وزارت ِعظمیٰ کے منصب کا تقاضا

zaheer-babar-logoیہ شاید وزیراعظم نوازشریف اور ملک دونوں کے لیے بہتر ہوتا کہ وہ جے آئی ٹی میں پیش ہونے سے قبل اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ۔اپوزیشن جماعتوں سمیت غیرجانبدار میڈیا کی غالب اکثریت یہ رائے رکھتی ہے کہ وزیراعظم پاکستان کو اپنے منصب کی لاج رکھنی چاہے تھی۔کم وبیش 35 سال سے ملکی سیاست رہنے اور تمام عرصہ اقتدار کے کیک میں سے قابل زکر حصہ وصول کرنے والی پارٹی سے سیاسی پختگی کی توقع کرنا ہرگز خلاف حقیقت نہیں۔ ہونا تو یہ چاہے کہ تیسری مرتبہ وزارت عظمی کے منصب پر فائز میاں نوازشریف اپنے طرزعمل سے تاریخ میں زندہ رہتے مگرافسوس ایسا نہ ہوسکا۔
ٹھیک کہا جاتا ہے کہ سیاست معاشرے ہی کا عکس ہواکرتی ہے۔ کسی بھی سماج میںجزیرہ نہیں بنا کرتے ، اچھائی اور برائی کا جو معیار معاشرہ عمومی طور پر قبول کرلیتا ہے وہ اہل سیاست کیا اہل مذہب کے رویوں میں بھی دکھائی دیتا ہے۔ وطن عزیز کا کوئی بھی باشعور شہری اس حقیقت سے صرف نظر نہیں کرسکتا کہ ہمارے ہاں پیسہ اکثریت کی کمزوری بن چکا۔بیشتر لوگ یہ سمجھنے کی زحمت گوارہ نہیں کرتے کہ مال حلال ہے یا حرام۔مذکورہ رائے کو اگر کچھ دیر کے لیے سچ سمجھ لیا جائے تو پھر یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں کہ بعض سیاسی وکاروباری شخصیات نے چند دہائیوں میں اربوں کھربوں روپے کیسے کمالیے۔
اہل فکر ونظر کا یہ کہنا غلط نہیںکہ اگر عوام کی اکثریت خود احتسابی کا رویہ اختیار کرتے ہوئے اپنے آپ کو بہتر بنا لے جو درپیش مسائل کے خاتمہ کا سلسلہ شروع ہوسکتا ہے مگر سوال یہ ہے کہ یہ ہوگا کیسے ؟۔عام پاکستانی یہ سمجھنے میں حق بجانب ہے کہ اس کی بقا وسلامتی اسی وقت ممکن ہے کہ یا تو وہ خود طاقتوربن جائے یا پھر کسی طاقتور کی سرپرستی میں پناہ میں آجائے۔
ایک خیال یہ ہے کہ سماج میں بے چینی واضطراب کی اہم وجہ انصاف کا نہ ہونا ہے۔ حالیہ سالوں میں درجنوں ایسی مثالیں دی جاسکتی ہیں جس میں نظام عدل اپنی زمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام ثابت ہوا ۔ پھر ناکامیوں کا زمہ دار محض عدالتوں کو قرار دینا بھی درست طرزعمل نہیں۔ پانامہ لیکس کی تحقیقات کے لیے بنائی جان والی جے آئی ٹی سے سرکاری ادارے جس قسم کا تعاون کررہے وہ ان حلقوں کی خوش فہمی دور کرنے کے لیے بہت کافی ہے جو محض عدالتوںکو انصاف فراہم نہ کرنے کا زمہ دار گردانتے ہیں۔
پانامہ لیکس جس طرح نظام انصاف کی بے بسی ظاہر کررہی اس سے یہ آشکار ہورہا کہ مملکت خداداد پاکستان میں ایسے افراد و گروہ پوری قوت سے موجود ہیں جو ریاستی قانون کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کی بجائے اسے تابعداربنانے کی روش پر گامزن ہیں۔
