جو لوگ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف برسرپیکار ہیں وہ دراصل اس کے ریاستی ڈھانچے کو گرانا چاہتے ہیں 02-06-2011

kal-ki-baatمیں نے بھارت کے میڈیا `برطانیہ کے میڈیا فرانس کے میڈیا اور امریکہ کے میڈیا میں۔۔۔ کہیں بھی یہ نہیں دیکھا کہ اس کے کسی بھی حصے سے وابستہ صحافی اپنے ملک کے مفادات کے خلاف استعمال ہورہے ہوں۔ امریکہ جو انسانی حقوق سے وابستہ آزادیوں کا سب سے بڑا علمبردار ہے اور جہاں اصولی طور پر صحافت کو ریاستی دباﺅ اور ایجنڈے سے آزاد رہ کر کام کرنا چاہئے ` وہاں میڈیا کا غالب حصہ پنٹاگون یا وزارت خارجہ کی شاخ کے طور پر کام کرتا ہے۔ کون نہیں جانتا کہ امریکہ کا پورا میڈیا پہلی خلیجی جنگ میں امریکی افواج کا ایک فعال حصہ بنا ہوا تھا ؟ امریکی حوالوں سے جب بات پنٹاگون یا وزارت خارجہ کی ہوتی ہے تو فوراً ذہن سی آئی اے کی طرف جاتا ہے۔ کہنا میںیہ چاہتا ہوں کہ امریکی میڈیا بالواسط طور پر سی آئی اے کے اغراض و مقاصد کے حصول کے لئے کام کرتا ہے۔ امریکہ کو دنیا کے کسی بھی خطے میں جب بھی کوئی بڑا آپریشن کرناہوتا ہے یا کسی ملک کو ” ہدف“ بنانا ہوتا ہے تو پہلا وار میڈیا کے توسط سے کیا جاتا ہے ۔ دوسرے الفاظ میں ایف آئی آر میڈیا کے ذریعے کاٹی جاتی ہے۔
یہی صورتحال بھارت کی ہے۔ مجھے آج تک کوئی بھارتی صحافی ایسا نہیں ملا جس نے کھل کر بھارتی حکومت کی کشمیر پالیسی پر تنقید کی ہو۔
یہ اعزاز صرف پاکستان کے میڈیا کو حاصل ہے کہ اس میں ہمارے دشمن ممالک اپنے ” موثر جزیرے“ بنانے میں کامیاب رہتے ہیں۔
ہمارے دشمنوں کے پاس و سائل کی کمی نہیں۔ا ن کے پاس ڈالروں کے انبا ر ہیں۔ وہ ہمارے روشن خیال یا آزاد خیال صحافیوں کی خدمات بھی خریدنے کی پوزیشن میں ہوتے ہیں ` اور وفاداریاں بھی۔ اور یہ کام اتنی مہارت سے کیا جاتا ہے کہ خدمات بیچنے والے کو کبھی احساس ہی نہیں ہوتا کہ وہ اپنے ملکی مفادات کے خلاف کام کررہا ہے۔ گزشتہ تیس دنوں کے دوران ہمارے میڈیا کے ایک بڑے حصے نے پاکستان آرمی اور آئی ایس آئی کے خلاف جو لب ولہجہ اختیار کررکھا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ دعویٰ تو یہ کیا جاتا ہے کہ ” حق گوئی “ یعنی سچ بولنے کی روایات کو فروغ دیا جارہا ہے۔ الزام تویہ لگایا جاتا ہے کہ ا سٹیبلشمنٹ میں سچ سننے کا حوصلہ نہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جس ” سچ“ کی شان میں قصیدے پڑھے جاتے ہیں وہ اپنی عمارت ” ڈالروں “ کی بنیاد پر کھڑی کرتا ہے۔ ہمارے نامور صحافی(مثال کے طور پر نجم سیٹھی صاحب)اس بات سے انکار نہیں کریں گے کہ ان کی ” حق گوئی “ نے ان پر ” آسودگی “ کے دروازے کھول رکھے ہیں۔
اسٹیبلشمنٹ ایک ایسا لفظ ہے جسے گالی دینا زیادہ مشکل نہیں ہوتا۔ کوئی یہ سوچنے کی زحمت گوارہ ہی نہیں کرتا کہ مضبوط ملک ہوتا ہی وہ ہے جس کی اسٹیبلشمنٹ مضبوط ہو۔ حکومت اچھی بری ہوا کرتی ہے۔ مگر اسٹیبلشمنٹ کا تو مطلب ہی ریاستی ڈھانچہ ہے۔ کیا کوئی ریاست اپنے ڈھانچے کے بغیر قائم رہ سکتی ہے۔؟
جو لوگ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف برسرپیکار ہیں وہ دراصل اس کے ریاستی ڈھانچے کو گرانا چاہتے ہیں۔
اگر اس سازش میں ہمارے میڈیا کا ایک غالب حصہ قصداً یا نادانستہ طور پر شریک ہے تو ہمیں بہت کچھ سوچنا ہوگا۔ ہم درحقیقت حالتِ جنگ میں ہیں۔ یہ جنگ وہ نہیں جو امریکہ لڑ رہا ہے اور ہمیں جس جنگ کا وہ ایندھن بنانا چاہتا ہے ۔ ۔۔ یہ جنگ وہ ہے جو ہمیں اپنی صفوں میں چھپے ہوئے دشمنوں کی تلاش کے لئے لڑنی پڑے گی۔

Scroll To Top