اگر یہ خواب ہے تو خواب سہی مگر۔۔۔ اب رہزنوں کا مسکن قصرِ سلطانی نہیں دار کا تختہ ہوگا۔۔۔۔

aaj-ki-baat-new-21-april(یہ کالم میں نے چھ برس قبل آج ہی کے روز لکھا تھا۔۔۔ آج کے حالات کو سامنے رکھ کر پڑھئے)

لفظ ” سوچ“ کا استعمال آج کل بڑی کثرت سے ہورہا ہے۔ چند روزقبل صدر زرداری نے فرمایا کہ ان کی جنگ ایک ” سوچ“ کے خلاف ہے۔ وہ ” سوچ“ جس کی وجہ سے محترمہ بے نظیر بھٹو کو جان سے ہاتھ دھونے پڑے یا جس کی وجہ سے گزشتہ چند برسوں میں چالیس ہزار کے لگ بھگ فرزندان و دختران ِپاکستان کے چراغ ہائے زندگی گل ہوئے۔ اگر صدر صاحب اس بات کی تشریح کردیتے کہ وہ اس لفظ (یعنی سوچ)کا استعمال کرتے وقت خطے میں امریکہ کی قابض افواج کو بھی ذہن میں رکھ رہے ہیں یا نہیں تو کوئی سوالیہ نشان پڑھنے اور سننے والوں کے ذہن میں نہ ابھرتا۔
” سوچ“ کا لفظ گزشتہ روز وزیراعظم گیلانی نے بھی استعمال کیاہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی ایک ” سوچ“ کا نام ہے۔ یقینا ایسا ہی ہوگا ۔ کیوںکہ سوچ ہوتی ہے تو آدمی وہ کچھ بنتا ہے جو بنتا ہے۔کبھی سپاہی بنتا ہے ` کبھی ڈاکٹر بنتا ہے ` کبھی جانور بن جاتا ہے اور کبھی ڈاکو بن کر اپنے ہی گھر ڈاکے ڈالتا ہے۔
تو میں یہاں ایک ایسی ” سوچ “ کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جس نے ساتویں صدی عیسوی کے اوائل میں سرزمین حجاز پر جنم لیا تھا جو کئی صدیوں تک دنیا کی حکمران سوچ رہی اور جو آج پھر اپنے وجود کے اظہار اور اثبات کے لئے ” مصروف جدوجہد“ ہے۔
اگر یہ ” سوچ“ ابھرنے میں کامیاب ہوگئی اور اس نے اپنی مخالف سوچوں کو مات دے کر میدان سنبھال لیا تو تازیانہ امیہ کے ہاتھ میں نہیں بلالؓ کے ہاتھ میں ہوگا۔۔۔ تو رہزنوں دغابازوں بدقماشوں اور بدکرداروں کا مقام قصرِ سلطانی نہیں ہوگا۔۔۔ دار کا تختہ یا پھانسی کا پھندا ہوگا۔بات بڑی سچی ہے کہ یہ جنگ افراد کے درمیان نہیں سوچوں کے درمیان ہے۔ ایک سوچ وہ ہے جو ایک تاریک رات کے اندھیرے میں ایک عظیم صبح کو دنیا کا مقدر بنانے کے لئے مکہ سے نکلی تھی۔۔۔ اور جس نے چند ہی برسوں میں روئے زمین کو اپنے نور سے نہلا دیا تھا۔۔۔ اور ایک سوچ وہ ہے جو غیروں کی غلامی کو اس عظیم قوم کا مقدر بنانا چاہتی ہے۔
دونوں سوچوں کے درمیان میدان جنگ ہنوز پوری طرح نہیں سجا۔۔۔مگر بدر کے کنوﺅں کو ان قدموں کی چاپ سنائی دینے لگی ہے جن کے مقدر میں زمین کا سمٹ جانا لکھا ہوتا ہے۔۔۔
اگر یہ خواب ہے تو خواب ہی سہی
بات بھی تو ” سوچ“ کی ہورہی ہے

Scroll To Top