سانپ سے شہد کی آرزو رکھنا بدترین خود فریبی نہیں تو پھر اور کیا ہے ؟ 05-05-2011

kal-ki-baatاسامہ بن لان کے معاملے میں بہت سارے سوالات انسانی عقل و دانش کو ہمیشہ جھنجھوڑتے رہیں گے۔
ایک ایسا شخص جو لاکھوں انسانوں کی موت کا باعث بنا دیا گیا ہے اور جس کے تعاقب میں امریکہ اس قدر ” دیوانہ“ ہوگیا کہ اس نے کھربوں ڈالر ایک ایسی جنگ میں جھونک دیئے جس میں اگر کوئی ہدف تھا تو ” اسلام کا امیج“ تھا ۔ ایک ایسا شخص جس کے ساتھ دنیا بھر کے دہشت گردوں کی قیادت کرنے کا ” اعزاز “ منسوب کیا گیا اور جو بے پناہ ذہانت اور ناقابل تسخیر منصوبہ بندی کے بغیر دس برس تک تاریخ کی سب سے بڑی طاقت (امریکہ )کو ناکوں چنے نہیں چبوا سکتا تھا۔ یہ شخص برسہا برس تک صرف ایک ” پیغام رساں یا ایلچی“ پر بھروسہ کیسے کرتا رہا ` اوراس نے کیوں کبھی نہ سوچا کہ میرا یہ ایلچی یا پیغام رساں جب چاہے گا مجھے میرے ” قاتلوں“ کے ہاتھ بیچ دے گا۔ ؟
اس شخص نے پناہ گاہ تلاش کی بھی تو وہ ایک ایسے کمپاﺅنڈ پر مشتمل تھی جس میں ہیلی کاپٹر آسانی کے ساتھ اتر سکتے تھے۔ جس میں فرار کے لئے کوئی راستہ نہیں رکھا گیا تھا۔ جو 2005ءمیں بنائی گئی اور چھ برس کے عرصے کے دوران اس میں ایسی سرنگ کا اضافہ کرنے کی بھی ضرورت محسوس نہ کی گئی جو ہنگامی حالات میں کام آسکے۔ کیا یہ بات قابل فہم ہے ؟ کیا اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسامہ بن لادن اپنی سلامتی کے بارے میں بالکل بے نیاز تھا؟
نیویارک ٹائمز کے توسط سے امریکہ فرماتا ہے کہ اس بات کی تحقیقات کی جائے گی کہ پاکستان کی حکومت یا فوج نے اسامہ بن لادن کی اعانت یا حفاظت کی یانہیں۔ یہ رپورٹ امریکی عوام ہی نہیں پوری مغربی دنیا میں یہ تاثر پیدا کئے بغیر نہیں رہ سکتی کہ پاکستان واقعی ” دہشت گردوں “ کا قلعہ بنا دیا گیا ہے۔ اس ضمن میں بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ صرف امریکی میڈیا ہی پاکستان پر فرد جرم عائد کرنے کی کوششوں میں مصروف نہیں ` خود ہمارے اپنے میڈیا میں ایسی کالی بھیڑیں موجود ہیں جو ” امریکی مقاصد “ کے حصول میں معاونت کررہی ہیں۔ یہ بات اب ” اظہر الحق الشمس“ ہے کہ مغرب کا کافی بڑا میڈیا براہ راست سی آئی اے اور پنٹاگون سے ہدایات لے کر اپنے پروپیگنڈے کا لب ولہجہ متعین کرتا ہے۔ اگر ایسی ہی خدمات ہمارے اپنے لوگ ” واشنگٹن “ کو مہیا کرنے لگیں تو پھر ہمارے سامنے کیا کیا ” آپشن“ باقی رہ جاتے ہیں ؟
ہمارے میڈیا میں سے کسی نے اب تک امریکیوں سے یہ سوال کیوں نہیں پوچھا کہ اگر یہ شخص واقعی اسامہ بن لادن تھا اور ہماری ایجنسیوں کو علم تھا کہ یہ اسامہ بن لادن ہوسکتا ہے تو امریکہ کے لئے اتنے بڑے پیمانے پر پروپیگنڈہ کرنے کا میدان کھلا کیوں چھوڑا گیا ۔؟
اس ساری داستان میں اتنے جھول ہیں کہ ایک انشکاف دوسرے انکشاف کی نفی کرتا نظر آرہا ہے۔ جھوٹ کے واقعی پاﺅں نہیں ہوتے۔ وہ ہمیشہ لڑکھڑاتا رہتا ہے۔
یہ ساراناٹک اگر ” اوباما “ صاحب کی مقبولیت کاگراف بڑھانے کے لئے رچایا گیا ہے تو کوئی بات نہیں۔ لیکن اگر مقصد پاکستان کے اردگرد گھیرا تنگ کرنا ہے تو وقت آگیا ہے کہ ہم ۔ یعنی پاکستان کی فوج اور عوام دونوں۔ سینہ تان کر اس ” دشمن سوچ “ کے سامنے کھڑے ہوجائیں جو ہمیں تاریخ کے کباڑخانے میں پھینکنے پر تُلی ہوئی ہے۔
اس واقعہ پر بھارت سے جو ردعمل سامنے آیا ہے وہ ہماری آنکھیں کھول دینے کے لئے کافی ہونا چاہئے۔ سانپ سے شہد کی آرزو رکھنا خود فریبی کی انتہا نہیں تو پھر اور کیا ہے ؟

Scroll To Top