فراریوں کے ہتھیار ڈالنے کا سلسلہ جاری ہے

zaheer-babar-logo
بلوچستان میں گذشتہ دوسال کے دوران 600سے زائد شرپسندوں نے خود کو قانون کے حوالے کردیا۔ کالعدم تنظیموں کے ان کمانڈروں نے مسلح جدوجہد کا راستہ چھوڑ کرامن اور ترقی کی راہ پر چلنے کا اعلان کیا ۔ اس ضمن میں گذشتہ روز بھی ایسا ہی منظر نامہ دیکھنے کو ملا جس میں 26 شرپسندوں نے انتظامیہ کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔یاد رہے کہ بلوچستان حکومت کے ترجمان انوار اللہ کاکڑ نے 21 اپریل کو 434 فراریوں کے ہتھیار ڈالنے کے موقع پر کہا تھا کہ آنے والے دنوں میں مزید فراری مسلح جدوجہد کا راستہ ترک کرنے کا اعلان کرینگے۔“
رقبہ کے اعتبار سے ملک کے سب سے بڑے صوبہ میں دہشت گردی کی کارروائیاںگذشتہ کئی دہائیوں سے جاری ہیں۔ پاکستان کے علاقائی اور عالمی دشمنوں نے بلوچستان کے محل وقوع کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسا کھیل کھیلا جس کا نقصان ایک طرف بلوچستان کو جبکہ دوسری جانب پاکستان کو پہنچا۔ حوصلہ افزاءامر یہ ہے کہ بلوچستان کے باشعور شہری اس حقیقت کو جان چکے کہ دور اور نزدیک کے بدخواہ اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے اس تاریخی خطہ میں کشت وخون سوچ سمجھ منصوبہ کر کررہے۔ باخبر حکومتی حلقوں کا دعوے ہے کہ بلوچستان میں محض بھارت اور افغانستان کی خفیہ ایجنسیاں ہی متحرک نہیںبلکہ درجنوں اور ملک بھی اپنے اپنے مفادات کے حصول کے لیے اس خطے میں سرگرم عمل ہیں۔
ایک طرف دشمنوں کی مکروہ پالیسی ہے تو دوسری جانب منتخب وغیر منتخب دونوں حکومتوں کی جانب سے زمہ داری کا مظاہرہ نہیںکیا گیا۔ سابق وزیراعظم اور پی پی پی کے بانی زوالفقار علی بھٹو کے دور میں اگر بلوچستان میں فوجی آپریشن کیا گیا تو سابق صدر پرویز مشرف نے نواب اکبر بگٹی کو ایک متنازعہ آپریشن میں شہید کر ڈالا۔ آج افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بلوچستان کا صوبہ جس قدر حساس ہے اس کو چلانے میں اتنی ہی غیر زمہ داری کا مظاہرہ کیا گیا۔
(ڈیک)بلوچستان میں مسائل کے زمہ دار وہ جاگیردار، نواب اور مذہبی رہنما ہیں جو سیاست دان کا روپ دھار کر اس صوبے کے رہنے والوں کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ کرتے رہے۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیںہونی چاہے کہ وزیراعلی ، گورنر ، وفاقی و صوبائی وزراءجیسے اہم عہدوں پر براجمان ہونے کے باوجود صوبہ کا طاقتور سیاسی طبقہ بے اختیار ہونے کی دہائی دیتا رہا۔(ڈیک) بلاشبہ صوبے کے بعض علاقوں میں پائی جانے والی احساس محرومی کو دانستہ طور پر ختم کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ اس کے برعکس بلوچستان کے مسائل کو بڑھا چڑھا کر پیش کرکے محض اپنی جبیں بھرنے کی حکمت ِعملی پر عمل درآمد کیا جاتا رہا۔
