یہ ایک تاریخ ساز فیصلے کی گھڑی ہے 14-05-2011

kal-ki-baatشب قدر میں دہشت گردوں کی وحشیانہ اور سفاکانہ کارروائی اہل پاکستان کے لئے ایک ایسے پیغام کا درجہ رکھتی ہے جس پر ہم نے کان نہ دھرے اور توجہ نہ دی تو آنے والے دور میں ہمیں ایسے سنگین اور خوفناک حالات سے گزرنا پڑے گا کہ ہم خود اپنے آپ پر ترس کھائیں گے۔
اگرچہ منطق یہ کہتی ہے کہ اپنے حکمران ہم نے خود ایک جمہوری عمل کے ذریعے منتخب کئے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ قدرت ہمیں نہ صرف ہمارے ”کردہ “بلکہ ناکردہ گناہوں کی بھی سزا دے رہی ہے ۔یہ ”دانش“ صدیوں کا سفر طے کرکے ہم تک پہنچی ہے کہ قادر مطلق جس قوم کو سزا دینا چاہتا ہے اس کے مقدر میں اس کے بدترین لوگوں کی حکمرانی لکھ دیتا ہے۔
اگر ہم اپنے اس ” مقدر“ پر صرف اس لئے قناعت کرنا چاہتے ہیں کہ جو لوگ ہم پر حکمران ہیں یا جن لوگوں کے فیصلے ہماری زندگی اور موت کے معاملات طے کررہے ہیں ` ان لوگوں کو ہم نے جمہوریت کا پرچم فضاﺅں میں لہرانے کے لئے خود منتخب کیا ہے ` تو اسے تاریخ ہماری اجتماعی خودکشی قرار دے گی۔
جو پیغام ہمیں 13مئی 2011ءکے لرزا دینے والے واقعے سے ملا ہے ` وہ پیغام ہمیں 2 مئی 2011ءکو بھی دیا گیا تھا ۔ میں یہ کہنا نہیں چاہتا کہ دونوں پیغام ایک ہی سمت سے آئے ہیں ` مگر کہے بغیر رہ بھی نہیں سکتا ۔ ہم کب تک اس خوفناک ننگی حقیقت کو جھٹلاتے رہیں گے کہ ایک سامراجی طاقت کے سامراجی عزائم کے تحت لڑی جانے والی ایک ہلاکت آفرین جنگ کا حصہ بن کر ہم نے اپنے ملک کو تباہی اور بربادی کی طرف دھکیل دیا ہے۔
ہاں۔ اب یہ ہماری جنگ ہے۔
اور ہمارے سامنے اس جنگ کو لڑنے اور جیتنے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں۔
لیکن جس دشمن کے ساتھ ہم نے یہ جنگ لڑنی ہے اس کی سرپرستی کرنے والوں کے اگر ہم حلیف اور اتحادی بنے رہے تو ہم یہ جنگ کیسے جیت سکیں گے ۔؟
وقت آگیا ہے کہ ہم واشنگٹن سے کہہ دیں کہ تم اپنی جنگ خود لڑو۔ اور ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دو تاکہ ہم اپنی صفوں سے ان تمام بھیڑیوں کو تلاش کرسکیں جو اپنے غیر ملکی آقاﺅں کے آلہ کار بن کر مملکت خداداد پاکستان کو آگ اور خون کا دریا بنا دینے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔۔۔
یہ ایک تاریخ ساز فیصلے کی گھڑی ہے۔

Scroll To Top