خارجہ پالیسی کی تلاش

ahmed-salman-anwer

سعودی فرماں روا کی دعوت پر وزیر اعظم نواز شریف سعودی عرب پہنچ گئے ہیں۔ جہاں امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے سے موجود ہیں۔ وزیراعظم اور امریکی صدر کی پہلی ملاقات کی توقع کی جارہی ہے۔ ایران اور سعودی عرب کی بڑھتی ہوئی حالیہ کشیدگی بھی پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ خارجہ امور کے حوالے سے یہ وزیر اعظم نواز شریف کا یہ دورہ کافی اہمیت کا حامل ہے۔ لیکن کیا وزیراعظم نواز شریف نے وہ تمام تر معاملات ترتیب دیئے ہیں جن کے بارے میں انہیں اپنے اس دورہ میں بات کرنی چاہیے۔کیونکہ وزیرخارجہ کا قلم دان بھی میاں نوازشریف کے ہی پاس ہے۔
پاکستان دنیا کیلئے ایک بنیادی مسئلہ ہے اس لئے ہمیں یہ علم ہونا چاہیے کہ ہمیں مستقبل میں کن مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا یہ چیز اہم نہیں کہ ہم دنیا کو کس طرح دیکھتے ہیں بلکہ اس سے زیا دہ یہ ضروری ہے کہ دنیا ہمیں کس طرح دیکھتی ہے۔ اسی طرح ہم اپنی خود مختاری کو محفوظ اور اپنے عوام کیلئے زیادہ کچھ حاصل کرنے سے متعلق ذہا نت آمیز اقدامات کر سکتے ہیں۔کیونکہ اس وقت پاکستان کو بہت سے بین الاقوامی ایشوز درپیش ہیں۔
قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی نریندر مودی اور سجن جندال چلا رہے ہیں۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے پاکستان سے گرفتار ہونے والے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کا کیس اس وقت عالمی عدالت زیر سماعت ہیں۔ حکومت وقت بین الاقوامی سطح پر پاکستان میں بھارت کے ہاتھوں دہشتگردی کرائے جانے ایشو کو اجاگر کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔ حتیٰ کہ میاں نوازشریف نے کلبھوشن پر آج تک بذات خود کوئی بات نہیں کی ہے۔
نواز شریف حکومت کو بھارت کے ساتھ تعلقات کی بہتری کیلئے سنجیدہ امور کو بھی مدنظر رکھنا ہو گا۔ چاہے وہ مسئلہ کشمیر ہو یا پانی کا تنازعہ یا پھر سر کریک اور سیاچن جیسے مسائل ہوں، دونوں ممالک کی بقا کےلئے ان اندیشوں اور وسوسوں کا قلع قمع بھی ضروری ہے جو بہتر تعلقات کی راہ میں ہمیشہ حائل ہوتے رہے ہیں۔سی پیک بھارت کو ہضم نہیں ہو رہا۔ اس وقت بھارت ہتھیاروں کی جنگ چاہتا ہے جبکہ ہمیں سفارتی محاذ پر جنگ لڑنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں تجربہ کار لوگوں سے سفارتکاری کا کام لے کر دنیا کو یہ باور کرانا ہے کہ بھارت خطے کی صورتحال خراب کر رہا ہے۔ جب ہم بھارت کی خارجہ پالیسی کا جائزہ لیتے ہیں تو پاکستانی خطرہ بھارت کی خارجہ پالیسی اور اندرونی پالیسیوں کا معمار ہے۔مودی گجرات کے سیاستدان ہیں، وہ اسی پالیسی پر کام کر رہے ہیں اور اب وہ پاکستان مخالف جذبات کو ہوا دے کر ملکی سیاست میں فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ بھارتی پالیسی کا مرکز پاکستان نہیں ہے بلکہ وہ اپنے تمام معاملات کو ساتھ لے کر چل رہا ہے، وہ چین، ایران، امریکہ، افغانستان و دیگر ممالک کے ساتھ معاملات کو آگے بڑھا رہا ہے، ہمیں بھی اپنے تمام مسائل کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے۔
