تاریخ کیسے رقم ہوگی ۔۔۔۔۔

zaheer-babar-logoبظاہر وزیراعظم پاکستان کی جے آئی ٹی میں پیشی سے کہیںبڑھ کر لکھی ہوئی وہ تقریر قابل زکر رہی جو انھوں تین گھنٹے جوڈشیل اکیڈمی گزار کر ٹی وی کیمروں کے سامنے آکر پڑھ ڈالی۔ میاں نوازشریف کا کہنا تھا کہ وہ زمانہ گزر گیا جب سب کچھ پردوں کے پچھے چھپا رہتا تھا اب کٹھ پتلیوں کے کھیل نہیںکھیلے جاسکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کے فیصلوں کو روند کر مخصوص ایجنڈے چلانے والی فیکڑیاں بند نہ ہوئیں تو آئین اور جمہوریت ہی نہیں ملکی سلامتی بھی خطرے بھی پڑ جائیگی ۔ وزیراعظم نوازشریف نے یہ بھی کہا کہ انھوں نے جے آئی ٹی کے سامنے اپنا موقف پیش کردیا ۔ “
ادھر وزیراعظم پاکستان کی جے آئی ٹی میں پیشی کے بعد حکمران جماعت کی جانب سے تواتر سے ایک ہی جملے کا استمال جاری ہے کہ میاں نوازشریف نے قانون کے سامنے سرجھکا کر تاریخ رقم کردی ۔ اس کے برعکس قومی تاریخ سے شناسنا حلقے باخوبی آگاہ ہیںکہ اس سے قبل زوالفقار علی بھٹو ایک سے زائد مرتبہ عدالت میں پیش ہوچکے ۔ منتخب وزیراعظم ہونے کے باوجود زیڈاے بھٹو کو گرفتار کرکے نہ صرف عدالت میںپیش کیا جاتا رہا بلکہ ایک متازعہ مقدمہ میں انھیں سزائے موت دے دی گی۔ سید یوسف رضا گیلانی پاکستان پیپلزپارٹی کے منتخب وزیراعظم تھے جو نہ صرف سپریم کورٹ میں پیش ہوتے رہے بلکہ سوئس حکام کو خط نہ لکھنے کی پاداش میں انھیں وزرات عظمی کے منصب سے بھی ہاتھ دھونا پڑے۔ پی پی پی کے ایک اور وزیراعظم راجہ پرویز اشرف بھی سپریم کورٹ میںپیش ہوئے اور اپنا موقف بیان کیا۔
میاں نوازشریف کی جے آئی ٹی کے سامنے پیشی خوش آئند مگر مخالفین کے بعقول وزیراعظم پاکستان رضا کارانہ طور پر پیش نہیں ہوئے بلکہ جے آئی ٹی نے انھیں سمن جاری کیا۔ اس پس منظر میں معاملہ اس سے کہیں گنا زیادہ گھبیر ہے جس قدر دکھائی دے رہا۔ یا درہے کہ وزیراعظم پاکستان کے بچوں پر الزام ہے کہ انھوں نے کم عمری میں ہی جس طرح اربوں روپے کما لیے وہ مشکوک ہے۔ شریف فیملی کے لندن میں موجود فلیٹس بارے منی ٹریل کا پتہ بھی تاحال نہیں چلایا جاسکا۔ اس سلسلے میں حکومت کی جانب سے قطری خط بھی پیش کیا گیا جس کی صداقت پر تاحال سوالات اٹھائے جارہے۔ ادھر وزیراعظم پاکستان نے جوڈشیل اکیڈمی کے باہر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے ایک ایک پائی کا حساب دے دیا ۔
