جے آئی ٹی کو کام نہیں کرنے دیا جارہا ؟

zaheer-babar-logoجے آئی ٹی کی جانب سے سپریم کورٹ میں سرکاری اداروں کے خلاف شکایات کے انبار لگانا بتارہا کہ تحقیقاتی عمل دراصل کس امحتان سے دوچار ہے۔ تحقیقاتی ٹیم نے تحریری طور پر عدالت عظمی کو بتایا کہ ریاستی ادارے مانگی گی دستاویزات میں نہ صرف ردوبدل کررہے ہیںبلکہ ریکارڈ کو بھی تبدیل کیا جارہا ہے۔ تفتیشی ٹیم کے سربراہ واجد ضیاءکے بعقول ایسے حالات میں 60 روز کے اندار تحقیقاتی عمل مکمل کرنا ممکن نہیں۔ دوسری جانب تحقیقاتی ٹیم نے وزیراعظم نوازشریف کو 15جون بروز جمعرات طلب کرلیا ۔ وزیراعظم ہاوس نے نہ صرف سمن ملنے کی تصدیق کی ہے بلکہ پیش ہونے کا عندیہ بھی دے دیا ۔
بظاہر جے آئی ٹی کو جس طرح ظالم کے طور پر پیش کیا جارہا یہ کسی طور پر حیران کن نہیں۔ پی ایم ایل این کو باخوبی اندازہ ہے کہ چار سال حکومتی مدت پوری کرنے کے بعد وہ پانچواں سال میں قدم رکھ چکی۔ عام انتخابات کے موقعہ پر کسی عالمی بدعنوانی کے سیکنڈل میں اس کے خلاف تحقیقات سیاسی طور پر تباہ کن اثرات مرتب کرسکتی ہے۔ پانامہ لیکس کے سامنے آنے سے قبل مسلم لیگ ن نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ اچانک انھیں ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے جو کسی طور پر خوشگوار نہیں۔ پانامہ لیکس کی شکل میں شریف خاندان کا کوئی ایک فرد نہیں بلکہ پورے سیاسی خاندان کا مسقبل داو پر لگ چکا۔ یہ سمجھنے کے لیے بقراط ہونا لازم نہیں کہ گذشتہ کئی دہائیوں سے قومی سیاسی افق پر ناقابل تسخیر کہلانے والی شریف فیملی آج اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ۔ ایک طرف وفاق اور پنجاب میںہونے کے باوجود اس کی کارکردگی کس طور پر مثالی نہیں تو دوسری جانب اس پر لگنے والے بدعنوانی کے الزامات حقیقت کا روپ دھارتے نظر آرہے ۔ ایک خیال یہ ہے کہ جوں جوں حکومت جے آئی ٹی کے کام میں بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر مشکلات پیدا کریگی اس کی سیاسی واخلاقی پوزیشن پر حرف آئے گا مگر دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ جے آئی ٹی سے حقیقی معنوں میں تعاون کرنے کی صورت میں اس کی مشکلات میں اضافہ بھی خارج ازمکان نہیں۔ادھر شریف فیملی کے خلاف حدیبیہ پیپزر مل کا کیس ایک بار پھر کھلنے کے امکانات پیدا ہوچکے۔ جے آئی ٹی نے سابق وزیر داخلہ رحمان ملک کو 13جون کوطلب کرتے ہوئے ان کی سربراہی میں حدیبیہ پیپرز مل بارے تحقیقاتی مواد ساتھ لانے کو کہا ہے۔یاد رہے کہ رحمان ملک نے پاکستان پیپلزپارٹی کے دوسرے دور حکومت میں شریف فیملی کے خلاف حدیبیہ پیپرز مل بارے اس وقت تحقیقات کی تھیں جب وہ ایف آئی اے میں ایڈشینل ڈائر یکڑ جنرل کے عہدے پر تعینات تھے۔
اس میں دوآراءنہیںکہ ملک میں حقیقی احتساب کا خواب تاحال شرمندہ تعبیر نہیںہوا۔ سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں جے آئی ٹی جن مشکلات سے گزر رہی ہے اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ملک میں طاقتور طبقات قانون پر عمل درآمد کروانے میں کتنی بڑی رکاوٹ ہیں۔دراصل اب تک یہی ہوتا چلاآیا کہ بااثر افراد کے سامنے ملکی آئین و قانون موم کی ناک ثابت ہوا۔ یاد رکھنا چاہے کہ وطن عزیز میں ریاست کی رٹ صرف دہشت گردوں نے ہی پامال نہیں بلکہ انواع واقسام کے مافیا آئے روز حکومتی عمل درآمد کی راہ میں رکاوٹ ڈال رہے ۔ اس پس منظر میں بعض حلقوں کا یہ کہناغلط نہیںکہ پرنٹ،ا لیکڑانک و سوشل میڈیا میں وزیراعظم نوازشریف اور ان کے خاندان کے خلاف مالی بدعنوانی کے چرچے کسی طور پر پی ایم ایل این یا حکومت کے لیے نیک شگون نہیں۔
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ملک کے اہل سیاست اپنی ساکھ کے حوالے سے حساس واقعہ نہیں ہوئے بظاہر انھیں اس کی کوئی پرواہ نظر نہیں آتی کہ مالی بدعنوانی کے الزمات کی شکل میں ان کا سیاسی قدکاٹھ کس حد تک کم ہوچکا۔ اب تو یہ بات بھی غیر متعلقہ ہوچکی کہ مجرم وہی ہے جسے نظام عدل کی جانب سے سزا مل جائے لہذا جے آئی ٹی کی شکایات نے اس تاثر پر مہر تصدیق ثبت کردی کہ برسر اقتدار شخصیات کے خلاف قانون کا نفاذ کس قدر مشکل ہے۔
وطن عزیز میں جاری صورت حال مایوسی نہیں امید کی مظہر ہے۔ محض ایک دہائی قبل تک یہ سوچنا بھی محال تھا کہ ملک کا طاقتور شخص سپریم کورٹ نہیں بلکہ اس کی بنائی ہوئے پانچ رکنی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوگا۔ ملک میں تبدیلی کے لیے بے چین حلقوں کے شائد یہ کافی نہیں مگر جسیے اقبال نے کہا تھا کہ” ثبات اک تغیر کو ہے زمانے میں “ حالات بتدریج تبدیل ہورہے ہیں۔ اب یہ ممکن دکھائی دیتا ہے کہ مسقبل کا کوئی بھی حکمران ماضی کے برعکس کئی گنا زیادہ جواب دہ ہوگا۔ ملکی جمہوریت میں لاکھ خامیوں کے باوجود اس کی اس خوبی سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا کہ اہل اقتدار سے جواب طلبی کا رجحان تیزی سے فروغ پذیر ہے۔ پاکستانیوں کی اکثریت ایسی حکومت کی خواہشمند ہے جو ایک طرف ان کو بنیادی ضروریات زندگی مہیا کرنے میں تامل کا مظاہر ہ نہ کرے تو دوسری جانب اس پر قومی خزانہ لوٹنے کا الزام تک نہ ہو۔ اس پس منظر میں دو ہزار تیرہ کے عام انتخاب میں اگر پی پی پی کو بدعنوانی اور بیڈ گورنس کے باعث نقصان اٹھانا پڑا ہے تو قوی امکان ہے کہ دوہزاراٹھارہ میں اس کی کوئی نہ کوئی قمیت پی ایم ایل این کو بھی ادا کرنی پڑ جائے۔

Scroll To Top