مغربی مفکر”گروٹی“ بین الاقوامی قانون کا ماہر اور بانی مانا جاتا ہے، وہ خارجی پالیسی کے استحکام کے لئے ان عناصر کو لازمی گردانتا ہے جس سے ریاستوں میں ایک دوسرے کےلئے احترام اور عزت کا جذبہ موجود ہے۔حالیہ کچھ عرصہ کے دوران سعودی عرب سے 39 ہزار پاکستانیوں کی بے دخلی قابل مذمت ہے۔ سعودی عرب سےپاکستانیوں کو بے دخل کیے جانے کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔ کیا میاں نواز شریف اپنے ذاتی تعلقات سے بالا تر ہو کو ملکی وقار اور قومی جذبہ کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اس ایشو پر بھی سعودی حکومت کو مدلل اور جائزمطالبات پیش کر سکیں گے۔ کیا وہ پہلے سے بیروزگاری اور بے حالی کا شکار پاکستانی قوم کو سعودی حکومت کے ہاتھوں مزید بےروزگاری کی دلدل میں دھکیلنے پر احتجاج ریکارڈ کروائیں گے۔
دوسری جانب امریکہ افغانستان میں اپنی فوج میں حالیہ اضافہ کر چکا ہے۔ پاک افغان بارڈر پر افغانستان کے حالیہ حملے نے یہ بتلا دیا ہے کہ عالمی طاقتیں کیا سوچ رہی ہیں۔ جبکہ افغانستان نے بھارت کی زبان بولتے ہوئے کھلے عام پاکستان پر افغانستان میں تخریبی کارروائیاں کروانے کے الزامات لگانے شروع کر دیئے ہیں حالانکہ معاملہ اسکے بالکل برعکس ہے۔ پاکستان میں تخریب کرنے اور کروانے والے تمام لوگ افغانستان میں بیٹھے ہیں۔انکی امدا د بھی وہاں سے ہو رہی ہے۔ ٹریننگ اور اسلحہ بھی فراہم کیا جا رہا ہے۔دوسری جانب کوئی پچاس لاکھ افغان مہاجرین بھی 35برس سے پاکستان میں موجود ہیں جو نہ صرف ہماری اکانومی پر بوجھ ہیں بلکہ ان میں سے بعض لوگ سمگلنگ اور تخریبی کارروائیوں میں بھی ملوث ہیں۔ اسکے باوجود پاکستان نہ تو افغان مہاجرین کو واپس ا±نکے ملک روانہ کر سکا ہے نہ ہی ا±ن کو کیمپوں تک محدود کر سکا ہے۔ جبکہ دوسری جانب افغانستان میں طالبان پھر سے طاقت اور اقتدار پکڑر ہے ہیں۔
یورپ کے لیئے خارجہ پالیسی کے حوالے سے ہمیں دیکھنا ہوگا کہ صدرٹرمپ اپنی خارجہ پالیسی کس طرح بناتے ہیں اور یہ ہم پر کس طرح اثر انداز ہو گی۔ ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے کہ عرب ملکوں میں پیدا ہونے والی تبدیلیوں کے حالات میں وہ خود کو کس حد تک ملوث کر سکتے ہیں خصوصاً ایسی صورت حال ہو کہ ان تبدیلیوں کے اثرات پاکستان پر بھی براہ راست مرتب ہو سکتے ہیں۔
پا ک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے کو پاکستان کی معاشی ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر قرار دیاجارہا ہے۔ س منصوبے سے پاکستان میں تجارتی سرگرمیوں کو فروغ حاصل ہوگا اور اس راہداری کو استعمال کرنے کی فیس بھی ہمارے حصے میں آئے گی جب کہ دوسری جانب چین کو اپنے جنوب مغربی صوبوں کو ترقی دینے کا موقع ملے گا۔ امریکا چین کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ اور خطے میں چین کی بالا دستی سے خائف ہے اسی لیے وہ اب بھارت پر مہربان دکھائی دے رہا ہے۔
بھارت، افغانستان اور ایران کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کے حوالے سے بعض پاکستانی ماہرین اور اپوزیشن کے رہنماو¿ں کا کہنا ہے ملک کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے تمام بڑے تجارتی پارٹنرز کے ساتھ تجارتی معاہدے کرنے کیلئے قابل قبول فری ٹریڈ معاہدوں کے بغیر دو طرفہ سرمایہ کاری نہ کرنے کو بنیادی اصول بنایا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں جہاں وزیر خارجہ جیسا اہم ترین عہدہ تک تعینات نہیں کیا جا سکا ہے وہاں موجودہ حکومت کی ناقص خارجہ پالیسی ، کرپشن، لڑکھڑاتی معیشت کمزر اداروں اور بھاری قرضوں نے ہمیں دنیا بھر میں مذاق بنا کر رکھ دیا ہے اس وقت پاکستان کو ایک متوازن، ٹھوس و موثر خارجہ پالیسی اپنانے کی ضرورت ہے۔ اگر اب بھی ایسا نہ کیا گیا اور وقت ہاتھوں سے نکل گیا تو پھر پچھتانے کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا۔ ہمارے مسائل دھرے کے دھرے رہ جائیں گے اور ہمارا مستقبل تاریک ہوجائے گا۔

Scroll To Top