ایران میں صدارتی انتخاب کے لیے ووٹنگ

حسن روحانی اور قدامت پرست ابراہیم رئیسی کے درمیان کانٹے کا مقابلہ جاری ہے جس کا فیصلہ اگلے 24 گھنٹوں میں متوقع ہے۔ (فوٹو: فائل)

تہران: ایران میں صدارتی انتخاب کےلیے ووٹنگ کا عمل جاری ہے اور پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹروں کی لمبی قطاریں موجود ہیں۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ووٹنگ مقامی وقت کے مطابق صبح 8 بجے شروع ہوئی اور شام 6 بجے تک بلاتعطل جاری رہے گی۔ ایران کی 8 کروڑ سے زیادہ آبادی میں ووٹروں کی تعداد 5 کروڑ 60 لاکھ کے قریب ہے۔ پولنگ کا وقت مکمل ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی شروع ہوگی اور توقع ہے کہ 24 گھنٹے میں ایران کے آئندہ صدر کا حتمی فیصلہ ہوجائے گا۔ پولنگ کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کےلیے ایرانی صدارتی انتخاب میں تقریباً 350,000 سیکیوریٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے علی الصبح ووٹ ڈالنے کے بعد عوام سے کہا کہ اس اہم انتخاب میں وہ اپنا حقِ رائے دہی ضرور استعمال کریں کیونکہ ملک کی قسمت کا دارومدار عام لوگوں پر ہے۔

صدارت کےلیے روشن خیال موجودہ صدر حسن روحانی اور قدامت پرست ابراہیم رئیسی کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ حسن روحانی اور ابراہیم رئیسی نے روایتی طور پر ایک دوسرے کے خلاف الزامات عائد کیے ہیں۔ رئیسی کا کہنا ہے کہ صدر حسن روحانی کا نام نہاد ترقیاتی ایجنڈا اور ان کی روشن خیالی نے ایرانی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے جبکہ دوسری جانب روحانی نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ اگر ابراہیم رئیسی اگلے صدر منتخب ہوئے تو وہ ایران کو دوبارہ سے تاریکی اور پسماندگی کی دلدل میں دھکیل دیں گے۔

واضح رہے کہ ایران کی 8 کروڑ آبادی میں ایک تہائی سے زیادہ افراد 30 سال سے کم عمر کے ہیں جو اصلاحات کے حق میں ہیں جبکہ خواتین ایرانی ووٹروں کی تعداد 50 فیصد سے زیادہ ہے۔

Scroll To Top