اتحاد امت –اسلامی دنیا کی آج سب سے اہم ضرورت

ahmed-salman-anwerگذشتہ روز ترک صدر رجب طیب اردگان نے قطر اور خلیجی ریاستوں کو مابین حالیہ بحران کو لے کر کہا ہے کہ خلیجی بھائیوں کے آپس کے تنازعے کی وجہ سے پوری دنیا کے مسلمانوں کی رمضان کی برکتیں ماند پڑگئیں۔ پہلے سے مسائل کی شکار امہ کے مسائل میں مزید اضافہ کرنا کسی طور بھی درست نہیں ہے، ایک ایسے وقت میں جبکہ ہمارے خطے کے حوالے سے بھیانک منصوبے تشکیل پا چکے ہیں ، آپس میں لڑنا کسی بھی طور پر فائدے کی بات نہیں ہے۔
اتحاد امت، شرعی اور سماجی ضرورت ہے جب کہ اختلاف رائے کا وجود فطری ہے، اس لیے ہم شرعی ضرورت کے پیش نظر اتحاد امت کے پابند ہیں اور فکر ونظر کے اختلاف کے باوجود اتحاد امت اور وحدت امت کو اپنی ایمانی اور اسلامی زندگی کا نصب العین سمجھتے ہیں، اختلاف کلم واحد کے ماننے والوں کے درمیان عقائد کا ہویا فروعی مسائل کا ، ان اختلافات کو عملی زندگی میں برتنے کے بھی کچھ شرعی اصول وحدود ہیں۔اتحاد آج اسلامی دنیا کی سب سے اہم ضرورت ہے۔مسلمانوں میں اتحاد و برادری دین اسلام کی اہم تعلیمات میں شمار ہوتی ہے۔ مسلمانوں کا اتحاد و برداری کوءعارضی ومصلحتی حکم نہیں ہے بلکہ عقلی، فطری اور قرآنی حکم ہے۔ خداوندعالم نے امت اسلامی کی وحدت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے ساری انسانیت کو روز ازل سے لے کر قیامت تک کے لئے اصل واحد کی طرف نسبت دی ہے۔ دراصل انسان ایک ماں اور ایک باپ سے وجود میں آیا ہے جنہیں ہم حضرت آدم اور حصرت حوا علیھماالسلام کے نام سے پہچانتے ہیں۔تمام انسانوں کا ایک ہی ھدف ہے۔ خداوند متعال نے امت اسلامی کے اتحاد کے بارے میں قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ اور یہ تمہاری امت ہے امت واحدہ اور میں تمہارا پروردگار ہوں پس مجھ سے ڈرتے رہو۔ ( سورہ مومنوں آیت باون ) قرآن کریم نے یہ بھی جتلادیا ہے کہ امت مسلمہ کے اتحاد کو قائم رکھنے کےلئے ضروری ہے کہ ہر مسلمان اختلاف و تفرقے سے پرہیز کرے ارشاد ہوتا ہے خدا کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ نہ کرو۔ یہاں خدا کی رسی سے مراد قرآن اور دین مبین اسلام ہے ( سورہ آل عمران ایک سو تین) دین مبین اسلام میں نہ صرف اصول دین بلکہ فروعات میں بھی اتحاد کے اس قدر مواقع فراہم ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے درمیاں کوئی قابل ذکر اختلاف ہے ہی نہیں اور کوئی چیز نہیں ہے جس سے ان کے درمیاں اتحاد وجود میں نہ آسکے ۔
دنیا کے 192 ممالک میں سے 58 ممالک مسلمان ہیں۔ چھ ارب کے قریب انسانوں میں سے سوا ارب سے زائد مسلمان ہیں اور دنیا کے معدنی ذخائر میں 75 فیصد کے مالک ہیں۔ اگر ان کے پاس کچھ نہیں ہے تو دور اندیش، نڈر اور بہادر قیادت نہیں ہے۔ اگر نہیں ہے تو اتحاد نہیں ہے ،اور نہ ہی مستقبل قریب میں ایسا نظر آتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کے وجوہ میں ایک عالمی طاقتوں کے سامراجی ذہنیت ، چالبازیاں، اور پوری دنیا پر حکمرانی کا منصوبہ ہے، مگر اس سے بڑھ کر عالم اسلام اور مسلمانوں میں اتحاد و اتفاق کا فقدان اور اختلافات کا ناسور ہے۔ ایک طرف سامراج اور اس کے پالیسی ساز ادارے عالم اسلام کو کسی صورت متحد نہیں دیکھنا چاہتے۔ وہ ایک ایجنڈے کے تحت عالم اسلام کو تقسیم در تقسیم کرتے چلے آرہے ہیں۔
