارے یہ روشن خیال اور کشادہ نظر دانشور یہ کہتے ہیں کہ جو لوگ ان کے ساتھ نہیں یعنی جو لبرلزم سیکولرزم لادینیت اور روشن خیالی کے سفر میں ان کے ہم رکاب نہیں ' ان کا شمار وہ رجعت پسندوں اسلامی بنیاد پرستوں اور دشمنانِ ترقی میں کریں گے۔ آپ جس کثرت سے اسلام اور اپنی محمدی شناخت کا ذکر کرتے ہیں اس کے بعد آپ یہ توقع نہ رکھیں کہ روشن خیالی لبرلزم اور اسلام کو ترقی کی راہ میں بھاری پتھر سمجھنے والی سوچ کے یہ علمبردار آپ کے بارے میں نیک خواہشات رکھیں گے۔“
میری یہ بات سن کر عمران خان مسکرائے ۔ اور بولے ۔
” مجھے اس تنقید کا ذرا برابر بھی ملال نہیں جو یہ لوگ مجھ پر کرتے ہیں۔ دکھ مجھے اس بات کا ہے کہ وہ اپنے مخصوص طور طریقوں اور انداز ہائے معاشرت کو جائز قرار دلوانے کے لئے اپنی قومی شناخت کا چہرہ مسخ کیوں کرتے رہتے ہیں۔اگر ہم مسلمان ہیں تو ہیں۔ اگر نہیں ہیں تو نہیں ہیں۔۔۔“
عمران خان کے ساتھ ہونے والی اس گفتگو کو میں نے اپنے آج کے کالم میں اس لئے درج کیا ہے کہ حالات و واقعات اور قرائن بتا رہے ہیں کہ ہمارا ملک بڑی تیزی کے ساتھ دو متحارب سوچوں کے اس تصادم کی طرف بڑھ رہا ہے جس سے ہمارے سیاست دان اور اہل فکر ایک عرصے سے نظریں چرا رہے ہیں۔ سیموئل ہنٹٹنگٹن نے 1990ءکی دہائی میں جو کتاب لکھی تھی اس کا عنوان تھا۔ Clash of Civilizationsیعنی تہذیبوں کا تصادم۔ اس عنوان کے کچھ سیاسی مقاصد تھے جن کا تعین واشنگٹن کے حکمت سازوں نے سوویت یونین اور کمیونزم کو شکست دینے کے بعد کیا تھا۔ یہ مقاصد مغربی ایشیا اور مشرقی وسطیٰ میں امریکہ کے جارحانہ عزائم کے عملی اظہار کے ساتھ ہی کھل کر سامنے آنا شروع ہوگئے تھے۔ ان مقاصد کی تکمیل کے لئے واشنگٹن کے کچھ کرشمہ ساز دماغوں نے اسلام کو انتہا پسندی کے ساتھ نتھی کرکے اسے دہشت گردی اور خون ریزی کا ایک ” محرک سبب“ قرار دیا۔ اور پھر ”دہشت گردی کے خلاف جنگ “ کی ترکیب ایجاد کرکے مسلمانان عالم کو اس شش و پنج میں مبتلا کردیا کہ وہ احیائے اسلام کو اپنی منزل بنا کر دہشت گرد کہلانے کا خطرہ مول لیں یا نہ لیں۔
یہ موضوع بڑی مفصل بحث کا متقاضی ہے۔ یہاں میرا مقصد ” تہذیبوں کے تصادم “ کے تصور کے پس منظر میں اس کشمکش اور آویزش کو سمجھنا اور سامنے لانا ہے جو ہمارے معاشرے کو سیاسی طور پر منقسم کررہی ہے۔ میری رائے میں ایک غیر علانیہ جنگ شروع بھی ہوچکی ہے۔ یہ جنگ دو سوچوں کے درمیان ہے۔ ایک سوچ وہ ہے جس کے علمبردار ” نظریہ پاکستان “ کو تمسخر و تضحیک کا نشانہ بنانے میں پیش پیش رہے ہیں اور آج بھی پیش پیش ہیں۔ پہلے وہ ” قرارداد مقاصد “ کو ” نشانہ تضحیک“ بنانے میں احتیاط برتا کرتے تھے مگر اب وہ کھل کر کچھ اس قسم کی موشگافیاںکررہے ہیں کہ محمد علی جناح کے ” سیکولر تصورِ پاکستان “ کو” ملاﺅں“ نے ہائی جیک کرکے اسے خدا کی حاکمیت اور شرعیت کے نفاذ کا لبادہ پہنا دیا۔ اس سوچ کے علمبردار ماضی میں سوویت یونین سے درآمد شدہ ” ترقی پسندانہ افکار “ کے پرچم تلے مورچہ بند رہا کرتے تھے۔ مگر آج انہیں امریکہ نے ڈالروں کی چھتری فراہم کردی ہے۔ ساتھ ہی انہیں ایسی کمین گاہیں اور ایسے مورچے بھی مہیا کردیئے ہیں کہ وہ نڈر ہو کر ” اسلام “ کو للکارنے کی پوزیشن میں آگئے ہیں۔ بظاہر ان کا کام یوں آسان ہوگیا ہے بلکہ کردیا گیا ہے کہ اسلام کے نام پر کچھ ایسی وحشیانہ اور خون آشام دہشت گردی فروغ پا رہی ہے کہ عام راسخ العقیدہ مسلمان بھی اسلام کا نام لینے سے جھجک محسوس کرتے ہیں ۔ اس خوف سے کہ کہیں ان پر طالبان القاعدہ یا دہشت گردی کا لیبل نہ چسپاں کردیا جائے۔
دوسری سوچ وہ ہے جس کے علمبردار اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ قرآن پاک ایک الہامی کتاب ہے۔ اس کا نزول ساتویں صدی عیسوی میں آنحضرت پر ہوا تھا اور اس کے نتیجے میں اسلام کو بنی نوع انسان کے لئے خدا کا آخری دین اور آخری اور حتمی نظام قرار دیا گیا۔
اس سوچ کے علمبرداروں کا ایمان ہے کہ چونکہ قرآن آئینِ الٰہی ہے اور اس آئین کی رو سے روئے زمین پر حتمی حاکمیت قادر مطلق کی ہے ' اس لئے ان پر واجب ہے کہ وہ اسلام کے نام پر حاصل کئے گئے اس وطن ۔۔۔ توحید و رسالت پر ایمان رکھنے والوں کی اس مملکت میں وہی نظام قائم کریں اور رائج کریں جس کے قیام اور جس کی ترویج کے لئے آنحضرت نے 622ءمیںہجرت کے اس عظیم سفر کا آغاز کیا تھا جس نے دنیا کی تاریخ تبدیل کرڈالی۔
تو یہ جنگ دو سوچوں کے درمیان ہے۔
عمران خان کو نصرت جاوید اور نجم سیٹھی جیسے ” صاحبانِ فکر“ سے کوئی گلہ نہیں ہونا چاہئے۔
مسلمانوں نے پاکستان بنایا۔ اسلام نے مسلمانوں کو مسلمان بنایا۔ اسلام مسلمان اور پاکستان ایک دوسرے سے الگ کیسے کئے جاسکتے ہیں۔۔۔
(یہ کالم پہلے بھی03-07-2011کو شائع ہو چکا ہے)

Scroll To Top