طے ہمیں یہ کرنا ہے کہ دہشت گردی کے اسباب میں ہماری مسلمانی کو کتنااور ہماری امریکہ دوستی کو کتنا دخل ہے 08-05-2011

kal-ki-baat
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ آج ” دہشت گردی“ ہے۔ اور ہمیں تاریخ کے موجودہ اہم موڑ پر یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ” کیا ہمیں اپنے ملک سے دہشت گردی کے عفریت کو نکال باہر پھینکنا ہے یا پھر امریکہ کی اس نام نہاد ( war on terrorدہشت گردی کے خلاف جنگ)کا حصہ بنے رہنا ہے جس نے گزشتہ دہائی کے اندر وطنِ عزیز کی معیشت اور معاشرت دونوں کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔؟“
خود کش حملہ آور یا خود کش بمبار کی ترکیب ہمارے کانوں کے لئے نائن الیون سے پہلے اجنبی نہیں تھی مگر اس کا استعمال جب بھی ہوتا تھا تو ہمارے تصور میں فلسطین کا نام ابھرتا تھا جہاں مغربی اور صیہونی سامراج نے لاکھوں مسلمانوں کو ” جرم مسلمانی “ کی سزا کے طور پر غلامی کے شکنجے میں جکڑرکھا تھا۔
جب ” نائن الیون “ ہوا تو ” مغربی عزائم “ سے واقفیت رکھنے والوں کا ماتھا فوراً ٹھنکا کہ دنیا کے نقشے پر کوئی خوفناک طوفان نمودار ہونے والا ہے۔ چند گھنٹوں کے اندر ہی صدر جارج بش نے بغیر کسی تحقیقات کے ہمارے بدترین خدشات کو یہ کہہ کر درست ثابت کردیا کہ نائن الیون کے مجرم کا ہیڈکوارٹر افغانستان ہے۔
” نائن الیون“ عالم اسلام کے خلاف کتنی بڑی سازش تھی اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس واقعے کے بعد امریکہ میں کبھی کوئی دہشت گردی نہیں ہوئی لیکن کم ازکم تین اسلامی ممالک یعنی افغانستان پاکستان اور عراق کو دہشت گردوں کی شکار گاہوں میں تبدیل کردیا گیا ہے۔
صدر اوبامہ نے کہا ہے کہ امریکی ” نائن الیون“ کو کبھی نہیں بھولیں گے۔ آج ہمیں بھی فیصلہ کرلینا چاہئے کہ ہم بھی اپنے ملک میں دہشت گردی کا شکار ہونے والوں اور ان کے لواحقین کی چیخوں آہوں اور سسیکوں کو کبھی نہیں بھولیں گے۔امریکیوں کی جانوں کی قیمت ہماری جانوں کی قیمت سے زیادہ ہرگز نہیں۔
ہمیں بھی دہشت گردی کے خلاف ایک جنگ لڑنی ہے۔ اور اس جنگ کو جیتنے کی طرف ہمارا پہلا بڑا قدم ان اسباب کا خاتمہ ہوگا جن کی وجہ سے دہشت گردوں نے ہماری سرزمین پر قدم رکھا۔
طے ہمیں یہ کرنا ہے کہ ان اسباب میں ہماری ” مسلمانی“ کو کتنا اور ہماری ” امریکہ دوستی “ کو کتنا دخل ہے۔
دوستی کے پردے میں امریکہ نے یہاں اپنے ایجنٹوں کا جتنا بڑا جال بچھایا ہے اس کا تصور کرکے میں کانپ جاتا ہوں۔ امریکی ایجنٹوں کی فوج صرف گوری چمڑی نہیں رکھتی۔ صرف بلیک واٹر نے اپنی کمین گاہیں یہاں نہیں بنائیں ` ان لوگوں کے مورچے بھی یہاں بڑے مضبوط ہیں جو کہتے رہے ہیں کہ یہاں بلیک واٹر کا کوئی وجود نہیں۔
جس ملک کا نظم و نسق اس کے دشمنوں کے ایجنٹوں کے ہاتھوں میں ہو اسے تباہی اور بربادی سے کون بچا سکتا ہے؟
اگر ہم پاکستان کو تباہی و بربادی سے بچانا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی صفوں میں مورچہ بند میر جعفروں اور میرصادقوں کا صفایا کرنا ہوگا۔ اس کے لئے پہلا بڑا فیصلہ ہمیں یہ کرنا ہوگا کہ ہم امریکی خیرات کے بغیر زیادہ باعزت انداز میں زندہ رہ سکتے ہیں۔۔ ۔ خدا ہمارے حاکموں کو یہ فیصلہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

Scroll To Top