دوسری طرف مسلمانوں کا آپس کا اختلاف ہے۔ عالم اسلام کے ممالک اور ان کے حکمرانوں میں اتحاد نہ ہونے کے برابر ہے۔ کسی بھی ملک کی سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کی حریف ہیں۔حزب اقتدار اور اختلاف میں ذاتی دشمنیاں اور عناد ہیں۔ دینی اور مذہبی جماعتوں ، اداروں اور رہنماو¿ں میں اتنا اختلاف ہے کہ بغیر کسی دلیل کے ایک دوسرے کو مفافق ، ملحد اور ایجنٹ ہونے کے القاب دیتے ہیں۔صوبائیت ، لسانیت، قومیت اور وطنیت کے جھگڑے ہیں۔مسلمان مسلمان کا ہی گلا کاٹ رہا ہے۔ مسلمان ملکوں میں اپنے ہی مسلمان بھائیوں پر خودکش حملے ہورہے ہیں۔ ، ایک نبی اور ایک قرآن کو ماننے والے ایک دوسرے کے جانی اور ازلی دشمن معلوم ہوتے ہیں۔ اسلامی تعلیمات میں سب سے زیادہ زور اتفاق و اتحاد پر دیا گیا ہے۔ آپس میں محبت ،اخوت، بھائی چارہ، ایمان واتحاداور یقین مسلمانوں کا موٹو ہوتا ہے۔آپ صلی الہٰ علیہ و سلم نے حجتہ الوداع میں حکم فرمایا تھا ” دیکھو ! باہمی اختلاف میں نہ پڑنا۔“ قرآن کریم میں ا? رب العزت کا حکم ہے ” ولاتفرقوا“ ”اختلاف ہرگز ہرگز نہ کرو۔“ تاریخ اٹھا کر دیکھیں اختلاف ہی کی وجہ سے قوموں اور ملکوں کو بڑے بڑے نقصان اٹھانا پڑے ہیں۔ اختلاف ہی کی وجہ سے مسلمان ممالک پستی اور ذلت کا شکار ہیں۔ غربت، مہنگائی، بدامنی، لاقانونیت ، بے روز گاری، جہالت، انتقام، لوٹ مار، ڈاکے، اغوا، قتل و غارت جیسے موذی امراض اختلاف ہی کا نتیجہ ہیں۔دوراندیش حکمران اور سیاست دان اور رہنمائ اسی اختلاف کا شکار ہوکرہیرو سے زیرو بنے ہیں۔
آج امت مسلمہ میں اتفاق اور اتحاد وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، ہم 58 اسلامی ممالک ہیں۔ 2 ارب مسلمان ہیں۔ ہم بہت طاقتور ہوسکتے ہیں، بشرطیہ اختلاف کے ناسور سے نکل آئیں۔ایک نقطے پر متفق ہوجائیں۔ مسلمانوں کے لیے اس وقت سب سے آہم اور مشترکہ مسئلہ یہ ہے کہ وہ سب مل کر وقت کے طاغوت سے نجات حاصل کرنے کی بھر پور کوشش کریں۔جس طرح جب روس اپنے آپ کو ناقابل تسخیر قوت سمجھتا تھا، اسی لیے وہ کئی ریاستوں پر قبضہ جما چکا تھالیکن افغان سرزمین پر جیسے ہی اس کا غرور خاک میں ملا تو یہ سب مقبوضہ ریاستیں اس کے خونی پنجے سے آزاد ہو گئیں۔ اسی طرح جب تک موجودہ وقت کے طاغوت کے لیے کوئی غیر معمولی صورتحال پیدا نہیں ہوجاتی اس وقت تک مسلم ممالک پر کسی نہ کسی شکل میں اس کا تسلط قائم ہی رہے گا اور مسلمان پستے رہیں گے۔اس وقت سب سے آہم کام استعمار کو نکیل ڈالنے کا ہے اور یہ تمام مسلم ممالک کے اتحاد و اتفاق کے بغیر ناممکن ہے۔ امام کعبہ نے مسلمانوں پر زور دے کر کہا وہ اپنے ” مشترکہ دشمن“کے مقابلہ کے لیے باہمی فروعی اختلاف ختم کردیں۔ انہوں نے مسلمان ملکوں کی نا اتفاقی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا مسلمان اتحاد جیسے آہم اسلامی اصول کو بھلا بیٹھے ہیں۔ امام کعبہ نے اسلامی دنیا میں فرقہ دارانہ تشدد کو ٹائم بم قراردیتے ہوئے کہا ” دشمنان اسلام مسلمانوں کو کمزور کرنے کے لیے ان میں فرقہ واریت کو بڑھانا چاہتے ہیں، لیکن مسلمانوں کو اس صورتحال سے پریشان ہونے کی بجائے اس سے نجات کے لیے کوششیں تیز کرنی چاہیے۔“ کاش !آج عالم اسلام امام کعبہ کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے مکمل یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے متحد ہوجائیں، بلاشبہ اتفاق و اتحاد میں ہی تمام عالم اسلام کی فلاح و کامیابی ہے۔

Scroll To Top