قوم سمجھ رہی تھی کہ ماضی ہمیشہ کے لئے ماضی ہوچکا لیکن۔۔۔۔

aaj-ki-baat-new-21-aprilجب سے پاکستان کی سیاست ” این آر او زدہ“ ہوئی ہے ہم سب اعتماد کے فقدان کا شکار ہوگئے ہیں۔۔۔ اگر میں لفظ ’اعتماد ‘ کی جگہ لفظ ” اعتبار“ استعمال کروں تو زیادہ مناسب ہوگا۔۔۔

رہزنوں پر اعتبار تو ہوتا ہی نہیں ` اگر رہبروں پر سے بھی اعتبار اٹھ جائے تو کیا حال ہوگا؟ وہی حال آج پوری قوم کا ہے۔۔۔
پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر باجوہ وزیراعظم میاں نوازشریف کے ہمراہ سعودی عرب کیا گئے کہ چہ میگوئیوں کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوگیاہے۔۔۔
وزیراعظم تو یقینا خیر سگالی کو فروغ دینے کے لئے گئے ہوں گے۔۔۔ قطر اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کی کشیدگی نے دشمنی کی صورت اختیار کرلی ہے۔۔۔ اور اِس دشمنی نے پاکستان کو کافی بڑے امتحان میں ڈال دیا ہے۔۔۔ دونوں ملکوں کے ساتھ پاکستان کا رشتہ ` اخوت کا ہے۔۔۔ او ر میاں نوازشریف کا امتحان تو بڑا ہی کڑا ہے۔۔۔ سعودی عرب کے شاہی خاندان کے اُن پر بڑے احسانات ہیں اور قطر وہ ملک ہے جہاں میاں صاحب کے خاص الخاص ” کاروباری کامریڈ“ سیف الرحمان مورچہ بند ہیں۔۔۔ گیس کے حوالے سے جس کاروباری پارٹنرشپ نے جنم لیا ہے اس سے کون بے خبر ہوگا ؟ اور ” قطری شہزادے“ کے حوالے سے قطر ویسے ہی ” زبان زدعام “ ہے۔۔۔ وزیراعظم کا سعودی عرب جانا بنتا تھا۔۔۔ مگر وہ آرمی چیف کو ساتھ کیوں لے گئے ؟کیا عسکری نوعیت کے معاملات طے پانے تھے ؟ یا پھر ہمیں یہ تاثر دینا مقصود تھا کہ فوجی اور سول قیادتیں ایک صفحے پر ہیں ؟
جنرل قمر باجوہ بہتر جانتے ہوں گے ۔۔۔ وہ ایک ایسی فوج کے سالار ہیں جس سے پاکستان کے بچے بچے نے عقیدتیں اور امیدیں وابستہ کررکھی ہیں (سوائے اُن بدبختوں کے جن کا قبلہ مہ خانہ ہے یا پھر نئی دہلی)
جنرل صاحب اپنے عظیم ادارے کی شہرت ایک ایسے وزیراعظم کے ساتھ منسلک کرنا افوارڈنہیں کرسکتے جسے مستقبل کے دو چیف جسٹس دروغ گو ` خائن اور نا اہل قرار دے چکے ہیں ` اور جن کے خلاف ” کرمنل تحقیقات“ کا سلسلہ جاری ہے۔۔۔
ہم جانتے ہیں کہ آرمی چیف کے پاس وزیراعظم کے حکم کو نظرانداز کرنے کا اختیار نہیں ہے ` اور اس لحاظ سے میاں نوازشریف نے تحقیقات کی عبوری مدت کے لئے اقتدار سے الگ نہ ہو کر قوم کے ساتھ بڑی زیادتی کی ہوئی ہے۔۔۔
لیکن آرمی چیف کو بھی یہ احساس ہونا چاہئے کہ یہ ملک ایک اور ” این آر او“ کا متحمل نہیں ہوسکتا۔۔۔ قومی مفاہمت کس قدر حسین ترکیب اور دلکش تصور ہے ! مگر جنرل پرویز مشرف نے اسے ” غلاظت اور طہارت کی آمیزش سے جنم لینے والی ہم آہنگی “ میں تبدیل کرکے اس قوم کے ساتھ بڑا ظلم کیا ہے۔۔۔
قوم سمجھ رہی تھی کہ ” ماضی “ ہمیشہ کے لئے ” ماضی “ ہوچکا ہے۔۔۔ لیکن ”ماضی “ اچانک ہمارا ” حال “ بن گیا ہے۔۔۔ اور اب ” مستقبل“ بننے کے لئے پرتول رہا ہے !
جنرل صاحب ایسا نہ ہونے دیں۔۔۔ یہ ملک ہے تو آپ ہیں ۔۔۔
اسے ضمیر فروش تاجروں کی شکاگار بننے نہ دیں۔۔۔

Scroll To Top