امیر ترین اینکر کون ہے؟ 01-06-2011

kal-ki-baat
” کیپٹل ٹاک“ کے حامد میر اور ” جوابدہ “ کے افتخار صاحب ایک مشترکہ پروگرام ڈبیٹ کی صورت میں کرتے ہیں۔ ان کی حالیہ ڈبیٹ بجٹ کے حوالے سے تھی۔ اور رونا اس بات کا رویا جارہا تھا کہ ہمارے امراءاور روسا ءٹیکس کیوں ادانہیں کرتے۔ جو اراکینِ اسمبلی فی کس کئی کئی کروڑ کا خرچہ کرکے انتخابات جیتتے ہیں ٹیکس ادا کرتے وقت ان کی جیب خالی کیوں ہوتی ہے؟
پروگرام کے دوران حامد میر صاحب نے جذبات میں آکر انکشاف کردیا : ” میں دعوے کے ساتھ یہ بات کہتا ہوں کہ میں اور افتخار دونوں ملک کے صدر اور وزیراعظم سے کہیں زیادہ ٹیکس ادا کرتے ہیں۔“
بے شمار ناظرین اور سامعین اس بات پر چونکے ہوں گے۔ اس سے پہلے ٹی وی اینکر کا شف عباسی اور مبشر لقمان بھی اسی نوعیت کا دعویٰ کرچکے ہیں۔ اتفاق سے دونوں نے ہی اپنی قیمتی گھڑیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ” ان کی مالیت لاکھوں میں ہے لیکن ٹیکس بھی ہم لاکھوں میں ہی ادا کرتے ہیں۔“
اس سے ایک بات تو واضح ہوجاتی ہے کہ ہمارے ٹی وی اینکر ٹیکس کی ادائیگی کے نقطہ نظر سے ہمارے حکمرانوں اور پارلیمانی ارکان سے کہیں زیادہ امیر ہیں۔
ہمارے حکمرانوں اور سیاستدانوں کی” غربت“ کے اسباب کیا ہیں یہ تو وہ خود جانتے ہیں یا پھر خدا جانتا ہے۔۔۔ مگر ٹی وی اینکر ز کی امارت سمجھ میں آنے والی بات ہے۔
تمام ٹی وی اینکرز اپنے پروگراموں کی مقبولیت کے تناسب سے ” پیکج“ وصول کرتے ہیں۔ چینل مالکان زیادہ مقبول ٹی وی اینکرز کو اپنی طرف کھینچنے کی تگ و دو کرتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں جو ” پیکج“ ملتے ہیں ان کا حجم بڑھتا رہتا ہے۔ یہاں یہ بات یا د رکھنی چاہئے کہ ٹی وی چینلز کی آسودگی کا آنحصار اشتہارات پر ہوتا ہے اور اشتہارات کی آمدنی کا براہ راست تعلق پروگراموں اور ان کے اینکرز کی مقبولیت سے ہے۔
میں نے ایک واقفِ حال سے پوچھا کہ پاکستان کا سب سے امیر اینکر پرسن کون ہے۔
اس کا جواب تھا۔
” بلاشبہ کامران خان ۔۔۔ جاننے والے جانتے ہیں کہ ان کے ادا کردہ الفاظ سے سٹاک ایکسچینج میں چلنے والی ہواﺅں کا بھی رخ متعین ہوتا ہے۔“

Scroll To Top