سیکورٹی رِسک اور کسِے کہتے ہیں؟

aaj-ki-baat-new-21-april

عمران خان کی اس دلیل سے اختلاف کرنا آسان نہیں کہ جس لیڈر کے اثاثے ملک سے باہر ہوں اس کے لئے اس کا ملک ہی سب کچھ نہیں ہوگا۔
میں اس بحث میں نہیں جاتا کہ میاں نوازشریف اور آصف علی زرداری نے اتنے بڑے پیمانے پر اپنے اثاثے ملک سے باہر کیسے بنائے اور وہ اتنی ساری دولت پاکستان سے باہر کیسے لے گئے۔ میری دلیل صرف یہ ہے کہ اگر میں ملک کا وزیراعظم ہوں اور میرا اربوں کی مالیت کا کاروبار اور اربوں کی ہی مالیت کے اثاثے برطانیہ میں ہوں تو کیا میں کوئی ایسا اقدام کرنے کی جسارت کروں گا جو برطانیہ کے حکمرانوں کو ناگوار گزرے۔ آصف علی زرداری تو ثابت بھی کرچکے ہیں کہ ان کا ” وطن“ وہ بریف کیس ہے جسے اٹھا کر وہ جہاز میں سوار ہوا کرتے ہیں۔ ان کے لئے (خدا نخواستہ )اگر یہ ملک غرق بھی ہوجائے تو انہیں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ میاں نوازشریف کا معاملہ اس سے مختلف نہیں۔ انہیں صرف یہ فرق پڑے گا کہ وزیراعظم بننے کے لئے ان کے پاس کوئی سرزمین نہیں ہوگی۔
ویسے تو میاں صاحب اور زرداری صاحب ایک ہی کشتی کے سوار ہیں مگر میاں صاحب دو ہاتھ آگے گئے ہیں۔ میاں صاحب نے اپنی بیرون ملک سرمایہ کاری میں پاکستان کے دشمن ملک کے ایک بہت بڑے کاروباری گروپ(جندال)کو بھی شامل کررکھا ہے۔ یہ معلوم کرنا اگرچہ مشکل ہے کہ میاں صاحب کے مالی مفادات کتنے بڑے پیمانے پر جندال کے ساتھ منسلک ہیں لیکن ان کی صاحبزادی مریم صاحبہ کا یہ ارشاد معنی خیز ہے کہ ” وہ ابو کے دوست ہیں۔“ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ دونوں بچپن میں اکٹھے گُلی ڈنڈا کھیلا کرتے تھے ۔۔۔!
میں یہاں اغواءبرائے تاوان کی مثال دوں گا۔ آپ کا کوئی بچہ اغوا کرلیا جائے اور اغواءکار آپ سے تاوان کا مطالبہ کریں تو کیا آپ کوئی خطرہ مول لینا پسندفرمائیں گے ۔
میاں صاحب نے بھی جو اتنے سارے مہینے کلبھوشن یادیو کا نام تک اپنی زبان پر لانے کی جسارت نہیں کی اس کی وجہ کچھ ایسی ہی ہے۔
میاں صاحب اپنا ” بزنس“ خطرے میں کیوں ڈالیں؟
یقینی طور پر وہ اپنے آپ کو سیکورٹی رِسک نہیں سمجھتے ہوں گے مگر یہ فیصلہ تو اس ملک کے عوام اور فوج نے کرنا ہے کہ کیا اُن کا مستقبل ایک ایسے وزیراعظم کے ہاتھوں میں محفوظ ہے جس کے تمام تر فیصلے اس کے مالی مفادات کے تابع ہوں ؟

Scroll To Top