’’انقلاب تو ایسے ہی آئے گا‘‘

11-06-2017
ذوالفقا ر علی بھٹو عوام کو روٹی کپڑا اور مکان دینے کے لئے میدان میں اترے۔ اور ملک کو بے یقینی اور غیر واضح مستقبل کے حوالے کرکے پھانسی پر چڑھ گئے۔ پھر جنرل ضیاءالحق اخلاقی گراوٹ اور ” اقدار سے انحراف “ کے شکار معاشرے کو اسلام کی ” راہِ نجات “ پر ڈالنے کے لئے مصروفِ عمل ہوئے ¾ اور قوم کو مزید بے یقینی اور مزید انتشار کے رحم و کرم پر چھوڑ کر ایک دھماکے کے ساتھ فضاﺅں میں اڑ گئے۔
اس کے بعد دو متحارب قیادتوں نے پوری قوت کے ساتھ ” جمہوریت “ کا ڈنکا پیٹا جس کاکلائمیکس جنرل پرویز مشرف کے ظہور کی صورت میں سامنے آیا۔
جنرل صاحب یہ عہد صمیم لے کر میدان میں کودے کہ ملک کو ” اچھی منظم اور بامقصد“ حکمرانی کی راہ پر ڈال کر قوم کی تقدیر تبدیل کرڈالیںگے۔ یہ تو نہ ہوسکا مگر موصوف نے ملک و قوم کو آگ اور موت کے ایک ایسے خون آشام کھیل میں دھکیل دیا جس کا خاتمہ آٹھ نو برس بعد بھی دور دور تک نظر نہیں آرہا۔
آج ایک طرف بحث یہ چل رہی ہے کہ ” یہ جنگ ہماری ہے یا نہیں ۔“ اور دوسری طرف چاروں طرف انقلاب کی صدائیں بلند ہورہی ہیں۔
انقلاب شاید وقت اور ہماری تاریخ کی ناگزیر ضرورت ہو۔ مگرانقلاب لائے گا کون ؟
کیا بھیڑیوں سے یہ توقع رکھی جاسکتی ہے کہ وہ جنگل میں سلامتی اور سکون کا ماحول قائم کریں گے۔؟
کیا بال ٹھاکرے سے یہ امید قائم کی جاسکتی ہے کہ وہ برصغیر کے عوام کو ایک عقیدے اور ایک نظام یعنی اسلام کی لڑی میں پرونے کے لئے اٹھ کھڑے ہوں گے؟
میں معجزوں کی موجودگی اور صداقت سے انکار نہیں کرتا۔ مگر یہ تو ممکن ہے کہ فرعون کے گھر سے موسیٰ ؑ کا ظہور ہو۔۔۔ لیکن یہ ممکن نہیں کہ خود فرعون موسیٰ ؑ بن جائے۔
یا شاید کوئی بھی بات قادر ِمطلق کی قدرت سے باہر نہیں۔۔۔ وہ چاہے تو یہ سارے ” طلب گارانِ زر و اقتدار “ جو اپنے چہروں پر انقلاب کے نقاب اوڑھنا چاہتے ہیں ¾ سب ایک دم ” نورِانقلاب“ میں نہا کر اعلان کردیں کہ ہم اپنے تمام کے تمام خزانے غربت وفلاس کے مارے ہوئے پاکستان کے حوالے کررہے ہیں۔۔۔
انقلاب تو ایسے ہی آئے گا۔۔۔
یا پھر ویسے آئے گا جیسے ایران میں آیا !
)یہ کالم اس سے قبل 14جون 20111ءکو بھی شائع ہوچکا ہے (

Scroll To Top