رمضان المبارک اور ہماری ترجیحات

ahmed-salman-anwerm
اللہ تعالیٰ نے اپنی شاہکار تخلیق انسان کو جسم اور روح سے مرکب کیا ہے۔ یہ اس کی کمال قدرت ہے کہ اس نے ان دونوں عناصر کی پرداخت و پرورش اور ان کی تقویت کے لئے بھی سامان کیا ہے۔ مادی جسم کی صحت و سلامتی اور بودو باش کے لئے مادی اسباب کو پیدا کیا جب کہ روح کو اجلا کرنے اور طاقت ور بنانے کے لئے روحانی اسباب مقرر کئے۔ یوں انسان کے ظاہرو باطن کی اصلاح اور صحت کے ذریعہ اسے زندگی کی مختلف کیفیات سے لذت آشنا کیا ہے۔
اللہ عزّ وجلّ نے اِنسانوں کو مختلف کام کرنے کے حکم دیے، اور مختلف کاموں سے باز رہنے کے بھی، اور جِس حکم کی حِکمت چاہی وہ بھی بیان فرما دِی، ایسا ہی ایک حکم رمضان شریف کے روزے رکھنے کا بھی ہے، جِس کی حِکمت اللہ تعالیٰ نے اِن اِلفاظ میں بیان فرما دی کہ “اے لوگوں جو اِیمان لائے ہو، ت±م پر روزے لکھ دیے(یعنی فرض کر دیے) گئے ہیں ، جیسا کہ ت±م سے پہلے والوں پر لکھے گئے، تاکہ ت±م تقویٰ اِختیار کرو (سورت البقر (2) / آیت 183)
نفس انسانی کی ظاہری و باطنی اصلاح کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاءکرام سلام اللہ علیہم اجمعین کی وساطت سے جو نظام عبادات دیا ہے اگر انسان کماحقہ ان پر عمل پیرا ہو تو انسان رشک ملائکہ بن جاتا ہے۔ یوں تو اسلام کی ہر عبادت اپنے اندر بے پناہ اسرار و رموز رکھتی ہے مگر ان سب میں سے روزہ ایک ایسی عبادت اور عمل ہے جو کئی اعتبارات سے دیگر عبادات کے مقابلہ میں انفرادیت کا حامل ہے۔
دنیا بھر کے مسلمان سال بھر رمضان المبارک کا انتظار کرتے ہیں اس کی نعمتیں اور برکتیں سمیٹنے کی کوششیں کرتے ہیں۔ نبی کریم نے رمضان کو بڑی عظمت اور برکت والا مہینہ قرار دیا ہے، اس میں عام نیکیوں کا اجر 70 گنا تک ملتا ہے جب کہ روزے کے لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ یہ میرے لیے ہے اس کی جزا میں ہی دوں گا۔
رمضان المبارک میں خاص طور پر گناہوں سے پرہیز کرنا نہایت ضروری ہے، ہر مو?من کو یہ طے کرلینا چاہیے کہ اس برکت ورحمت اورمغفرت کے مہینے میں آنکھ، کان اور زبان غلط استعمال نہیں ہوگی، جھوٹ، غیبت، چغل خوری اور فضول باتوں سے مکمل پرہیز کرے، یہ کیا روزہ ہوا کہ روزہ رکھ کر ٹیلی ویڑن کھول کر بیٹھ گئے اور فحش وگندی فلموں سے وقت گزاری ہورہی ہے، کھانا، پینا اورجماع جو حلال تھیں ان سے تو اجتناب کرلیا لیکن مجلسوں میں بیٹھ کر کسی کی غیبت ہورہی ہے، چغل خوری ہورہی ہے، جھوٹے لطیفے بیان ہورہے ہیں، اس طرح روزے کی برکات جاتی رہتی ہیں۔
”رمضان کو رمضان اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس مہینہ میں اونٹ کے بچے گرمی کی وجہ سے جھلس جاتے ہیں۔ ابو عمرو کے علاوہ بعض دوسرے لوگوں نے وجہ تسمیہ یہ بیان کی ہے کہ گرمی کی وجہ سے پتھر تپنے لگتے ہیں اور ”رمضائ“ گرم پتھروں کو کہتے ہیں۔ یہ بھی کہا گیا کہ رمضان گناہوں کو جلادیتا ہے۔ رمض کا معنی ہے جلانا۔
بعض نے کہا کہ رمضان میں نصیحت اور فکر آخرت کی گرمی سے دل سے ایسے متاثر ہوتے ہیں جیسے ریت اور پتھر دھوپ سے متاثر ہوتے ہیں۔ خلیل نے کہا رمضان ”رمض“ سے بنا ہے اور ”رمض“ کا معنی ہے برساتی بارش۔ ماہ رمضان بھی بدن سے گناہ ایسے ہی دھو ڈالتا ہے اور دلوں کو پاک کردیتا ہے (جیسے بارش سے بدن دھل کر پاک صاف ہوجاتا ہے)“۔
