افغانستان میںمزیدچار ہزار امریکی فوجی

zaheer-babar-logoامریکہ نے چار ہزار اضافی فوج افغانستان میں بھیجنے کا اعلان کردیا ہے۔ٹرمپ انتظامیہ کے ایک عہدیدار کے مطابق سیکرٹری دفاع جم میٹس کے اس فیصلے کا اعلان اگلے ہفتے کے شروع میں متوقع ہے۔ سفارتی اور دفاعی حلقوں کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ کا افغانستان میں فوجیوں کی تعداد بڑھانے کا مقصد ایک طرف کمانڈروں کے مطالبہ کو پورا کرنا ہے تو دوسری جانب خطے میں فوجی طاقت کو بڑھانا ہے۔
بعض حلقے افغانستان میں امریکی افواج کی تعداد میں اضافے کو خطے کے لیے خطرے کی گھنٹی قرار دے رہے ۔ ٹرمپ اور اوبامہ انتظامیہ میںایک فرق یہ بھی ہے کہ نئے امریکی صدر مفادات کے حصول کے لیے کسی طور پر طاقت کے استمال سے گزیراں نہیں۔ اس سلسلے میں ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دورہ سعودی عرب واضح مثال کی صورت میں موجود ہے۔ دنیا میںامن قائم کرنے کے نام پر ڈونلڈ ٹرمپ نے نہ صرف مسلم ممالک کو ایک دوسر ے کے خلاف صف آرا ءکردیا بلکہ ایک دوسرے کے حریف سمجھے جانے والے ممالک کو بیک وقت امریکی اسحلہ کا خریدار بنا لیا۔ اس پس منظر میں تاحال واضح نہیںکہ مشرق وسطی کا بحران آنے والے دنوں میں کیا شکل اختیار کریں گا۔ دنیا کی اکلوتی سپرپاور ہونے کی دعویدار ریاست پر ٹرمپ کی شکل میں ایسی شخصیت مسلط ہوچکی جس سے کچھ بھی غیر متوقع نہیں ۔
خارجہ محاز پر کسی صورت بھی سب اچھا نہیں۔امریکہ ، بھارت اور افغانستان کا پاکستان مخالف غیر اعلانیہ اتحاد نیک شگون نہیں۔ تشویشناک پہلویہ ہے کہ ارباب اختیار کو اس بدلی ہوئی صورت حال کا نہ ادارک ہے اور نہ پرواہ ۔ حزب اقتدارکے ساتھ ساتھ حزب اختلاف بھی اپنی ان زمہ داریوںکا احساس کرنے کو تیار نہیں جو آئینی، قانون اور اخلاقی طور پر اس کے سر ہیں۔ ملک کے اندار پانامہ لیکس اور اس کے نتیجہ میں بنے والی جے آئی ٹی ہی موضوع بحث ہے۔ پرنٹ الیکڑانک میڈیا کے کرتا دھرتا افراد عملا ان خطرات سے لاتعلق ہیںجو مختلف شکلوں میں مملکت خداداد کو گھیرے ہوئے ہیں۔ آئیڈل صورت حال تو یہ تھی کہ پارلمینٹ میں ان مسائل پربحث کی جاتی ۔ وزارت خارجہ اور قومی سلامتی کے اداروں کے نمائندے بریفنگ دیتے اور پھر اس کے نتیجے میںکوئی لائحہ عمل مرتب کیا جاتا مگر افسوس ایسا نہیں ہورہا۔
ایک خیال یہ ہے کہ چیلنجز اندرونی ہو یا بیرونی حکومت نے تمام تر بوجھ دفاعی اداروں کے سر ڈال رکھا ہے۔ اپنے طرزعمل سے یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ دراصل عسکری قیادت ہی خارجہ امور بارے حتمی فیصلے کررہی۔ پوچھا جانا چاہے کہ جب اختیارات استمال کرنے کے حوالے سے خلا موجود ہوگا تو کوئی نہ کوئی تو اسے آکر پر کریگا۔ دراصل وفاقی اورصوبائی حکومتیں کسی ایک شبعہ میں بھی ایسی کارکردگی نہیں دیکھا سکیں جسے حقیقی معنوں میںمتاثر کن کہا جاسکے۔ تعلیم ، صحت ، پینے کا صاف پانی ، مہنگائی کنڑول کرنا، ٹریفک حادثات کم کرنے غرض ہر ایک شبعہ انحاط پذیر ہے۔ پاکستان ریلوے اور پی آئی اے کی حالت زار کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ ایسے میں سیاسی قیادت سے علاقائی اور عالمی مسائل پر کامیاب حکمت عملی کی توقع رکھنا خود فریبی کے سوا کچھ نہیں۔
ہم سب جانتے ہیں کہ ملک بھر میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات میں کمی بھی سیکورٹی اداروں کی بھرپور کاروائیوں کے نتیجے میں کم ہوئیں۔ پولیس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا مطالبہ سالوں سے جاری ہے مگر برسر اقتدار شخصیات سے ٹس سے مس ہونے کا نام نہیں لے رہیں۔ نیشنل ایکش پلان پر عمل درآمد پر تاحال اس کی روح کے مطابق عمل درآمد نہیں کیا جاسکا۔ ڈنگ ٹپاو کی حکمت عملی پی پی پی کے پانچ سالہ دور میں جاری رہی تو اسی پر پی ایم ایل این کی قیادت بھی برسر پیکار ہے۔
منتخب حکومت کے چار سال مکل ہوچکے مگر سنجیدگی کا عالم یہ ہے کہ ایک وزیرخارجہ کا تقرر نہیں کیا جاسکا۔ وزارت خارجہ کا قلمدان وزیراعظم نوازشریف کے اپنے پاس ہے لہذا ناکامیوں کی زمہ داری بھی انھیںکھلے دل سے قبول کرنا ہوگی۔ ملکی خارجہ پالیسی کی اب تک ایک کامیابی پر ہی پھولے نہیںسمایا جارہا اور وہ ہے سی پیک اس کے علاوہ خارجہ امور کے کرتا دھرتا حضرات نے ملک کے لیے کیا کچھ کیا معلوم نہیں۔
کہا جاتا ہے کہ دوست تو بدلے جاسکتے ہیں پڑوسی نہیں۔ بھارت تو ہمارا روایتی حریف تھا ہی اب اس فہرست میں افغانستان ،ایران اور بنگہ دیش بھی شامل ہونے کے لیے پر تول رہے ہیں۔ دوسری طرف سیاسی تجزیہ نگاروں اور دانشوروں کی بڑی تعداد خرابیوں کی تمام تر زمہ داری بھارت پر عائد کرکے خود سرخرو ہونے کے جتن کرررہی۔ پوچھاجانا چاہے کہ بھارت سے خیر کی توقع ہی کب تھی۔ دشمن ملک یہ توقع رکھنا حماقت کے سوا کیا کھلائے گا کہ وہ ہماری مشکلات میں اضافہ نہیںکریگا۔
حکومت کا فرض ہے کہ وہ اپنے بنیادی فرائض سے کسی طور پر غفلت کا مظاہر ہ نہ کرے ۔ جے آئی ٹی کی شکل میںاگر کوئی مشکل اسے درپیش ہے تو اس کے نتیجے میں اپنی دوسری زمہ داریوں سے کسی صورت پہلو تہی نہیںکرنا چاہے۔ پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلزپارٹی کی بھی قومی زمہ داری ہے کہ وہ ارباب اختیار کو ان کے فرائض منصبی یاد کرواتے رہیں۔یاد رکھا جائے کہ ہم کسی طور پر اپنے مسائل میںاضافے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ لازم ہے سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ان مسائل پر قابو پانے کی حکمت عملی وضع کی جائے جو آج مختلف شکوں میں ہمارے سروں پر منڈلا رہے۔

Scroll To Top