پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنیوں کا سنڈیکیٹ اور مافیاﺅں کا میدان جنگ

aaj-ki-baat-new-21-april(یہ کالم میں نے آج سے چھ سال قبل لکھا تھا۔۔۔ آج کے حالات کو سامنے رکھ کر پڑھئے)
معاشرے میں خرابی بگاڑ انحطاط تنزل اور بدقماشی حد سے بڑھ جائے تو اصلاح کا عمل ناگزیر ہوجایا کرتا ہے۔ یہی قانونِ قدرت ہے۔ اور قدرت اپنے اس قانون پر عمل کے لئے صدیوں تک پیغمبر دنیا میں بھیجتی رہی۔الہامی کتابیں آئیں۔ مذاہب نے جنم لیا ۔ تا آنکہ آنحضرت کے ورود مسعود کے ساتھ قدرت کی طرف سے ہدایت اور صراطِ مستقیم پر چلنے کا عمل مکمل ہوگیا۔ اس کا مطلب یہ نہیں خرابی کے پیدا ہونے ` بگاڑ اور انحطاط کے فروغ پانے اور بدقماشی کے حاوی ہوجانے کا سلسلہ ختم ہوگیا۔ مطلب اس کا یہ ہے کہ خداوند کریم نے قرآن پاک دینِ اسلام اور آنحضرت کی ذات مبارکہ کو ہدایت اصلاح اور راست روی کا سرچشمہ قرار دے کر یہ بات نسلِ آدم پر چھوڑ دی کہ وہ اپنی اصلاح خود کرے۔ ساتھ ہی بنی نوع انسان پر یہ بات بھی واضح کردی کہ اس کے معاشرے پر صرف ابلیس اور اس کی چھوڑی ہوئی قوتوں کا ہی حملہ نہیں ہوگا ` ایسے منافقین بھی حملہ آور ہوں گے جو دکھاوے کے لئے صالحین اور مومنین کا لبادہ اوڑھیں گے مگر اصل میں شیطان کے ایجنڈے کو ہی آگے بڑھائیں گے ۔
آج کے پاکستان پر ابلیسی قوتیں براہ راست حملہ آور تو ہیں ہی ۔۔۔ مگر منافقین کے ایسے گروہ بھی حملہ آور ہیں جن کا ظاہر صالحین اور مومنین جیسا ہے مگر جنہوں نے اپنا باطن ابلیس کے حوالے کررکھا ہے۔
اورہمارا چیلنج یہ ہے کہ طاغوتی طاقتوں کے بچھائے ہوئے اس اندھیرے میں روشنی ہمیں خود اپنے عمل سے پیدا کرنی ہے اور اس روشنی میں تاریکی کے غار سے نکل کر اپنی منزلوں کی طرف بڑھنا ہے۔
جو لوگ پاکستان کو علاقائی لسانی اور نسلی شناختوں میں تقسیم دیکھنا چاہتے ہیں اور ” پاکستانیت“ کی شناخت کو صرف ایک رسمی مجبوری کے طور پر قبول کئے ہوئے ہیں انہیں شکست دینا ان تمام لوگوں کا فرضِ اولین ہو گا جو اس سرزمین کو احکامات ِخداوندی اور تعلیماتِ رسولِ عربی کے مطابق حقیقی معنوں میں ”پاک“ ستان بنانا چاہتے ہیں۔
المیہ یہ ہے کہ اس وقت ملک میں کوئی ” بڑی“ جماعت ایسی نہیں جو پاکستان کو حقیقی معنوں میں اسلامی فلاحی مملکت بنانے کا عزمِ صمیم لے کر میدان میں اترے اور اس عظیم مقصد کے راستے میں حائل تمام دیواریں گرادے۔ سب سے بڑی دیوار جو اس سرزمین کو حقیقی معنوں میں مملکتِ خداداد پاکستان بنانے کے راستے میں کھڑی ہے وہ 1973ءکا آئین ہے جو بنیادی طور پر ہمیں منقسم رکھنے کی ایک دستاویز ہے۔
کیا یہ حقیقت نہیں کہ ایک طرف تو پاکستان کو چار پانچ ایسی سیاسی جماعتوں کا سنڈیکیٹ بنا دیا گیا ہے جو پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنیوں کے انداز میں کام کرتی ہیں ` اور دوسری طرف ملک کو علاقائی مافیاﺅں میں تقسیم کردیا گیا ہے ؟

Scroll To Top