آئین کی تلاش

aaj-ki-baat-new-21-aprilیورپی ممالک کو ” ری پبلک “ کا درجہ حاصل کرنے میں صدیاں لگیں۔ بادشاہت کی سب سے بھیانک شکل فرانس میں پائی جاتی تھی۔ اور یہ اتفاق بڑا دلچسپ ہے کہ جمہوری نظام سے منسلک اور منسوب تمام تصورات نے فرانس کی سرزمین پر ہی جنم لیا ۔اور یہیں سے یہ تصورات ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے فاﺅنڈنگ فادرز تک پہنچے۔
اٹھارہویں `انیسویں اور بیسویں صدی کو تشکیل دینے میں تھا مس مین اور ژاں جیکس رُوسو نے بڑا اہم کردار ادا کیا۔ دو کتابیں اس ضمن میں اس جمہوری تحریک کا سرچشمہ بنیں جس کا سب سے زیادہ طاقتور اظہار امریکی آئین میں ہوا۔ ایک کا نام Rights of Manیعنی انسان کے حقوق تھا ` اور دوسری کتاب
New Social Cortractیعنی نیا عمرانی معاہدہ تھی۔
دنیا میں ” حاکمیت “ اور اندازِ حکمرانی میں انقلابی تبدیلیاں لانے والے تصورات ان ہی دو کتابوںکے صفحات پر سے اٹھے تھے۔ پہلے ان تصورات نے امریکی آئین کے ایک خالق جیفرسن کی سوچ میں جگہ پائی۔ انہوں نے کہا کہ ” انسان آزاد پیدا ہوا ہے اور اسے اپنی آزادیوں کی حفاظت کرنے کا پورا پورا حق ہے۔“
یہ فکر ” دی رائٹس آف مین“ میں سے اٹھی تھی۔اس فکر نے جمہوری نظامِ حکومت کو فیصلہ کن طور پر اس نظریے کے ساتھ جوڑ دیا کہ کوئی بھی ایسی حکومت جمہوری نہیں ہوگی جس میں انسان کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت موجود نہیں ہوگی۔
اگرچہ جیفر سن نے اس سوچ کا پرچم اٹھارہویں صدی میں بلند کرلیا تھا مگر امریکی آئین میں شامل کئے جانے کے باوجود اس سوچ کا عملی اظہار0 186ءتک نہ ہوسکا جب ابراہم لنکن نے غلامی کے مکمل خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے جنوب کی ریاستوں کو امریکی آئین کے سامنے ہتھیار ڈالنے کا الٹی میٹم دے دیا۔
یہاں میں علامہ اقبال ؒ کا وہ شعر درج کرنا چاہوں گا جو انہوں نے سلطنت عثمانیہ کے دور زوال کے بارے میں کہا تھا۔
اگر عثمانیوں پر کوہِ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے
کہ خونِ صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا
یہ ” خونِ صد ہزار انجم “ سے سحر کے پیدا ہونے کی بات 1860ءکے امریکہ پر صادق بیٹھتی ہے۔ صدر ابراہم لنکن کی قیادت میں امریکہ نے ایک جنگ میں دو جنگیں لڑیں۔ ایک جنگ ” امریکی وفاق “ کے فیصلہ کن دفاع کی تھی اور دوسری جنگ ” انسانی حقوق “ اور امریکی آئین کی بالا دستی کی جنگ تھی ۔اس خونی جنگ میں جتنا خون بہا اس سے پہلے صرف چنگیزی دور میں بہا تھا۔ لاکھوں افراد لقمہءاجل بنے۔ اور سسکیوں اور آہوں کی ان گنت داستانوں نے جنم لیا۔ امریکہ کی اس ” سِول وار “ کا بڑا اثر انگیز نقشہ مارگریٹ مچل نے اپنے ناول
Gone With The Wind میں کھینچا جس پر بننے والی فلم ستر برس سے فلمی شائقین کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
اس خونی جنگ میں انسانی آزادیوں کے تصور` امریکہ کے وفاقی تشخص ` اور امریکی آئین کی بالادستی کو فیصلہ کن فتح حاصل ہوئی۔ اس فتح پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے امریکی صدر لنکن نے کہا۔
” ہمیں ان لاکھوں جانوں کے ضائع ہونے کا بڑا دکھ ہے جو اس جنگ کا ایندھن بنی۔ لیکن اگر یہ خون بہایا نہ جاتا تو ایک امریکی سوچ ` ایک امریکی تشخص اور ایک امریکی پہچان کو کامرانی حاصل نہ ہوتی۔ آج میری رائے میں جس امریکہ نے جنم لیا ہے وہ باقی ساری دنیا کے لئے روشنی کا مینار بنے گا۔“
