الحمد للہ ! ہمارے ولی عہد بڑے معصوم ہیں

isma_alakhbar

الحمد اللہ اور اللہ کے فضل و کرم سے بادشاہ سلامت کے ولی عہد کل دوسری باری جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے۔ ان کے ساتھ وزراءاور مشیران کی ایک فوج تھی مگر کل ان کے ساتھ وکیل نہیں تھا۔
کل جس انداز میں ولی عہدِ سلطنت جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہو رہے تھے اس سے یہ لگ رہا تھا کہ وہ سوچ رہے ہوںگے کہ الحمدللہ، اللہ کے فضل و کرم سے ابا جی نے پھنسا دیا ہے۔ ویسے ان کی ہمت کی داد دینی پڑے گی کہ الحمد للہ وہ چھے گھنٹے تک سوالات کے جوابات دیتے رہے۔ اور اس دوران ان کی طبیعت بھی ناساز ہو گئی اور ایمبولینس بلوانا پڑی۔ مگر ان میں سچ بولنے اور قانون کا ساتھ دینے کا جذبہ اتنا کوٹ کوٹ کے بھرا تھا کہ وہ ڈٹے رہے اور پورے چھ گھنٹے بیٹھے رہے ۔
ایک بات سمجھ میں نہیں آئی کہ جے آئی ٹی تو شاید ان ملزمان کے لیے تشکیل دی جاتی ہے جن پر شک ہو کہ انہوں نے کوئی جرم کیا ہے جس کو ثابت کرنے کے لئے ان سے تفتیش کی ضرورت ہے۔
پھر تکنیکی (Technical) اعتبار سے بادشاہ سلامت کے ولی عہد ایک ملزم ٹھہرے اور کسی ملزم کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کےلئے اتنی بڑی فوج پہلی بار دیکھی ۔
اس کا تو ایک ہی مطلب سمجھ میں آتاہے ،وہ یہ کہ شاید جج صاحبان اور جے آئی ٹی ممبران پر دباﺅ ڈالنے کی بھرپور کوشش ہے۔ بلکہ میاں صاحب کے حواریوں کے اس رویے سے تو ان اشخاص کی جا ن کو بھی خطرہ محسوس ہو رہا ہے ۔ اور اگر یہ بات درست ہوئی تو پھر تو ان صاحبان کو سخت سکیورٹی کی اشد ضرور ت ہے۔
میاں صاحب کے ایک خاص مشیر کل بار بار یہ کہتے پائے گئے کہ ہمیں دو ممبران کے بارے میں تحفظات ہیں۔ مگر عوام کو تو خود وزیراعظم صاحب پر ہی تحفظات ہیں۔
جس انداز سے ولی عہد تفتیش کےلئے تشریف لا رہے تھے۔ اس سے کہیں سے بھی نہیں لگ رہا تھا کہ وہ ایک ملزم ہیں بلکہ یوں لگ رہا تھا کہ جیسے ایسا کر کے وہ پوری قوم پر کوئی احسان عظیم کر رہے ہوں۔
سوشل میڈیا پر کچھ عظیم دانشور خود ہی عدالت بن کے عمران خان کی سیاست کا جنازہ نکال چکے ہیں اور نااہل بھی قرار دے چکے ہیں ۔ ان سے معذرت کے ساتھ، ان کی یہ خواہش کبھی پوری نہیں ہوگی۔
عمران خان کا حقیقی جرم یہ ہے کہ ان کی بدولت ہی ولی عہد ِسلطنت کل جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے۔

Scroll To Top