افواج پاکستان اور سیاست دان 28-05-2011

kal-ki-baatمجھے کسی نے بتایا ہے کہ پاکستان نیوی کے سربراہ کی تقرری سیاسی نوعیت کی تھی۔ انہیں صدر زرداری نے اس عہدے کے لئے نامزد کیا تھا۔ اصولی طور پر ایسا ہونا بھی چاہئے کیونکہ صدر زرداری آئینی طور پر صدر ہونے کی بناءپر افواجِ پاکستان کے سپریم کمانڈر ہیں۔ ان کی اس حیثیت کا ذکر ان کے سب سے زیادہ پرُجوش حواری کو تا ہ قد)کوتاہ عقل نہیں(سنیٹر فیصل رضا عابدی میز پر مکے مار مار کر کیا کرتے ہیں۔ مجھے یہاں صرف یہ کہنا ہے کہ جن ممالک کے صدر وہاں کی افواج کے سپریم کمانڈر ہوا کرتے ہیں وہاں صدر کا انتخاب براہ راست عوام کے ووٹوں سے ہوا کرتا ہے ` ایوان ہائے اقتدار کے تاریک اور چھپے ہوئے کونوں میں پنپنے اور پروان چڑھنے والی سازشوں کے نتیجے میں نہیں۔
یقینی طور پر یہ بات محض ایک اتفاق ہوگی کہ زرداری صاحب کے تعلقات نیوی کے ساتھ ہمیشہ بہت اچھے رہے ہیں لیکن مجھے ڈرلگتا ہے اس وقت سے ` جب افواجِ پاکستان کے سربراہوں کی تقرری طے شدہ طریقہ کار اور اصولوں کو نظر انداز کرکے سیاسی تقاضوں کے مطابق سیاسی لوگ کیا کریں گے۔
میاں نوازشریف کے سینے میں یہ آرزو ہمیشہ ” موجزن “ رہی ہے کہ فوج میں تقرریاں کرنے کا اختیار بھی وہ اسی نداز میں استعمال کریں جس انداز میں تھانے داروں کی تقرریاں ہوا کرتی ہیں۔
آرزو خواہ کسی کے سینے میں کیوں نہ ہو ` ہمیں اس کا احترام ہے ` لیکن یہ امر واقعہ ہے کہ پاکستان ایک منفرد ملک ہے۔ اگر قومیتوں کے مغربی تصور کو بنیاد بنایا جائے تو یہ واقعی چار ملکوں کا ایک ایسا الحاق ہے جس کے مستقبل کی کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔ مگر ہمارے پاکستان کی جو بنیاد ہے اس کا نسلی اور لسانی عوامل سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ بنیاد ہمارے جھنڈے میں نمایاں ہے۔ اور اس بنیاد کی حفاظت کرنے کی سب سے زیادہ ذمہ داری جس ادارے کے پاس ہے اسے ہم افواجِ پاکستان کہتے ہیں۔
یہ درست ہے کہ افواج پاکستان کو سیاست میں دخل نہیں دینا چاہئے ۔ مگر یہ بھی درست ہے کہ سیاست دانوں کو بھی افواج ِ پاکستان کی ذمہ داریوں کا احترام کرنا چاہئے۔
اگر کبھی پاکستان کو کوئی خطرہ درپیش ہو تو افواجِ پاکستان کی ذمہ داری کیا ہوگی ؟

Scroll To Top