مقام شکر ہے کہ بلوچستان کے شہری علاقوں میںبسنے والوں کی اکثریت دوست اور دشمن کو بڑی حد تک پہنچان گئی۔ یہی سبب ہے کہ نام نہاد قوم پرستوں کا اثر رسوخ بتدریج کم ہورہا۔ احساس محرومی کے نام پر دکان چمکانے والوں کے بہکاوے میں عوام آنے کو تیار نہیں۔ پاک فوج کی جانب سے مذہبی ، لسانی اور سیاسی بنیادوں پر دہشت گردی کرنے والے گروہوں کے خلاف بلا امتیار کارروائیاں کی گئی ہیں۔ زیادہ پرانی بات نہیں جب کوئٹہ میں صدیوں سے مقیم ہزارہ برداری سے تعلق رکھنے والے افراد کو چن چن کر قتل کیا جاتا تھا۔ ایسا بھی ہوا کہ ایک ہی کارروائی میںکم وبیش سو معصوم افراد کو نشانہ بنایا گیا مگر آج ایسا نہیں ۔ شومئی قسمت سے یہ بھی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ہوا کہ بس میں سوار افراد کو شناخت کرکے سر عام قتل کردیا گیا۔ کوئی نہ بھولے کہ کشت وخون کے واقعات کم کرنے میں ہماری سیاسی وعسکری قیادت کا کردار کسی طور پر اہم نہیں۔ان کالعدم جماعتوں کے افراد کے خلاف پوری قوت سے کارروائی کی گئی جو عملا ًریاست کی رٹ کو چیلنج کرچکے تھے۔ ایک طرف ہمارے افسر اور جوانوں نے اپنی جانوں کا نذارنہ پیش کرکے انسانیت سوز کارروائیاں کرنے والوں کو نشان عبرت بنایا تو دوسری جانب عام بلوچی نے بھی آگے بڑھ کر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب دست تعاون بڑھایا۔
بلوچستان میں آج بڑی حد تک امن ہے مگر مثالی حالات بہرکیف موجود نہیں۔ ہر چند روز بعد بدامنی کا کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ ضرور رونما ہوتا ہے جو قومی سطح پر ہمارے لیے خفت کا باعث ہے۔ جمعیت علماءاسلام ف کے رہنما اور سینٹ کے ڈپٹی چیرمین مولانا غفور حیدری حال ہی میںمستونگ میں ہونے والے خودکش حملے میںبال بال بچے۔ اس کارروائی کے نتیجے میں کم وبیش 25افراد شہید اور 30سے زیادہ زخمی ہوگے۔ ابھی اس افسوس واقعہ کی بازگشت سنائی دے رہی تھی کہ گودار میں دو مختلف واقعات میں 9 مزدوروں کو سرعام قتل کردیا گیا ۔
حالیہ دنوں میں سی پیک کی بدولت بلوچستان کی اہمیت کئی گنا بڑھ چکی۔ ون بیلٹ ون روڈ کے تحت بلوچستان نے ایک طرف ملک کے مختلف حصوں کو آپس میں جوڑنے کا فریضہ سرانجام دینا ہے تو دوسری جانب اس تجارتی روٹ کو پڑوسی ملکوں کے علاوہ یورپ سے ملانے میں بھی مدد فراہم کرنی ہے۔ اس پس منظر میں بلوچستان میں قیام امن کی اہمیت کئی گنا بڑھ چکی ۔ سی پیک سے اسی صورت بھرپور فوائد سمیٹے جاسکتے ہیں جب بلوچستان میں بالخصوص اور ملک کے دیگر حصوں میں بالعموم امن وامان کی صورت حال میں بہتری نظر آئے۔ یہی وہ مجبوری ہے جو ملکی سلامتی کے اداروں کے علاوہ قانون نافذ کرنے والے دیگر ادارے بھی پوری جانفشانی کے ساتھ امن وامان بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہیں ۔ اس پس منظر میں فررایوں کی جانب سے قومی دھارے میں مسلسل شامل ہونا یقینا ملک وملت کے لیے نیک شگون ہے۔

Scroll To Top