بظاہر معاملہ منتخب وغیر منتخب حکومت کی بحث سے آگے نکل چکا۔ سابق پرویز مشرف کا دور ہو یا پی پی پی و پی ایم ایل این کی حکومت ایسی مثالیں کم ہیں جب حکومتی عمل داری کو یقینی بنایا گیا ہو۔ زیادہ پرانی بات نہیں جب تاجر برادری کو حکم جاری کیا گیا کہ وہ ملک میں توانائی بحران کے پیش نظر سوراج کی روشنی کا زیادہ سے زیادہ استمال یقینی بنائیں یعنی ملک بھر کی مارکٹیں صبح جلد کھل جائیں اور جلد بند ہوجائیں مگر ایسا نہ ہوسکا۔ افسوس کہ کاروباری افراد سے قربت کے لیے مشہور مسلم لیگ ن اپنے حکم پر عمل درآمد نہ کرواسکی۔
پاک فوج کی جانب سے پہلے ضرب عضب اور اب ردالفساد کی شکل میں ریاست کی رٹ بحال تو کی مگر اب بھی ایسے کئی شبعہ موجود ہیں جو کھلے عام حکومتی عمل درای کو چیلنج کررہے۔ یہ کہنا غلط نہیںکہ آئین اور قانون پرعمل درآمد کرنے کے حوالے سے سب سے پہلے حکومت کو اپنا طرزعمل درست کرنا ہوگا ۔ جب ارباب اختیار خود قانون شکنی کے مرتکب قرار پائیں تو پھر کیونکر ممکن ہے کہ وہ دوسروں سے قانون پرعمل درآمد کرواسکیں۔ ہوسکتا ہے کہ سچ یہی ہو کہ سیاسی اشرافیہ کے لیے ملک کے اندر بے چینی وضطراب کو سودمند دکھائی دیتا ہے چونکہ اندرون خانہ وہ خود بھی کسی نہ کسی شکل میں آئین وقانون کی خلاف ورزی کی مرتکب ہے لہذا وہ کسی صورت دوسروں کو قوائد وضوابط پر عمل درآمد کروانے کے لیے مجبور نہیںکرتی ۔ آج سیاسی قوتیںیہ بہانہ بھی نہیںکرسکتیںکہ طاقتور حلقے ان کا کام کرنے کی راہ میں روڈے اٹکا کررہے۔ پی پی پی کے پانچ سال اور پی ایم ایل این کے چار سال گواہی دے رہے کہ سلامتی کے ادارے کسی بھی شکل میں سیاسی حکومتوں کے لیے مسائل پیدا نہیںکررہے۔ جنرل راحیل شریف ہوں یا جنرل قمر جاوید باجوہ ہر سپہ سالار عملا حکومت کی مدد کرتا دکھائی دیتا ہے۔ملک کا مسقبل جمہوریت سے وابستہ کرنے والے یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ ”تجربہ کار “سیاسی قیادت عوام کی مشکلات حل کرنے میں کیونکر ناکام ثابت ہوئی۔ شائد ہماری روایتی سیاسی اشرافیہ کبھی اپنی زمہ داریوں بارے سنجیدہ نہیںرہی۔ آج اندرون سندھ اور پنجاب کے کسی ایک شہر بارے یہ یقین سے کہنا مشکل ہے کہ وہاں کے مکینوں کو پینے کا صاف پانی میسر ہے۔ سرکاری سکولوں اور ہسپتالوں کی حالت زار ہوں یا بجلی اور گیس فراہم کرنے والے اداروں کی کارکردگی کہیں بھی قابل رشک قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ دراصل ملک کے جمہوری مسقبل کے لیے لازم ہے کہ سیاسی ڈرامہ بازیوں کی بجائے وفاقی وصوبائی حکومتیں صرف اور صرف اپنی کارکردگی کو بہتر بنانے کی طرف توجہ مبذول رکھیں ۔

Scroll To Top