قرآن پاک بھی اسی مہینے میں نازل ہوا۔ روزہ تقویٰ و تزکیہ نفس کا نام ہے، نیکی کی جستجو، انسانیت سے محبت اور خدمت اور خدا کی نافرمانی اور نفس کی تابعداری سے بچنا ہی روزے کی اصل روح ہے۔ جس میں آنکھ، کان، زبان، نیت غرض ہر چیز اللہ کے حکم کے تابع بنا کر نیکی و اجر کی جستجو کی جاتی ہے۔ اس مقصد کے لیے نماز تراویح، قرآن پاک کی تلاوت، نوافل، راتوں کا قیام، اعتکاف و زکوٰة جیسی عبادات کی جاتی ہیں۔
رمضان المبارک کا مہینہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی بڑی عظیم نعمت ہے، اس مہینے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے انوار وبرکات کا سیلاب آتا ہے اور اس کی رحمتیں موسلادھار بارش کی طرح برستی ہیں، مگر ہم لوگ اس مبارک مہینے کی قدرومنزلت سے واقف نہیں، کیونکہ ہماری ساری فکر اور جدوجہد مادّیت اور دنیاوی کاروبار کے لیے ہے، اس مبارک مہینے کی قدردانی وہ لوگ کرتے ہیں جن کی فکر آخرت کے لیے اور جن کا محور مابعد الموت ہو۔
رمضان قرآن کے نزول کا مہینہ ہے اور اس مہینے مسلمانوں کی “نظر کرم “قرآن ہی پر رہتی ہے لیکن اس ”نظر کرم“ کی حقیقت کیا اس سے مختلف ہے جس کی ایک ادنیٰ سی جھلک ہم نے پیش کی ہے؟ سوال یہ ہے ،کیا پھر بھی یہ توقع مبنی بر حقیقت ہے کہ قرآن ہماری زندگیوں میں کوئی مثبت تبدیلی لانے کا باعث ہو گا؟
رمضان احتساب نفس کا مہینہ ہے۔ اللہ کے حضور اپنے گناہوں کا اعترف کر کے سچے دل سے معافی مانگنے کا مہینہ ہے اور سچے دل سے کیا مرادہے؟یہ کہ جس گناہ کی معافی مانگی جارہی ہو اس کو نہ کرنے کا ذہن میں پختہ عہد ہو۔اب اگرکوئی زبان سے تو یہ کہہ رہا ہو کہ اے اللہ معاف کر دے اور ہاتھ کم تول رہا ہو ،دل کسی کے کینے سے بھرا ہو ،ذاتی کام پر سرکاری وسائل خرچ ہو رہے ہوں،حق دار کا حق مارا جا رہا ہو ، ناجائز منافع خوری ہو رہی ہو تو ایسی تو بہ بھلا وہ پروردگار کیسے قبول کرے گا جو صرف زبانوں کے الفاظ ہی نہیں دلوں کے حال اور دماغوں کے فتور بھی جانتا ہے ؟ معافی مانگنے والے کتنے ایسے ہیں جنھوں نے انتہائی سچائی سے ان لوگو ں کی فہرست بنائی، جن کا حق مارا گیا ،جن کو نقصان پہنچایا گیااور پھر یہ ارادہ اور عزم کیا کہ اس کا جہاں تک ممکن ہو ازالہ کیا جائے گا۔ کتنے ایسے ہیں جنھوں نے اپنی شخصیت کا بے لاگ جائزہ لیتے ہوئے اپنی اخلاقی اور وصفی کمزوریوں کی فہرست بنائی اور پھر اپنے آپ سے عہد کیا کہ آج کے بعد وعدہ خلافی نہیں کریں گے ،جھوٹ نہیں بولیں گے ،غیبت سے باز رہیں گے،بے ہودگی اورفحش کاموں سے اجتناب کریں گے۔بد تمیزی، دل دکھانے، اشتعال میں آکر حد سے تجاوز کرنے کی عادت کو سچے دل اور مضبوط ارادے ختم کرنے کی کوشش کریں گے۔
اللہ رب العزت فرماتا ہے کہ اپنی امانتیں اہل و دیانتداروں کے سپرد کرو، ہماری ترجیحات ذات، برادری، مذہب، مسلک یا ذاتی مفادات ہوتے ہیں۔ اللہ ایسے لوگوں کو جو اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے ظالم، کافر، اور فاسق قرار دے رہا ہے وہ فرماتا ہے کہ ریا کاری مت کرو، ذخیرہ اندوز ی مت کرو، ظلم مت کرو، خیانت مت کرو، تمہاری دوستی اور دشمنی صرف اللہ کے لیے ہونی چاہیے لیکن ہمارے تمام اعمال اس کے برعکس ہیں جن کی وجہ سے ہر عہدہ اور منصب پر نااہل و مکار افراد براجمان ہوجاتے ہیں اور اپنی نااہلی اور مکاری سے ملک و عوام دونوں کا استحصال و بیڑا غرق کرتے ہیں۔ اس کا جواب ہم سے بھی طلب کیا جائے گا۔ کاش ہم رمضان کے اس بابرکت مہینے میں اپنی اصلاح و احوال کرسکیں۔

Scroll To Top