عالمی عدالت انصاف فیصلہ، نواز۔مودی فکسڈمیچ کا نتیجہ ہے، عمران خان

  • پوری قوم کی نظریں پانامہ جے آئی ٹی پر ہیں ، خدشات دور بھی ہو سکتے ہیں ،بڑ ھ بھی سکتے ہیں،انٹرویو

عمران خانلاہور( این این آئی)پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ پوری قوم کی نظریں جے آئی ٹی پر ہیں ، اس پر قوم کے خدشات دور بھی ہو سکتے ہیں اور بڑ ھ بھی سکتے ہیں ، بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی پاکستان کے خلاف کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا جبکہ ہمارے وزیر اعظم نے اقوام متحدہ میں کلبھوشن یادو پر ایک لفظ بھی نہیں بولا۔ نجی ٹی وی کو انٹر ویو میں عمران خان نے کہا کہ کلبھوشن یادو کا معاملہ انتہائی سنجیدہ تھا لیکن حکمت عملی سے لگ رہا تھاکہ عالمی عدالت سے ایسا ہی فیصلہ آئے گا۔ کلبھوشن یادو پاکستان میں وہی کچھ کر رہا تھا جو اسرائیل عرب ممالک میں کر رہا ہے ۔ اس نے پاکستان کو تقسیم کرنے کی سازش کے لئے دہشتگردی کو بطور ہتھیار استعمال کیا ۔کلبھوشن یادو جس پر اتنے سنجیدہ الزامات اور انکے ثبوت بھی موجود ہیں پاکستان کے چیف ایگزیکٹو نے ایک لفظ بھی نہیں بولا ۔ وزیر اعظم نواز شریف نے اقوام متحدہ میں اس حوالے سے کوئی بات نہیں کی جبکہ نریندر مودی پاکستان کے خلاف کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا ۔ وزیر اعظم نواز شریف کو ملک سے زیادہ اپنے کاروبار ی مفادات عزیز ہیں۔ کہا گیا کہ جندال کی ملاقات بیک ڈور ڈپلومیسی تھی لیکن کیا حالات ٹھیک ہو گئے ہیں۔؟انہوںنے کہا کہ وزیر اعظم نواز شریف بھاگے بھاگے نریندر مودی کی تقریب حلف برداری میں گئے اور پھر وہاں حریت رہنماﺅں سے بھی نہیں ملے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے خارجہ معاملات کے جو حالات آج ہیں اس سے پہلے کبھی نہیں تھے ۔ بھارت سے تعلقات کی تو بات نہیں کی جا سکتی لیکن افغانستان اور ایران سے حالات بھی سب کے سامنے ہیں۔ ملک کو کرپشن کر کے اندر سے کھوکھلا کیا جارہا ہے ، ملک سے دس ارب ڈالر کی منی لانڈرنگ کر کے پیسہ باہر لی جایا گیا ۔ اگر ہم اندرونی طو رپر مضبوط ہوں گے تو ہماری خارجہ پالیسی بھی مضبوط ہو گی ۔ انہوںنے جے آئی ٹی کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ اخلاقی طور پر وزیر اعظم نواز شریف کو تحقیقات میںپیش ہونے کے لئے مستعفی ہو جانا چاہیے تھا ۔ لیکن اب جے آئی ٹی 22مئی کو اپنی رپورٹ سپریم کورٹ کے سامنے پیش کرے گی او رپوری قوم دیکھے گی کیا پراگریس ہے اور قوم کے جو خدشات ہیں وہ دور بھی ہو سکتے ہیں اور بڑھ بھی سکتے ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ شریف خاندان نے اپنی منی ٹریل میںقطری خط پیش کیا ہے جسے کسی نے نہیں مانا ۔ دو ججز نے فیصلہ دیدیا ہے تین ججز میں سے مزید ایک نے فیصلہ دینا ہے اور یہ نا اہل ہو جائیں گے ۔ انہوںنے کہا کہ وزیر اعظم نواز شریف کرپشن کے گاڈ فادر ہیں یہ نہ صر ف کرپٹ ہیں بلکہ انہوں نے پورے نظام کو کرپشن میں لپیٹ دیا ہے ۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ فاٹا کے خیبر پختوانخواہ میں ضم ہونے کی راہ میں محمود خان اچکزئی اور مولانا فضل الرحمن سب سے بڑی رکاوٹ ہیں اور یہ فاٹا کے عوام پر ظلم کر رہے ہیں ۔ انہوںنے اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کے ذریعے حکومت کو ٹف ٹائم دینے کے سوال کے جواب میں کہا کہ اسمبلی میں ہم سب اکٹھے ہیں ۔ جب کچھ نہیں ہوا تو ہم سڑکوں پر نکلے تو ہمیں سولو فلائٹ کرنے کے طعنے دئیے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ اب پوری قوم جے آئی ٹی کی طرف دیکھ رہی ہے ۔ 22مئی کو اندازہ ہو جائے گا اور پھر شاید اتحاد کی ضرورت نہ رہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جندال کی پاکستان آمد اور وزیر اعظم نواز شریف سے مری میں ملاقات بدستور ایک سوالیہ نشان ہے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ بھی نواز شریف مودی کے درمیان ایک فکسڈ میچ تھا ۔

Scroll To Top