بیٹے آئندہ ایسے مت کرنا !

aaj-ki-baat-new-21-aprilجس تصویر کا بڑا چرچا ہے وہ تصویر مجھے اپنے لڑکپن کا ایک واقعہ یاد دلارہی ہے۔۔۔
یہ 1950ءکی بات ہے۔۔۔ میں تب گیارہ برس کا تھا اور پانچویں جماعت میں تھا جو سندھ میں تب ہائی سکول کی پہلی جماعت شمار ہوتی تھی۔۔۔ یہ بات شکارپور سندھ کی ہے جہاں میں نے اپنی سکول کی تعلیم مکمل کی تھی۔۔۔ گورنمنٹ ہائی سکول شکارپور اپنے دور میں ملک کے کسی بھی سکول سے کم نہیں تھا۔۔۔ جس زمانے کی میں بات کررہا ہوں تب شمس العلما موسوی صاحب کے چھوٹے بھائی سکول کے ہیڈ ماسٹر تھے۔۔۔ ان کی بارعب اور باوقار شخصیت ابھی تک میرے شعور میں رچی بسی ہے۔۔۔ مجھے ان کا نام اس لئے یاد نہیں رہا کہ انہیں موسوی صاحب کے نام سے پکار ا جاتا تھا۔۔۔
میری عادت تھی کہ جس رو ز بھی میں ذرا لیٹ ہوا کرتا تھا تو بجائے اسمبلی میں شرکت کرنے کے سیدھا کلاس روم میں جا بیٹھتا تھا۔۔۔
ایک روز میں اسی طرح اپنی ڈیسک پر بیٹھا کسی کتاب کی ورق گردانی کررہا تھا کہ یکایک ایک زناٹے دار تھپڑ میرے گال پر پڑا۔۔۔ میں نے بدحواس ہو کر اوپر دیکھا تو موسوی صاحب کھڑے تھے۔۔۔
” یہاں کیا کررہے ہو ؟ اسمبلی میں کیوں نہیں گئے۔۔۔؟“ موسوی صاحب نے تحکمانہ لہجے میں پوچھا۔۔۔
میں سہم گیا تھا۔۔۔ مجھ سے کوئی جواب نہیں بن پڑ رہا تھا۔۔۔ چپ چاپ سر جھکائے بیٹھا رہا۔۔۔ بدحواسی میں احترام سے کھڑا ہونا بھی بھول گیا تھا۔۔۔
” بیٹے آئندہ ایسے مت کرنا ۔۔۔“ موسوی صاحب کا لہجہ اچانک شفقت آمیز ہوگیا۔۔۔ یہ کہہ کر وہ چلے گئے تھے۔۔۔ میں دیر تک سرجھکائے بیٹھا رہا تھا۔۔۔ اگر کوئی اس وقت میری تصویر کھینچتا تو بالکل ایسی ہی بنتی جیسی تصویر کا آج کل چرچا ہے۔۔۔
یہ تصویر ایسے شخص کی نہیں جو آنکھوں سے آنکھیں ملا کر سوالات کا جواب دے رہا ہو۔۔۔ یہ تصویر ایک سہمے ہوئے شخص کی ہے۔۔۔ یا پھر ایسے شخص کی ہے جس سے کہا گیا ہو کہ تم نے نظریں نہیں اٹھانی۔۔۔ اسی طرح نظر آنا ہے۔۔۔ سہما ہوا۔۔۔!مظلوم سا۔۔۔!!

Scroll To Top