مسلم لیگ ن جے آئی ٹی سمیت دیگر اداروں کے بار ے جس جارحانہ حکمت عملی پر کاربند ہے وہ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی۔ بعض حلقوں کا دعوی ہے کہ جے آئی ٹی کو وزیراعظم پاکستان اور ان کے خاندان کی جانب سے کسی قسم کی منی ٹریل نہیں دی جارہی۔ حکمران جماعت سمجھتی ہے کہ سیاسی وقانونی جنگ کے نتیجے میں ان کا خاموش ہوجانا اس کی مشکلات میں اضافہ کریگا لہذا یہ خوش فہمی نہیںہونی چاہے کہ مسلم لیگ ن اپنی توقعات کے برعکس جے آئی ٹی کوئی بھی فیصلہ باآسانی قبول کرلے گی۔ آنے والے دن قومی سیاست میں محاذآرائی اور کشیدگی میں اضافہ کرسکتے ہیں۔ وزیراعظم پاکستان کا بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر قومی اداروں پر تنقید کرنا بتا رہا کہ پی ایم ایل این حالات کا رخ کس جانب کرنے کی متمنی ہے۔ یہ نقطہ سمجھ لینا ہوگا کہ آج انتشار حزب اختلاف کے ساتھ ساتھ حزب اقتدار کے لیے سازگار دکھائی دے رہا۔۔۔ حکمران جماعت بجا طور پر سمجھتی ہے کہ تیزی سے تبدیل شدہ صورت حال میں ان کے بچنے کا واحد امکان یہی ہے کہ متشرکہ تحقیقاتی ٹیم کی ساکھ پر ہی سوالات اٹھا دیے جائیں لہذا اب پانامہ لیکس کی تحقیق کرنے والے تین رکنی بینچ کو بھی کھلم کھلا نشانہ پر رکھا جائے۔
پی ایم ایل این اپنی چار سالہ آئینی مدت پوری کرچکی مگر پانچواں سال گزارنا اس کے لیے مشکل ہورہا۔ بیک وقت اپوزیشن جماعتوں اور ریاستی اداروں کے خلاف محاذ کھول کر ممکن نہیںکہ آئینی مدت کے آئندہ بارہ مہینے پر خاموشی سے گزر جائیں۔بلاشبہ سیاسی بے یقینی کو بہت دیر تک گوارہ نہیںکیا جاسکتا۔ حکومت کی مشکل یہ ہے کہ ایک طرف پانامہ لیکس کی شکل میں وہ مشکلات کا شکار ہے تو دوسری جانب عام آدمی کی زندگی میں بہتری لانے میں بھی اسے خاطرخواہ کامیابی نہ مل سکی ۔ گذشتہ چار سالوں میں سوائے میڑوبس اور سی پیک کے ایسا کوئی قابل زکر کام نہیںہوا جس سے باشعور پاکستانی پی ایم ایل این کی سیاسی” تجربہ کاری“ کو داد دے سکیں۔حیرت انگیز طورپر حکمران جماعت پینے کے صاف پانی سے لے کر تعلیم اورصحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی تک کچھ بھی بہتر نہ کرسکی۔ پنجاب کو مسلم لیگ ن کا گڑھ سمجھا جاتا ہے مگر خود صوبائی درالحکومت کے بعض علاقے اب بھی مسائل سے پر ہیں۔ یہ بھی سچ ہے کہ پانچ دریاوں کی سرزمین کا شائد ہی کوئی ایسا شہر ہو جہاںکے رہنے والوں کو تمام بنیادی ضروریات زندگی مہیا کردی گئیں۔
دوہزار تیرہ کے عام انتخابات میں پی ایم ایل این نے انتہائی مہارت سے سابق صدر زرداری کو کرپٹ سیاست دان کا لقب دے کر اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالے رکھا۔ خادم اعلی کا مینار پاکستان پر اجتجاجی کیمپ لگا کر پی پی پی حکومت کو ملامت کرنا کون بھول سکتا ہے مگر آج صورت حال الٹ ہوچکی۔ دراصل اہل سیاست کو سمجھ لینا چاہے کہ حالات کو بہتر بنانے کی زمہ داری ان ہی کے سر ہے لہذا اس کے لیے دوسروں کو الزام دینے کا چلن کسی طور پر تعمیری نہیں کہا جاسکتا۔

Scroll To Top