اصولی طور پر یہ بات درست تھی۔
اگر امریکی آئین کی بالادستی اور امریکی تشخص کی وحدت قائم کرنے کے لئے یہ جنگ نہ لڑی جاتی تو ریاست ہائے متحدہ امریکہ کا نقشہ کبھی کا ` لاطینی امریکہ کے انداز میں تبدیل ہوچکاہوتا۔
میں سمجھتا ہوں کہ ہنوز ” پاکستان کے تشخص “ کے بھرپور اثبات اور بھرپور دفاع کی جنگ نہیں لڑی گئی۔ ہنوز وطنِ عزیز کے کچھ خطوں میں ایسے عناصر موجود ہیں جو اس کے جھنڈے کا احترام نہیں کرتے `جو اس کی اساس کو تسلیم نہیں کرتے اور جو اس کا ترانہ سننے کے لئے احترام کے ساتھ کھڑے نہیں ہوتے۔
ان عناصر کے ساتھ ہم نے کیسے نمٹنا ہے اس کا حتمی فیصلہ کرنے کے لئے ہمیں ابراہم لنکن کے امریکہ سے سبق حاصل کرنا ہوگا۔
اصل بات سے میں ہٹ گیا ہوں۔ مگر یہ سارے موضوع ایک دوسرے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ کہنا میں یہ چاہ رہا ہوں کہ اگر ہم قیامِ پاکستان کے بعد اس کے ” نظامِ حکمرانی “ کی تلاش برطانیہ تک محدود نہ رکھتے اور ہم فرانس اور جرمنی سے بلند ابھرنے والے بلند بانگ افکار کا تعاقب کرتے ہوئے امریکہ پہنچتے تو ہمارے لئے ایک ایسے آئین کی دریافت مشکل نہ ہوتی جو بار بار نظریہءضرورت کو دعوت نہ دیتا۔
اصل معاملہ جو طے ہونے والا تھا اور جو قائداعظم ؒ کے ذہن میں 1947ءکے آغاز سے ہی اٹھنے لگا تھا وہ یہ تھا کہ کیاپاکستان جیسا پس منظر رکھنے والا وفاق ایک ایسے نظام کے ذریعے جڑیں پکڑ سکے گا جس میں مقننہ اور انتظامیہ کی چھت ایک ہی تھی۔ قائداعظم ؒ کواندازہ ہوچکا تھا کہ اگرچہ پارلیمانی وجود جمہوریت کے لئے لازمی تھا لیکن انتظامیہ کا انتخاب پارلیمنٹ میں سے کرنا پاکستان جیسے تعلیمی پس منظر اور معاشرتی کردار رکھنے والے ملک کے لئے ایسے لوگوں کی قیادت سے محروم رہنا تھا جن کی اہلیت کے تعین کی کسوٹی انتخابات میں عددی برتری کے سوا اور کوئی نہیں تھی۔
قائداعظمؒ نے ضرور سوچا ہوگا کہ ” آخر کوئی تو وجہ ہے کہ امریکی انتظامیہ میں صرف ایک شخص عوام کے ووٹوں کے ذریعے منتخب ہوتا ہے۔ اور وہ صدر ہوتا ہے۔۔۔“ مجھے یقین ہے قائداعظم ؒ نے رُوسو کی تصنیف ” نیا عمرانی معاہدہ “ کا مطالعہ بھی ضرور کیا ہوگا۔
رُوسو کا ذکر اس ضمن میں اس لئے ضروری ہے کہ اسی نے ڈائریکٹ ڈیموکریسی اور اِن ڈائریکٹ ڈیموکریسی کے فرق کو واضح کیا تھا۔
اسی نے کہا تھا کہ پیرس میں جو پارلیمنٹ قائم ہوگی اس کا حصہ بننے والا شخص پانچ سال میں صرف ایک مرتبہ اپنے حلقے کے عوام کو نظر آئے گا۔ اور وہی ایک دن ایسا شمار کیا جائے گا جب عوام محسوس کریں گے کہ ان کے پاس واقعی کوئی اختیار ہے۔ اس اختیار کو استعمال کرنے کے بعد جب وہ پولنگ سٹیشن سے باہر آیا کریں گے توان کے اندر سے یہ آواز ابھرا کرے گی۔بس تمہاری حکومت اس لمحے تک کے لئے تھی۔ اب حکمرانی میں شریک ہونے کا احساس تمہارے اندر پورے پانچ برس بعد پیدا ہوگا۔“
میں یہ ماننے کے لئے تیار نہیں کہ دنیا کے تمام نظاموں کا مطالعہ کرتے وقت قائداعظم ؒ کے دماغ میں بڑے پیچیدہ سوال نہیں ابھریں ہوں گے۔
مجھے یقین ہے کہ اگر قائداعظمؒ کو زندگی کے بیس پچیس ماہ اور مل جاتے تو وہ ہمیں ایسے نظام کے ساتھ ضرور جوڑ جاتے جس کی موجودگی میں نہ تو کبھی کوئی طالع آزما اقتدار کے ایوانوں پر قابض ہوتا اور نہ ہی قائداعظم ؒ کی کرسی پر ایسے لوگ بیٹھتے جن کی قابلیت اور کردار پر فخر سے سربلند کرنے کے لئے روبوٹ ہونا ضروری ہے۔
(یہ کالم اس سے قبل 13جون2011ءکو بھی شائع ہوچکا ہے ۔۔۔)

Scroll To Top